Thursday , April 19 2018
Home / شہر کی خبریں / معظم جاہی مارکٹ ، آصف جاہی دور کی گھڑیاں 6 برس سے بند

معظم جاہی مارکٹ ، آصف جاہی دور کی گھڑیاں 6 برس سے بند

حکام کی لاپرواہی کا جیتا جاگتا ثبوت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کی سڑکوں ، پلوں ، چوراہوں کو حالیہ عرصہ میں خوبصورت بنانے کے متعلق اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن شہر کی خوبصورت اور قدیم ترین تاریخی عمارت معظم جاہی مارکٹ کے اطراف واکناف اور اس کی تاریخی گھڑیوں کی درستگی اور اسے بدلنے کی طرف حکومت کوشش کرنا بھی گوارا نہیں کررہی ہے ۔ نظام آصف جاہی دور کی یہ گھڑیاں جو تقریبا 6 سال سے غیر کارکرد اور تباہ شدہ حالت میں ہے جو ہر دیکھنے والے شہریوں اور بیرونی سیاحوں کو اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ ہے کوئی ہمیں درست کرے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور آثار قدیمہ کے محکمہ کو ان گھڑیوں کی درستگی کی طرف وقت دینے فرصت ہی نہیں ہے ۔ اب وقت آچکا ہے کہ اس تاریخی معظم جاہی مارکٹ کی گھڑیوں کے ساتھ معظم جاہی مارکٹ کے در و دیوار کی مرمت کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے دور اقتدار یعنی 1935 میں معظم جاہی مارکٹ کی تعمیر کی گئی ۔ حضور نظام نے اس خوبصورت مارکٹ کو اپنے دوسرے فرزند معظم جاہ کے نام سے موسوم کیا اور حضور نظام نے ان بنیادوں پر قیمتی گھڑیاں نصب کر کے اس وقت بتادیا تھا کہ ڈسپلن اور وقت کی پابندی چاہے بازار میں ہو ، دفتر میں الغرض زندگی کے کسی بھی وقت ہو جانی چاہئے ۔ معظم جاہی مارکٹ کی ان گھڑیوں کی درستگی اور اس کی عظمت رفتہ سے متعلق وہاں دکانات کے مالکین سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے سیاست کو بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ اور حکومت کے دوسرے محکمہ جات کے عہدیدار جب اس عمارت کی درستگی کے لیے آیا کرتے تو انہیں ان گھڑیوں کی درستگی کے لیے باور کیا جاتا ہے لیکن انہوں نے اب تک اس سلسلہ میں کوئی موثر کام انجام نہیں دیا جس کی وجہ سے یہ آصفجاہی دور کی گھڑیاں شہریوں کو ہی نہیں بیرونی ریاستوں اور ملکوں کے باشندوں و سیاحوں کے سامنے حکومت تلنگانہ اور محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی اور کارکردگی کو عیاں کررہے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں اپنی توجہ کو مبذول کرے تاکہ مارکٹ کی یہ قدیم گھڑیاں بحال ہو کر کارکرد ہوسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT