Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / معمر خلیجی باشندوں سے غریب لڑکیوں کی شادیاں حقیقی یا فرضی؟

معمر خلیجی باشندوں سے غریب لڑکیوں کی شادیاں حقیقی یا فرضی؟

سلگتے مسائل … قوم کیلئے لمحہ فکر…

 

محمدنعیم وجاہت
معاشرے کی برائیوں کے خاتمہ کیلئے یہ ضروری ہے کہ سماج کے ہر طبقہ میں اسلامی شعور اُجاگر کیا جائے۔ اللہ رب العزت نے انسانیت کو شرمسار ہونے سے بچانے کیلئے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ تعلیمات پہونچائی لیکن جن کے کندھوں پر ان تعلیمات کو اپنی نسلوں تک پہونچانے کی ذمہ داری سونپی گئی وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں شاید ناکام ہورہے ہیں۔ دین اسلام نے علم کو وہ افضل مقام عطا کیا کہ کلام مجید کی پہلی وحی کا آغاز اقراء سے ہوا۔ علم کا حاصل کرنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ حاصل کئے گئے علوم پر عمل کرنا ہی دینی تعلیمات کا جز ہے۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے قبل لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا اور صنف نازک کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنا مردوں نے اپنی مردانگی تصور کرنا شروع کردیا تھا۔ خواتین کو سامان عیاشی اور خادمہ کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔ انھیں مساوات کے متعلق سوچنے کا بھی اختیار حاصل نہیں تھا لیکن جب دین اسلام کی تعلیمات عام ہونے لگی تو خواتین کو بھی مساوی حقوق کے ساتھ ساتھ عزت و عفت بخشی جانے لگی بلکہ دین اسلام نے خواتین کو وہ مقام عطا کیا جو کسی اور مذہب یا عقیدے کے ماننے والوں میں نہیں پایا جاتا۔ تعلیمات محمدی ﷺ نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت قرار دی تو بیوی کو عصمت و عفت کا گہوارہ اس طرح بیٹی کو گھر کی عظمت و رحمت کا بھی درجہ دیا ہے اور انہی تعلیمات نے ہی زمانے جاہلیت کی تاریکیوں میں مساوات کی روشنی بکھیری اور انسانیت آج بھی محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم کی احسان مند ہے کہ انھوں نے ان تعلیمات کے ذریعہ صنف نازک کو نہ صرف زندہ درگور ہونے سے بچایا بلکہ اُسے معاشرے میں مساوی مقام فراہم کیا۔

1437 سال میں ایسا کیا ہوگیا کہ یہ لازوال تعلیمات تو باقی ہیں لیکن رسول عربی کے ماننے والوں کے ذہن زوال کی پستیوں میں ڈوب چکے ہیں اور بعثت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے قبل جن ننھی کلیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا اب انھیں چند برسوں کے لئے سنبھالتے ہوئے اپنی عیاشی کا سامان بنایا جانے لگا ہے اور ان پھولوں کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جہلائے عرب زمانے کی جو جاہلیت اور ذہنی پسماندگی تھی اُس سے بدتر صورتحال آج کے عصری و ٹیکنالوجی کے دور میں خود ساختہ تعلیم یافتہ معاشرے میں خلیجی بوڑھوں کی ہوچکی ہے۔ تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کبھی اپنی خوشحالی تہذیب و تمدن، پاک و صاف ماحول محبت و مروت اور سرسبز و شادابی کیلئے شہرت رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو اقطاع عالم کے پریشان اور غریب مسلمانوں کی مدد کا ذریعہ بننے کا اعزاز عطا کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی عالم اسلام میں شہر حیدرآباد اور اس کے مکینوں کی دریادلی کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ نظروں کو چکا چوند کرنے والی موتیوں کے شہر کو شاید نظر لگ گئی تبھی تو پولیس ایکشن کا واقعہ پیش آیا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں کے باغات میں مالی یا مالن کنولی کلیوں کو توڑنے سے یہ سوچ کر گریز کیا کرتے تھے کہ کہیں ان کلیوں پر ہونے والے ظلم کا گناہ ان کے سر نا آجائے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑھتا ہے کہ غربت و افلاس اور بھوک نے غریب و لاچار بے بس مانباپ کو بازار حسن میں اپنی لڑکیاں فروخت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کئی دہوں سے ہمارے شہر حیدرآباد میں عرب ممالک کے معمر بوڑھے شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادیاں ہورہی ہیں ماضی میں جو شادیاں ہوتی تھی اس میں کسی قسم کے شک و شبہات کی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ چند بدنیت قاضی کے دلال اور حرام و حلال میں فرق نا کرنے والے حریص و لالچی والدین اپنی لڑکیوں کی دو ماہ میں تین تین چار چار شادیاں کرانے لگے ہیں۔ حالانکہ طلاق ہو یا خلع اس کے لئے ایام عدت گزارنا بے حد لازمی ہے۔ لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ہم نے پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ان شادیوں کے بارے میں تحقیقات کی تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لڑکیوں کی عمانی یا دیگر عرب ممالک کے باشندوں سے شادیاں ہورہی ہیں اُن میں 90 فیصد ایسی شادیاں ہیں جو صرف اور صرف موٹی رقم کے لئے کی جارہی ہیں۔ ان کا مقصد صرف عرب باشندوں سے رقم اینٹنا ہی ہے۔ اور عرب باشندے بھی غریب والدین کی غربت اور مفلسی کا بھرپور استحصال کررہے ہیں۔ یہ کام قاضیوں، دلالوں کی گٹھ جوڑ سے انجام دیا جارہا ہے۔

ان شادیوں کو فرضی اور جعلی شادیاں اس لئے بھی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ 15 دن کے لئے بھی نکاح کئے جارہے ہیں۔ سال 2015 ء میں ایک 72 سالہ عرب شہری نے ایک لاکھ روپئے کے عوض ایک کمسن لڑکی سے شادی کی تھی۔ اُس شادی کی تحقیق پر معلوم ہوا ہے کہ صرف 15 یوم کی معاملت طے پائی تھی۔ ایک ایسا بھی شرمناک واقعہ پیش آیا جب صرف اندرون 2 ماہ ایک 14 سالہ لڑکی کی چار عرب شہریوں سے شادیاں کی گئیں۔ دراصل لڑکی کے باپ نے یہ دیکھتے ہوئے کہ ہفتے دو ہفتے میں اُسے لاکھوں روپئے حاصل ہورہے ہیں اپنی بیٹی کو بیرونی ممالک کے باشندوں کی حوس کا شکار بنادیا۔ اب آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ 14 سالہ لڑکی کیسے اپنے لالچی باپ سے بغاوت کرسکتی ہے۔ تحقیقات میں والدین کی جانب سے اپنی غربت، لاچاری اور اُس سے چھوٹی بہنوں کی دیکھ بھال اور شادیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھی بلیک میل کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن کا حوالہ دینے اور زندگی سنور جانے کے دلائل پیش کرنے کے بعد کئی کمسن لڑکیوں نے لالچ والدین کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے اپنے ارکان خاندان کی خوشحالی کیلئے اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا اور بے جوڑ و مختصر مدتی شادیوں کیلئے اپنی رضامندی ظاہر کردی۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی شادیاں جائز ہوسکتی ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ تو جسم فروشی کا ایک نیا انداز لگتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ عرب باشندوں سے شادیوں کے موقع پر لڑکیوں کے سادہ کاغذ پر دستخطیں بھی لی جاتی ہیں۔ غریب و ناخواندہ لڑکیوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ جن سادہ کاغذات پر انھوں نے دستخط کی یا انگوٹھا کا نشان لگایا وہ طلاق یا خلع کے کاغذات تھے۔ نکاح کے دن ہی کاغذات طلاق پر دستخط کا مطلب مقدس رشتہ کا خون کرنے کے برابر ہے۔ یہ شادی نہیں بلکہ جنسی لذت کے حصول کی ایک رسم ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایسی شادیوں کے واقعات میں جو دلال ہوتے ہیں ان میں خواتین کی بھی اکثریت ہے۔ جو خود صنف نازک ہونے کے باوجود اپنی نواسیوں، پوتریوں اور بیٹیوں کے عمر کی لڑکیوں کی عصمت اور عزت نفس کا خیال کرے بغیر خلیجی باشندوں سے غریب لڑکیوں کی شادیاں کرانے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ اس طرح کے دلائل ایک طرح سے جسم فروشی کے گندے نالے میں نمو پانے والے مہلک کیڑے کے مماثل ہیں۔ ان شادیوں کو کمسن لڑکیوں کی ٹریفکنگ بھی کہا جاسکتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 1990 ء میں بھی ایک حیدرآبادی لڑکی کی ایسی ہی شادی ہوئی تھی جسے ایر ہوسٹس امریتا اہلوالیہ نے بچایا تھا اُس وقت سے ہی شہر حیدرآباد کمسن غریب لڑکیوں کی معمر خلیجی باشندوں سے شادی رچانے میں سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے لالچی والدین اپنی غلطیوں کو مجبوری کا نام دے رہے ہیں۔ دلالوں، قاضیوں کی وجہ سے حیدرآباد کی شبیہہ متاثر ہورہی ہے۔ ویسے بھی میڈیا مسلمانوں کے معمولی واقعات کو بھی منفی شکل دے کر پیش کرتا ہے۔ ہماری تحقیقات میں بھی انکشاف ہوا ہے کہ دلالوں اور قاضیوں نے غریب کمسن لڑکیوں کی شادیوں کو کئی ایک زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ فرضی شادی کرانے والے دلالوں اور قاضیوں کا نیٹ ورک ملک اور بیرونی ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ سنڈیکٹ بڑی ہوشیاری سے کام کرتا ہے۔ میرج سرٹیفکٹ بنانے اور عرب ممالک کو روانہ کرنے کے لئے لڑکیوں کے ویزا نکالنے میں بھی سرگرم رول ادا کرتا ہے اور اس کا نیٹ ورک کافی طاقتور بھی ہے۔ اس میں سب ملے ہوئے بھی ہیں۔ اور وہ شادی رچانے والے عرب باشندوں کی مالی حیثیت کے اعتبار سے اپنے نیٹ ورک چلاتے ہیں پولیس کمشنر حیدرآباد مہندر ریڈی نے بھی اس کا انکشاف کیا ہے۔ مثال کے طور پر آٹو والا، ایمبیسڈر کار والا، انوا والا، آٹو والا کا مطلب غریب عرب باشندہ اُسے شادی کے بعد پرانے شہر کے کسی لاج میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایمبیسڈر کار والا اُسے اچھے لاج میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ انوا کار والا کا مطلب معاشی طور پر مستحکم عرب باشندہ جس کو فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے چند دن قبل پولیس نے عرب باشندوں کے شادی ریاکٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے 20 افراد بشمول عرب باشندے، دلال اور قاضیوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ جو ملک بھر میں دیکھتے ہی دیکھتے موضوع بحث بن گیا۔ اخبارات کی سرخیاں اور ٹیلی ویژن چیانلس کے مباحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔ چند ماہ قبل حیدرآباد میں ایسا ہی ایک اور ریاکٹ منظر عام آیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات میں پتہ چلا کہ وہ عرب باشندے دولتمند نہیں بلکہ فقیر ہیں۔ حکومت تلنگانہ عرب باشندوں کی کمسن لڑکیوں سے عیاشی کو روکنے کے لئے قانون سازی کررہی ہے۔ مسودہ کو تقریباً قطعیت دے دی گئی ہے۔ اور اس کو محکمہ قانون سے بھی رجوع کردیا گیا ہے کسی بھی وقت آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نازک سلگتے ہوئے مسئلہ پر علمائے دین سیاسی قائدین، رضاکارانہ تنظیموں کے رہنماؤں نے خاموشی کیوں اختیار کی جبکہ ایسے واقعات وقفہ وقفہ سے اخبارات کی زینت بنتے رہے لیکن کسی نے بھی آگے بڑھ کر اس کو سمجھنے پرکھنے اور کنٹرول کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس پر گفتگو کرنے کی کوشش کی۔ اسی خاموشی نے تین طلاق کے مسئلہ کو سپریم کورٹ تک پہونچادیا۔ علماء مشائخین اور سیاسی قائدین نے گھر کے مسئلہ کو گھر میں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے حکومت قانون سازی کی تیاری میں مصروف ہے۔

TOPPOPULARRECENT