Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / معقول وجوہات کے بغیر طلاق دینے پر بائیکاٹ

معقول وجوہات کے بغیر طلاق دینے پر بائیکاٹ

مولانا محمود مدنی کی تجویز ، اسلام میں خواتین کو مؤثر حقوق اور تحفظ

اجمیر۔ 12نومبر(سیاست ڈاٹ کام) آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کا33  اجلاس عام ملی اتحاد اور قومی یکتا کے نعرے کی گونج کے ساتھ شروع ہو ا۔اجمیرشریف کے کائیڈ وشرام استھلی میں پہلی نشست صبح 9 بجے سے مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت پرچم کشائی اور جمعیۃ علماء ہند کے ترانے کے ساتھ جیسے ہی شروع ہوئی، ہزاروں کے مجمع نے ملی اتحاد اور مسلکوں کے نام پر پیدا کردہ دوریوں کو ختم کرنے کی اپیل کا نعروں سے استقبال کیا ۔ملک بھر کے دس ہزار سے زائد علماء اور جمعیۃ علماء ہند کے اراکین منتظمہ کی موجود گی میں اپنے خطبہ صدارت میں صدر جمعیۃ علماء ہند نے علماء سے تصوف کی چاروں نسبتوں سے جڑنے کی بھی تلقین کی اور کہا کہ ہمارے اکابر ؒ سلسلہ عالیہ چشتیہ سے وابستہ رہے ہیں؛ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی سابق صدر جمعیۃ علماء ہندٗ اور اُن کے مشائخ عظام، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ اورحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سلسلۂ چشتیہ کے اُن بلند مرتبہ بزرگوں میں سے ہیں، جن سے ایک عالم کو ہدایت ملی اور بے شمار لوگ وصول الیٰ اللہ کے دولت سے مالا مال ہوئے۔

اسی طرح فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہٗ بھی سلسلۂ چشتیہ کے ایک بلند پایہ شیخ کی حیثیت سے مشہور عالم ہوئے اور اُن کا فیض بھی بحمدہ تعالیٰ ملکوں ملکوں پھیلا ہوا ہے۔اپنی تفصیلی سکریٹری رپورٹ میں مولانا مدنی نے طلاق ثلثہ اور یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں مرکزی سرکار کی نیتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کے تحفظ اور آزادی کا نعرہ منافقہ دے کراحکام اسلام کی باریکیوں کو سمجھے بغیر اس کا استہزاء و مذاق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بات میں پورے اعتماد سے کہہ رہاہوں کہ ہماری شریعت اور ہمارے دین نے خواتین کو جتنے حقوق اور تحفظ فراہم کیے ہیں وہ کسی پرسنل لاء میں حاصل نہیں ہیں۔ تاہم مولانا مدنی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کے حقوق کے سلسلے میں ہماری جانب سے کوتاہی ہوئی ہے

لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم اسلام کو چھوڑ دیں ،ہاں ہم اپنے اندر اصلاح کے لیے تیار ہیں اور ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے۔دوسروں کے ذریعہ تنقیص کی کوشش نے ہمارے لیے بیداری کا ایک موقع فراہم کیا ہے ، ہم یہ چاہیں گے کہ علماء اور دانشوران قوم وملت خواتین کے حقوق کے سلسلے میں اپنے اپنے علاقوں میں بیداری پیدا کریں اور بلا معقول سبب تین طلاق دینے والوں کا سماجی طور سے بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔مولانا نے کہاکہ اجتماعیت کا مفہو م یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف رائے نہ ہو ، بلکہ اجتماعیت کا مطلب ہے کہ مسلمان اختلاف رائے رکھتے ہوئے بھی باہم متحد رہیں اور اختلاف ر ائے کو نفسانی اسباب یا غلو کے زیر اثر افتراق کا ذریعہ نہ بننے دیں، انھوں نے اس سلسلے میں دو تجاویز بھی علماء کے سامنے رکھی کہ اپنی بات کو بالکلیہ صحیح ماننا اور دوسرے کی بات کی مخالفت کے لیے گروہ بندی کرنا اور حد سے گزر جانا یہ منفی اسباب ہیں ، ان کو ختم کرکے مسلکی دوریو ںکو پاٹا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT