Sunday , February 25 2018
Home / Top Stories / معیشت ’عارضی خلل‘ سے بحالی کی سمت گامزن: جیٹلی

معیشت ’عارضی خلل‘ سے بحالی کی سمت گامزن: جیٹلی

بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات سے بتدریج فائدہ ۔ سنگاپور میں سرمایہ کاروں کے اجتماع سے وزیر فینانس کا خطاب
سنگاپور 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی معاشی سست روی ختم ہوگئی اور اب یہ حالیہ اصلاحات کے دوران دیکھی گئی عارضی ابتری سے بحالی کے بعد آگے کی طرف پیشرفت کرنا چاہئے، وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج یہ بات کہی۔ وہ یہاں مورگن اسٹانلی سالانہ کانفرنس میں سرمایہ کاروں سے مخاطب تھے۔ اُنھوں نے بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات پر روشنی ڈالی جو ہندوستان نے شروع کی ہے، اُنھوں نے تسلیم کیاکہ عارضی طور پر انحطاط ضرور آیا جو تنظیمی طور پر تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جو حکومت نے شروع کئے۔ تاہم اب معیشت پوری طرح قابو میں ہے اور ترقی کررہی ہے۔ عالمی معیشت بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ اِس سمٹ کے تحت جیٹلی نے مورگن اسٹانلی کے سینئر انتظامیہ سے ملاقات کی اور سینئر فنڈ منیجرس اور اہم اقتصادی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے اجتماع کو مخاطب بھی کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ مجھے معیشت میں بہتری کس طرح دکھائی دے رہی ہے، یہ بات ہمارے پاس موجود ٹھوس نظام سے معلوم ہوتی ہے۔ ہم نے گزشتہ تین سال میں 7 تا 8 فیصد کی شرح پر ترقی کی ہے۔ لہذا ہمیں آئندہ کم از کم ایک دہے تک اِسی شرح پر ترقی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہندوستانی معیشت کے توسیعی منصوبے کو آگے بڑھایا جاسکے۔

وزیر فینانس نے ہندوستان میں طاقتور بینکنگ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کو بھی یقین دلایا۔ اُنھوں نے کہاکہ آئی ٹی اسکیم کی ترکیب اور اب بڑے پیمانے پر سرمایہ کی مشغولیت سے حالات بہتر ہوجانا چاہئے۔ اِس سے بینکوں کی گنجائش میں بھی بہتری آنے کا امکان ہے اور وہ اپنے فاضل فنڈس کو بطور قرض جاری کرسکیں گے جس سے خاص طور پر چھوٹے اور اوسط درجہ کی صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔ اُنھوں نے وضاحت بھی کی کہ اکثر و بیشتر لیبر سے متعلق مسائل کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاتا ہے لیکن اب صنعتی سرگرمی میں خلل کا منفی ماحول نہیں ہے۔ لیبر قوانین کو یونینوں کے ساتھ مشاورت میں مضبوط بنایا جارہا ہے اور حالیہ عرصہ میں لیبر کی طرف سے کوئی نمایاں مزاحمت نہیں ہوئی۔ چاہے وہ حسس فروخت کرنے کا معاملہ ہو یا خانگیانہ۔ سرمایہ کاروں کی طرف سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جیٹلی نے کہاکہ پبلک سیکٹر یونٹس کو خانگیانے میں ایر انڈیا کافی آگے کے مرحلہ تک پہونچ چکا ہے جبکہ بعض پبلک سیکٹر یونٹس کو جوں کا توں رکھا جائے گا۔ تیل اور برقی کے شعبوں میں بعض سرکاری اداروں کو پی ایس یوز کے طور پر برقرار رکھا جائے گا لیکن ایسے بھی کئی ادارے ہیں جنھیں خانگیایا جائے گا جو نیتی آیوگ کی تیار کردہ فہرست کے مطابق ہوگا۔ جیٹلی جو دو روزہ دورہ سنگاپور پر ہیں، اُنھوں نے سنگاپور کے وزراء اور سرمایہ کاروں کے ساتھ علیحدہ اجلاس بھی منعقد کئے۔

TOPPOPULARRECENT