Monday , September 24 2018
Home / کھیل کی خبریں / معین خان کو چیف سلیکٹر اور منیجر بنائے جانے کا امکان

معین خان کو چیف سلیکٹر اور منیجر بنائے جانے کا امکان

کراچی۔ 21؍اپریل (سیاست ڈاٹ کام)۔ ماضی کے عظیم بیٹسمین اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی کمیٹی کے رکن ظہیر عباس اور پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ذاکر خان، ایشیاء کپ اور آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کی مایوس کن کارکردگی کے بعد مستقبل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی میں شامل دکھائی نہیں دیتے، تاہم واضح اشارے مل رہے ہیں کہ پاکستان کے دو سابق کپتان وقار یونس اورمعین خان ورلڈ کپ تک پاکستانی ٹیم کی اہم ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ معین خان کو چیف سلیکٹر اور منیجر کی دہری ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے جبکہ فزیو اور ٹرینر کے لئے غیر ملکی عملہ کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ فیلڈنگ کوچ کے لئے ابھی کسی نام پر اتقاق نہیں ہوسکا ہے۔ میڈیا جونٹی رہوڈس کے نام پر قیاس آرائیاں کررہا ہے، لیکن ابھی پی سی بی کا ان کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ دریں اثناء ڈھاکہ میں جونٹی رہوڈس نے سابق کپتان وسیم اکرم سے بات چیت میں مختصر معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ پی سی بی کے باوثوق ذرائع کے بموجب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کرکٹ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے بنگلہ دیش میں دو دوروں میں کام کرنے والے ظہیر عباس کانام پی سی بی کے منصوبہ میں شامل نہیں ہے۔ انھیں بیٹنگ شعبہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، لیکن آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں بیٹسمینوں کی غیر مستقل مزاج کارکردگی نے ظہیر عباس کے نام پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ انھوں نے فتح اللہ میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان ٹیم کو جلد عالمی معیار کے بیٹسمین دیں گے، تاہم اب پی سی بی کو بیٹنگ کوچ کی تلاش ہے۔ دو ٹورنمنٹس کی ذمہ داری پوری ہونے کے بعد ذاکر خان کو بھی برطرف کردیا گیا ہے۔ وقار یونس کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس ضمن میں وقار یونس نے کہا کہ انھوں نے کوچنگ کی درخواست پہلے ہی پی سی بی کو دے رکھی ہے، کوچ کا انتخاب کرکٹ بورڈ کا کام ہے، تاہم میں نے بورڈ کو اپنی دستیابی سے آگاہ کردیا ہے۔ ان کے بموجب بنگال کرکٹ اسوسی ایشن سے معاہدہ پاکستانی ٹیم کی کوچنگ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ کوچز کی تلاش کی درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 5 مئی مقرر کی گئی ہے، لیکن ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوچز کی تلاش کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی ہے۔
امکان ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے سامنے کوچز کی درخواستیں رکھی جائیں گی اور اس بار کمیٹی بنائے بغیر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام پاکستانی ٹیم انتظامیہ کے ناموں کو حتمی شکل دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT