Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / معطل آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ برطرف

معطل آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ برطرف

فرضی الزامات اور بوگس تحقیقات کے ذریعہ کی گئی کارروائی، بھٹ کا ردعمل

احمدآباد ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) معطل آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ کو جنہوں نے اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کو 2002ء گجرات فسادات کے سلسلہ میں ماخوذ کیا تھا، آج ’’بلااجازت غیرحاضری‘‘ کی بنیاد پر خدمات سے برطرف کردیا گیا ہے۔ سنجیو بھٹ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بالکلیہ فرضی الزامات پر کی گئی ’’بوگس تحقیقات‘‘ کے نتیجہ میں ان کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے۔ سنجیو بھٹ نے کہا کہ انہیں خدمات سے برطرف کئے جانے کی اطلاع درست ہے اور ایسی ہی توقع تھی۔ حکومت بالکلیہ فرضی تحقیقات کررہی تھی اور آج انہیں وزارت داخلہ سے برطرفی کا مکتوب موصول ہوا ہے۔ گجرات کے چیف سکریٹری جی آر الوریہ نے اس کی توثیق کی اور کہا کہ سنجیو بھٹ کو خدمات سے برطرف کردیا گیا ہے۔

سنجیو بھٹ 2011ء سے معطل ہیں اور انہیں 2002ء گجرات فسادات کے سلسلہ میں مودی حکومت پر تنقیدوں کی بناء معطل کیا گیا تھا۔ ان پر کسی اجازت کے بغیر ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے اور سرکاری گاڑیوں کے بیجا استعمال کا الزام ہے۔ اس وقت انہیں جناگڑھ میں تعینات کیا گیا تھا۔ 1988ء بیاچ کے آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 27 فبروری 2002ء کوگاندھی نگر میں چیف منسٹر مودی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں انہوں نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں چیف منسٹر نے سرکردہ پولیس عہدیداروں کو یہ ہدایت دی کہ وہ ہندوؤں کو اپنا غصہ ظاہر کرنے کاموقع دیں۔ اس کے بعد ہی گودھرا میں ٹرین آتشزنی واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم ان کے دعوے کو سپریم کورٹ کی جانب سے تقرر کردہ اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم نے مسترد کردیا ہے۔ سنجیو بھٹ نے کہا کہ ’’بوگس تحقیقات کی بنیاد پر انہیں برطرف کیا گیا ہے۔ 2002ء فسادات کی تحقیقات کے سلسلہ میں ایس آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کیلئے جب وہ احمدآباد آئے تو اسے ’’غیرمجاز غیرحاضری‘‘ تصور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایس عہدیدار کی حیثیت سے گذشتہ 27 سال انہوں نے ہر لمحہ کا لطف اٹھایا۔ حکومت نے آج انتہائی غلط الزامات پر یکطرفہ اور بوگس تحقیقات کرتے ہوئے انہیں برطرف کرنے کے احکام جاری کئے ہیں۔

سنجیو بھٹ نے کہا کہ بنیادی حقیقت یہ ہیکہ اگر حکومت کو میری خدمات کی ضرورت نہیں ہے تو پھر ایسا ہی ہونے دیجئے۔ وہ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ان میں وہی جذبہ برقرار ہے جو اب تک موجود تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ برطرفی کو چیلنج کریں گے، سنجیو بھٹ نے کہا کہ وہ خود کو حکومت پر مسلط کرنا نہیں چاہتے۔ اس فیصلہ کے خلاف بہت کچھ کیا جاسکتا ہے لیکن جب حکومت مجھے نہیں چاہتی تو پھر مجھے بھی یہاں رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں نے ایک جذبہ کے تحت پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ایسا لگتا ہیکہ ملک اور اس حکومت کو میری ضرورت نہیں رہی لہٰذا جو کچھ ہوا ہے اچھا ہوا اور میں خود کو حکومت پر مسلط نہیں کرسکتا۔ آئی پی ایس عہدیدار کو حال ہی میں اس وقت ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب گجرات حکومت نے ایک ویڈیو کے سلسلہ میں جس میں انہیں ایک خاتون کے ساتھ دکھایا گیا، نوٹس وجہ نمائی جاری کی تھی۔ سنجیو بھٹ نے اس ویڈیو میں موجود شخص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کوئی اور ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT