Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / معیشت کے تین سال … بہت کچھ ٹھیک نہیں!

معیشت کے تین سال … بہت کچھ ٹھیک نہیں!

ڈاکٹر گروپرساد مورتی
آج ہندوستانی معیشت کی صورتحال دِگرگوں ہے۔ مئی 2014ء میں جائزہ حاصل کرنے والی نئی حکومت کو وراثت میں ایسی معیشت ملی جو ’پی پی پی‘ اساس پر دنیا کی تیسری بڑی معاشی طاقت تھی؛ جسے ترقی سے متعلق مخصوص نوعیت کے مسائل جیسے بے روزگاری، ناکافی سرمایہ، افراط ِ زر وغیرہ کا سامنا رہا؛ جس کے بیرونی زرمبادلہ ذخائر کی قدر 304.2 بلین امریکی ڈالر تھی اور ’کرنٹ اکاؤنٹ‘ بیالنس 32,397 ملین ڈالر رہا، ادائیگیوں کے موقف والا مجموعی بیالنس 15,508 ملین ڈالر تھا؛ نیز ہندوستان کے روایتی تاریخی معیارات کے اعتبار سے سود کی کمتر شرحیں لاگو تھیں، پھر بھی عالمی تناظر میں اونچی رہیں اور نسبتاً باکفایت؍ بہتر قدر فراہم کرنے والی ’مَنی پالیسی‘ کے تئیں اقدام کی ضرورت کا اِدراک تھا۔ اس طرح عام تاثر کو دیکھیں تو اُس وقت کی سرکار یعنی کہ ’یو پی اے‘ حکومت سے کوئی زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں۔
مذکورہ بالا پس منظر کے تناظر میں وزیراعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں نئی حکومت کو ان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کچھ نیا طرزعمل ترتیب دینا تھا۔ کئی وعدے کردیئے گئے جیسے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے والی پالیسیاں، نئی جہت کے ساتھ صنعتی ترقی، عملِ معاشی بحالی کی عمومی تجدید اور ایسی شرح ترقی کہ ’’خوشحالی کے دن اُبھر آئیں‘‘ … مختصر یہ کہ ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ ! یہ نعرہ ؍ دعویٰ کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی زمانے میں جولیئس سیزر نے کہا تھا ’Vini Vidi Vici‘ یا قصۂ علی بابا کا مشہور زمانہ فقرہ ’کھل جا سِم سِم ‘ جس سے دولت زیادہ سے زیادہ بڑھانے والے عمل کا دَر کھل جائے گا یا اس معاملے میں درپیش رکاوٹ دور ہوجائے گی، اور ان سب باتوں کے علاوہ پریشان حال عوام کے حق میں دولت کی تقسیم کا عمل تیزتر ہوجائے گا! اس کے نتیجے میں کئی اسکیمات کا اعلان کردیا گیا جیسے ’میک اِن انڈیا‘، ’اسٹارٹ اَپس‘، ’کلین انڈیا‘، ’سب کے ساتھ سب کا وکاس‘، ’اِسکل انڈیا‘۔ یہ اعلانات نے ایسا تاثر پیدا کیا کہ نئی ، تجدیدی، بہتر زندگی کا دَور دورہ رہے گا اور اس ملک کے معاشی مسائل قصۂ پارینہ ہوجائیں گے جسے محض پیشرو حکومت سے مخصوص کلنک قرار دے دیا گیا تھا۔ قارئین کرام! اس سے قطع نظر گزشتہ تین سال کی کارگزاری ، جس کا ان سطور میں جائزہ لیا جارہا ہے، مئی 2014ء سے عمل درآمد کردہ معاشی پالیسیوں کے نتائج کا ثبوت کے مترادف ہے۔
۔ افراط ِ زر قابو میں ہے جیسا کہ 2016ء اور 2017ء میں ترتیب وار 4.97% اور 1.97% کے اوسط افراط زر کے آس پاس والی شرح درج کی گئی۔ تاہم، ہول سیل (تھوک فروشی) کی قیمت والا حالیہ اِشاریہ اگست میں چار ماہ کی اونچی سطح (3.24%) تک پہنچ گیا اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مستقبل کا رجحان یوں ہے کہ ’’افراط زر آر بی آئی کے اوسط مدتی نشانہ 4% کی طرف بڑھنے لگا ہے‘‘۔
۔ کھپت کی سطح بتدریج گراوٹ پذیر ہے۔
۔ بچتوں کی سطح بطور تناسب بمقابل جی ڈی پی (مجموعی دیسی پیداوار) گھٹ رہی ہے۔
۔ سرمایہ مشغول کرنے کا معاملہ بالخصوص خانگی سرمایہ کاری اطمینان بخش نہیں ہے۔
۔ قومی آمدنی یعنی کہ شرح ترقی تازہ ترین سہ ماہی مدت میں زوال پذیر ہوکر گزشتہ پانچ سال میں اقل ترین تناسب تک گھٹ چکی ہے۔
۔ پیداواریت کی سطح وہ قلیل مقدار سے کہیں دور ہے جو معاشی سرگرمی کی برقراری اور روزگار پیدا کرنے کیلئے درکار ہے۔
۔ روزگار کی سطح مایوس کن ہے۔
۔ بیرونی کھاتہ سے پتہ چلتا ہے کہ درآمد پر مبنی کھپت ہورہی ہے جبکہ برآمدات میں متناسب اضافہ نہیں ہورہا ہے۔

مؤثر طلب برائے کھپت
کھپت کی سطحوں میں شعبہ جاتی اساس پر نہیں بلکہ مجموعی طور پر استقلال کے ساتھ اضافہ ہوتے رہنا چاہئے، چاہے رفتار دھیمی کیوں نہ ہو۔ محض بینکوں سے قرض لینے یا آٹوموبائل انڈسٹری میں فروخت کے اعداد و شمار میں بہتری ’کھپت‘ کیلئے مجموعی مؤثر طلب کی معقول کسوٹی نہیں ہوسکتی ہے۔ تاہم، کھپت کی سطح تقریباً 9% سے گھٹ کر ایک سال میں اندرون 7% ہوچکی ہے۔ مزید یہ کہ اقل ترین، بنیادی، سطح یعنی کہ کسان، کامگر اور علم و جانکاری، ہنرمندی، ورکر کے معاملے میں کھپت سرمایہ کاری کیلئے ماحول کو بحال کرنے کی کلید ہے جس کی وجہ کھپت پر منحصر سرمایہ کاری ہے۔ عاجلانہ بہتری اور آبادی کے تمام تر گوشوں کو آمدنی کے قابل بنانا معاشی پالیسیوں کی مساعی ہونا چاہئے، تاکہ تیزتر ترقی حقیقت بن سکے۔ نیز 23 نومبر 2016ء کے بعد سے عوام کے ہاتھوں میں رقومات کی دستیابی پر کاری ضرب لگی ہے۔ ظاہر ہے، نقدی برائے جی ڈی پی تناسب گھٹ جائے گا۔ ہندوستانی معیشت بنیادی طور پر نقدی، غیرمنظم شعبہ پر مبنی ہے۔ درحقیقت، افرادی قوت اپنے معمول کے چھوٹی یا بڑی نوکریوں سے محروم ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں، اُجرت کی سطحیں گھٹ گئیں اور استحصال ہونے لگا … کمتر اُجرت کی پرانی کرنسی میں ادائیگی، نوٹوں کے تناسب ِ تبادلہ میں کمی اور آخر میں مگر حقیر نکتہ نہیں کہ روزگار کی برقراری کے مواقع میں کمی ہوگئی۔ اکٹوبر 2017ء کی آر بی آئی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2017-18ء کی دوسری سہ ماہی مدت میں کسٹمر کا اعتماد و بھروسہ کمزور رہا، مگر تیسرے سہ ماہی مدت کیلئے بزنس کے رجحان کو مثبت بتایا گیا ہے۔ چند ’مرسیڈیز‘ کی اورنگ آباد، کولہاپور یا چنڈی گڑھ میں موقتی فروخت صرف دفعتاً، یگانہ اُچھال ہے۔ یہ تبدیلیاں آبادی کیلئے نتیجہ خیز جاری معاملہ ہونے کی ضرورت ہے جس میں مختلف اقسام کی گاڑیاں سماجی کسوٹی کو بہ اعتبار معیار آگے بڑھائے یعنی وہ اپنے زیراستعمال گاڑی کو بدلنے کے قابل بنیں، ’ماروتی‘ سے ’بی ایم ڈبلیو‘ یا ’مرسیڈیز‘ کی طرف جائیں اور ایک قسم ٹووہیلر (سائیکل، اسکوٹر اور موٹر بائیک) سے دوسری نوعیت کو اپنائیں۔ مستعملہ اشیاء کی مارکیٹ کو بالکلیہ نئی گاڑیوں والی مارکیٹ کے ساتھ پیش پیش اور فعال رہنا پڑے گا۔ نیز اصل سرمایہ میں اضافہ کرنے والا عنصر کو بھی متحرک رکھنا پڑے گا تاکہ ہم امدادی فنڈ کی ضرورت کو ٹال سکیں ماسوائے پریشان کن حالات۔ مسلسل جاری اساس پر تشکیلِ قدر میں متواتر بہتری سے وجود میں آنے والے اضافی وسائل پر ازخود تحمل سے کام لینے کا اور کوئی متبادل نہیں۔ اس کیلئے چین بہترین مثال ہے۔ ہندوستان کو چین سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مؤثر طلب برائے سرمایہ کاری
مختلف اور انفرادی سطح پر کھپت کے معاملے میں احیاء صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ موجودہ سرمایہ کے ذریعہ نوکریوں کے مواقع بحال کئے جائیں، دستیاب گنجائش سے بہتر استفادہ کیا جائے، اور سرکاری و خانگی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری ہونے لگے۔ سرمایہ کی مجموعی تشکیل بہ اعتبار فی صدی جی ڈی پی لگاتار ہر سال گھٹ چکی ہے جیسا کہ مالی سال 2011-12ء میں 39% سے 2015-16ء میں 33% سے عیاں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ تناسب مزید گراوٹ کے ساتھ 30% کی طرف جارہا ہے۔ یہ ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ شرح سرمایہ کاری اور پیداواریت کی سطحیں باہم مل کر معیشت کی شرح ترقی کا تعین کرتے ہیں۔ کسی معیشت کی شرح ترقی تب معلوم کی جاسکتی ہے جب اُس معیشت کی شرح سرمایہ کاری کو تدریجی اضافہ والے سرمایہ کے مقداری تناسب (ICOR) سے تقسیم کیا جائے۔ اس طرح، اثاثوں کی تشکیل میں اضافہ اور سرمایہ کی معمولی اثرپذیری بھی باہم مل کر کچھ زیادہ اثرانداز نا بھی ہوں تو شرح ترقی کا تعین ضرور کرتے ہیں۔ یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ 2007-08ء میں جب معیشت کی ترقی 9.4% کی شرح پر ہوئی، سرمایہ کاری کی شرح 38% تھی۔ ظاہر ہے، تدریجی اضافہ والا سرمایہ یعنی حاصل شدہ مقدار کا تناسب 4.04 تھا۔ آج سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کی 27.4% ہے اور گزشتہ سہ ماہ میں شرح ترقی 5.7% نوٹ کی گئی۔ اس طرح، ’آئی سی او آر‘ 4.8% ہونا چاہئے۔ بہ الفاظ دیگر، اگر ہم 7% شرح ترقی چاہتے ہیں اور آئی سی او آر 4.8% ہو تو درکار شرح سرمایہ کاری 7% ہوتا ہے جسے 4.8% سے ضرب دینے پر 33.6% حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، شرح سرمایہ کاری 30% سے نیچے ہے اور اس لئے 4.8% آئی سی او آر کے ساتھ شرح ترقی صرف 6.25% ہوسکتی ہے۔ لہٰذا، آئی سی او آر (اصل سرمایہ کی ضمنی اثرپذیری) اور شرح سرمایہ کاری میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ ترقیاتی سعی کے اچھے ثمرات ایسے نتیجے کے ذریعہ حاصل ہوں جس کو معیشت کی شرح ترقی کی اصطلاحوں میں پرکھا جاسکے۔
سرمایوں سے کاروباری مہم جوئی کا حوصلہ ملتا ہے اور اس کے ذریعہ معیشت کا ردھم مثبت سمت میں بڑھتا ہے۔ موجودہ طور پر اس عنصر کا تشویشناک طور پر فقدان ہے۔ تاہم، خانگی شعبہ بجا طور پر دولت اور سرمایہ پر نفع کو بڑھانے کی اپنی جستجو میں مؤثر طور پر تبدیلی لارہا ہے تاکہ متعلقہ بزنس کے غیرثمرآور حصوں کے بوجھ کو گھٹایا جاسکے۔ کارپوریٹ شعبہ کی تنظیم جدید فطری نمو سے عاری ہورہی ہے اور سرمایہ کاری کی سطح بھی گھٹ گئی۔ علاوہ ازیں، موجودہ خانگی سرمایوں کا قابل لحاظ حصہ دستیاب گنجائش سے ناقص استفادہ، طلب کے فقدان اور اونچی سطح پیداواریت نہ ہونے کے معاملوں میں مایوس کن نتائج ظاہر کررہا ہے۔ سرمایہ کاری کی موجودہ سطحیں اپنے متعلقہ کاروباروں میں نقطۂ عروج کے نمائندہ ہیں۔ ان حالات میں نئے سرمایوں کی توقعات فضول ہے۔

TOPPOPULARRECENT