Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / معمارِ دستور کی برسی کے دن بابری مسجد کا انہدام شرمناک

معمارِ دستور کی برسی کے دن بابری مسجد کا انہدام شرمناک

مودی حکومت میں دلت اور اقلیتوں دشمن ذہنیت شامل، امبیڈکر کی برسی پر مایاوتی کا بیان
نئی دہلی۔ 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آج این ڈی اے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس میں دلت دشمن ذہنیت شامل ہے کیونکہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والوں کی طرف سے دلت برداری کے خلاف کئے جانے والے ریمارکس کو وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے فرقہ پرست قوتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں (فرقہ پرستوں) نے دستور کے معمار بی آر امبیڈکر کی برسی کے دن 6 ڈسمبر 1992ء کو بابری مسجد منہدم کیا تھا۔ مایاوتی نے کہا کہ ’’ماضی کی کانگریس حکومت کی طرح موجودہ بی جے پی حکومت نے بھی بابا صاحب امبیڈکر کے پیروؤں کے لئے کچھ نہیں کیا اور صرف کھوکھلے بیانات دیئے جارہے ہیں‘‘۔ امبیڈکر برسی کے موقع پر جاری کردہ بیان میں مایاوتی نے مزید کہا کہ امبیڈکر کی برسی کے موقع پر ایک طرف پارلیمنٹ میں دستور کی پابندی کا عہد کیا جارہا ہے تو دوسری طرف مرکزی وزراء، گورنرس اور نریندر مودی حکومت کے دیگر ذمہ داران ، اقلیتوں اور دلتوں کی توہین کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کے قول و فعل میں زبردست تضاد ہے‘‘۔ مایاوتی کے ان ریمارکس کو دراصل 2017ء کے اُترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل دلت۔ مسلم ووٹوں کو راغب کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت ایسی پہلی سرکار ہے جہاں خود مرکزی وزراء بھی آپے سے باہر ہوتے نظر آرہے ہیں جو دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف ناشائستہ و غیرذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں۔ بی ایس پی وہ پہلی جماعت ہے جس نے مرکزی وزیر وی کے سنگھ کی جانب سے ایک طبقہ کا مبینہ طورپر ’’کتے‘‘ سے تقابل کئے جانے پر راجیہ سبھا میں سخت تنقید کی۔ مایاوتی نے کہا کہ وی کے سنگھ کے تازہ ترین ریمارکس، شائستگی کی تمام حدود سے تجاوز کرچکے ہیں لیکن افسوس کہ دستوری ادارے کے کسی سربراہ نے اس کا نوٹ لیتے ہوئے ان کیخلاف کارروائی نہیں کی۔ مایاوتی نے کہا کہ مودی حکومت کی ذہنیت تنگ نظر فرقہ پرستی اور ذات پات کے امتیاز پر مبنی ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد کئی بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں دلتوں اور مسلمانوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT