Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مغربی بنگال خواتین پر تیزابی حملوں میں سرفہرست

مغربی بنگال خواتین پر تیزابی حملوں میں سرفہرست

تلنگانہ میں کوئی واقع نہیں ، خواتین کے تحفظ میں تلنگانہ سب سے آگے
حیدرآباد /15 جنوری ( سیاست نیوز ) ملک کی مختلف ریاستوں میں تہذیب تمدن زبان علاقائی رہن سہن مختلف ہونے کے باوجود خواتین پر مظالم کے واقعات ایک جیسے ہی پائے جاتے ہیں ۔ جہیز و ہراسانی ، گھریلو تشدد ، دشمنی آپسی خصومت گروہ واری حملے کس طرح کیوں نہ ہوں ان سب میں سب سے زیادہ خطرناک اور انسانیت سوز حملہ تیزاب ایسیڈ کا ہے ۔ تشویشناک بات تو یہ ہے کہ تیزاب کے حملوں میں ہر سال بدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے جو صرف خواتین پر کئے جارہے ہیں ۔ جبکہ ملک میں حالیہ دنوں مسلم خواتین کی فکر بہت بڑھ گئی ہے اور دوسرے فرقہ و طبقات کی خواتین پر مظالم کی داستانوں کی کوئی پرواہ کرنے والا نہیں اور ظلم و زیادتی و بربریت کا شکار ان خواتین کی و بھی فکر کی جاتی تو شائد تعمیری اقدامات سمجھے جاتے ۔ خواتین کے تحفظ اور انہیں راحت فراہم کرنے اور ان کی بہبود کے اقدامات کا سوال ہے ان میں ریاست تلنگانہ کی ملک بھر میں نظیر نہیں ملتی ۔ سال 2014 میں ملک بھر میں خواتین پر تیزاب ایسیڈ حملوں کے 225 واقعات اور سال 2015 میں 249 اور سال 2016 میں 307 واقعات ریکارڈ کئے گئے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں ایسا کوئی بھی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا اور تلنگانہ اس جدول میں صفر نمبرات کے ساتھ سرفہرست مقام پر ہے ۔ جبکہ سب سے زیادہ حملہ مغربی بنگال میں 83 ریکارڈ کئے گئے دوسرے نمبر پر اترپردیش 61 تیسرے نمبر پر دہلی 23 پنجاب میں 18 ہریانہ میں 17 گجرات میں 14 ، اڑیسہ میں 13 کیرلہ میں 13 آندھراپردیش 11 آسام 9 مہاراشٹرا 8 کرناٹک میں 7 واقعات پیش آئے خواتین پر مظالم کے واقعات کے زمرے اور فہرست میں ایک اور دو حملے ٹامل ناڈو اور چندی گڑھ شامل ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں سرکاری دلچسپی اور پولیس کے اقدامات کو کامیاب تصور کیا جارہا ہے ۔ جہاں شہر حیدرآباد کے اطراف و اکناف بڑے بڑے آئی ٹی ہب واقع ہیں اور ان کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر خواتین خدمات انجام دیتی ہیں ۔ خواتین پر مظالم کے خلاف اور بڑھتے تشدد کی وارداتوں پر سخت قوانین بھی پائے جاتے ہیں اور سزائیں بھی سخت دی جارہی ہیں ۔ لیکن وارداتوں کی انجام دہی سے قبل ہی خواتین میں شعور بیداری اور ہر وقت سخت اقدامات کے نتیجہ میں ریاست تلنگانہ نے خواتین کے تحفظ اور مظالم کی روک تھام میں نمبر ایک ریاست ہونے کا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT