Monday , December 11 2017
Home / سیاسیات / مغربی بنگال اور کیرالہ کے ہندوؤں کی بی جے پی کی جانب سے خوشامد

مغربی بنگال اور کیرالہ کے ہندوؤں کی بی جے پی کی جانب سے خوشامد

نئی دہلی ۔14فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی وسیع پیمانے پر مغربی بنگال اور کیرالہ کے ہندو گروپس کی خوشامد کررہی ہے تاکہ ان دونوں ریاستوں میں سیاسی طاقت بن کر ابھر سکے جہاں اپریل یا مئی میں انتخابات کا امکان ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی 21فبروری کو کولکتہ کے گوڑیا مٹھ کا دورہ کریں گے اور چند سرکاری تقاریب میں بھی شرکتک ریں گے ۔ اسے اسی سمت ایک پیشرفت سمجھا جارہا ہے ۔ بیجے پی کو یقین ہے کہ اسے مختلف مذہبی تنظیموں کی تائید حاصل ہوسکتی ہے  بشرطیکہ وہ اپنی ہندو توا ساکھ ثابت کردے اور ترنمول کانگریس حکومت کو مسلم حامی متعصب حکومت قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کرے ۔ پارٹی کے قائد پہلے ہی سے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی تیاری کررہے ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوڑیا مٹ ‘ رام کرشنا مشن اور اسکان جیسی تنظیموں سے ایک کروڑ پچاس لاکھ حامی ہیں اور انتخابی مہم کا مقصد ان کو ترغیب دینا ہونا چاہیئے ۔اسی طرح کے ایک بیان میں پارٹی نے شدت سے کئی ہندو تنظیموں کو جن میں سے کئی برادری کی تنظیمیں ہیں کیرالہ میں اپنا ووٹ بینک مستحکم کرنے بلکہ اس میں اضافہ کرنے کیلئے ان تنظیموں کی خوشامد شروع کردی ہے ۔ کیرالہ میں بی جے پی کا اثر و رسوخ بہت کم ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی حال ہی میں سری نارائن دھرما پریپالانا یوگن کی تقریب میں شرکت کرچکے ہیں ۔ یہ بارسوخ ایتھوایاطبقہ کی تنظیم ہے جس کا کیرالا میں کافی اثر ہے ۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ مبینہ طور پر ریاستی قائدین سے ایک حالیہ ملاقات میں مختلف ہندو تنظیموں سے ربط پیدا کرچکے ہیں ۔ امکان ہیکہ وہ ایس این ڈی پی کے ساتھ انتخابی اتحاد بھی کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT