Monday , December 11 2017
Home / سیاسیات / مغربی بنگال انتخابات سے پہلے ماؤسٹوں کی سرگوشی مہم

مغربی بنگال انتخابات سے پہلے ماؤسٹوں کی سرگوشی مہم

جنگل محل اور سابق زیراثر علاقوں میں ماؤسٹ اپنے اثر و رسوخ کے احیاء کے لئے کوشاں
کولکتہ ۔13مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) قیادت کے فقدان سے پریشان حال ممنوعہ سی پی آئی ( ماؤسٹ ) نے سرگوشی کی مہم ترنمول کانگریس حکومت کے خلاف مغربی بنگال میں شروع کردی ہے ۔ یہ ایک کوشش ہے کہ جنگل محل کے علاقہ میں ماؤسٹوں کا جو اثر و رسوخ ختم ہوچکا ہے اُسے دوبارہ حاصل کیا جائے ۔ ضلع جنگل محل اور اضلاع ارولیا ‘ بانکورا ‘ مغربی مدناپور جو تقریباً اسمبلی کی چالیس نشستیں رکھتے ہیں ‘ وہاں 4اور 11اپریل کو رائے دہی مقرر ہے ۔ ان میں سے 40نشستیں ماؤسٹوں کی جانب سے تقریباً 30نشستوں زبردست اثر ورسوخ کے زیراثر ہیں۔ماؤسٹ کوشش کررہے ہیں کہ ماضی کی دو سال کی ناکامی خاص طور پر قریبی علاقوں میں جو جھارکھنڈ اور اڈیشہ کی سرحدوں سے متصل ہیں دوبارہ اپنے مستحکم گڑھ بنائے جائیں لیکن وہ تاحال کامیاب نہیں ہوسکے ۔ان کے پاس قدیم اثر و رسوخ موجود نہیں ہے جو 2010- 11ء کے دوران تھا ۔ عملی اعتبار سے وہ ایک ایسی شناخت بن گئے ہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔

محکمہ سراغ رسانی کے ایک اہم عہدیدار نے کہا کہ جھارکھنڈ کے سرحدی علاقوں قریب اور اڈیشہ کی سرحد سے متصل چند علاقوں میں ماؤسٹ ٹی ایم سی حکومت کے خلاف تشہیری مہم چلارہے ہیں ۔ اسے سرگوشی مہم کا نام دیا گیا ہے ۔ سینئر سی آر پی ایف عہدیداروں کے نظریات کا بعض اوقات اس سرگوشی مہم میں اعادہ کیا جاتا ہے ۔ سینئر سی آر پی ایف عہدیدار کے بموجب ماؤسٹوں کو اب پہلے جیسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے جو قبل ازیں انہیں حاصل تھا لیکن بعض اوقات ہمیں اطلاعات ملتی ہیں جو ہمارے مخبر فراہم کرتے ہیں کہ جھارکھنڈ ‘ اڈیشہ کے سرحد سے متصل علاقوں میںماؤسٹ سرگوشی مہم ریاستی اور مرکزی حکومت کے خلاف چلارہے ہیں لیکن گذشتہ پانچ سال سے اس علاقہ میں کافی ترقی ہوچکی ہے ۔ پولیس انکاؤنٹر میں ترنمول کانگریس کے دورحکومت میں کشن جی پولیس کے ہاتھوں موت کے ساتھ ماؤسٹ تحریک کی جنگل محل میں ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT