Friday , January 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / معیاری بولرس کی موجودگی سے ٹیم کا انتخاب ایک چیلنج

معیاری بولرس کی موجودگی سے ٹیم کا انتخاب ایک چیلنج

بنگلورو 5 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) رائل چیلنجرس بنگلور کے بولنگ کوچ ایلن ڈونالڈ کا کہنا ہے کہ ٹیم میں مچل اسٹارک ‘ آدم ملنے ‘ ورون آرون اور سین اباٹ جیسے بولرس کی موجودگی سے آٹھویں آئی پی ایل ٹورنمنٹ کیلئے ٹیم کا متوازن انتخاب ایک چیلنج ہوسکتا ہے ۔ ڈونالڈ نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ در اصل درست امتزاج کے انتخاب کا ہے ۔ اسٹارک اور ملنے نے

بنگلورو 5 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) رائل چیلنجرس بنگلور کے بولنگ کوچ ایلن ڈونالڈ کا کہنا ہے کہ ٹیم میں مچل اسٹارک ‘ آدم ملنے ‘ ورون آرون اور سین اباٹ جیسے بولرس کی موجودگی سے آٹھویں آئی پی ایل ٹورنمنٹ کیلئے ٹیم کا متوازن انتخاب ایک چیلنج ہوسکتا ہے ۔ ڈونالڈ نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ در اصل درست امتزاج کے انتخاب کا ہے ۔ اسٹارک اور ملنے نے ورلڈ کپ میں بہترین مظاہرہ کیا ہے ۔ سین اباٹ اور ڈیوڈ وئیز بھی بولنگ کو اچھا توازن فراہم کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ٹیم میں اتنی تیز رفتار بولنگ کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں۔ ڈونالڈ نے کہا کہ ٹیم میں تجربہ کار ہندوستانی کھلاڑی بھی موجود ہیں جو زخمی اسٹارک اور ملنے کے غیاب میں ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔ اسٹارک کے ٹخنے میں اور ملنے کی ایڑھی میں زخم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اسٹارک تین ہفتوں کیلئے میدان سے باہر ہیں تاہم نوجوان ہندوستانی امکانات بہترین ہیں۔ ورون آرون نے آسٹریلیا کا اچھا دورہ کیا تھا اور سندیپ وارئیر بھی اچھی بولنگ کرسکتے ہیں۔ ڈونالڈ کا کہنا تھا کہ اسٹارک اور ملنے کی عدم موجودگی سے دوسرے بولرس کو اپنی جگہ بنانے کا موقع مل سکتا ہے ۔ اسٹارک بہترین فارم میں تھے اور ہم چاہتے تھے کہ کولکتہ نائیٹ رائیڈرس کے خلاف میچ میں وہ ہمارے لئے دستیاب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں سندیپ کی بولنگ کا مشاہدہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اسپنر یزویندر چہل نے بھی اچھی بولنگ کی ہے ۔

اشوک ڈنڈا اپنے انداز میں بولنگ کرتے ہیں ۔انہوں نے ان تمام کھلاڑیوں کے فرسٹ کلاس کیرئیر کا مشاہدہ کیا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ یہ سب با صلاحیت ہیں۔ ورون آرون کے جارحانہ بولنگ انداز کی مدافعت کرتے ہوئے ڈونالڈ نے کہا کہ جارحانہ صلاحیتیں رکھنا اہمیت کا حامل ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے آسٹریلیا کے بریٹ لی اور مچل جانسن کی مثال پیش کی ۔ اس انداز سے ٹیم کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی ۔ انہوں نے کہا کہ بریٹ لی اور جانسن اکثر مہینگے ثابت ہوسکتے تھے تاہم یہ ان کا جارحانہ انداز ہی ہے جو اپنا اثر بھی رکھتا ہے اور یہ بولرس ہمیشہ وکٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے رن خرچ ہوتے ہیں لیکن اس سے وکٹیں بھی ملتی ہیں۔ ایسے میں اپنا انداز بدلنا درست نہیں ہے ۔ وہ خود بھی پہلے اسی انداز کو اختیار کرچکے تھے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ کھلاڑیوں کے جارحانہ تیور پر روک لگائیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT