Friday , November 24 2017
Home / مضامین / مغربی بنگال میں آر ایس ایس کا پھیلتا جال

مغربی بنگال میں آر ایس ایس کا پھیلتا جال

ندیم احمد خان
کولکاتا کے ایک کم عمر نوجوان اتم ساہا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیڈروم کی کھڑکی سے دیکھا کرتا تھا کہ بہت سے افراد جو خاکی رنگ کے شرٹ میں ملبوس ہوتے تھے مارشل آرٹ کی مشق کیا کرتے تھے ۔وہ لوگ ایک کار پارکنگ والے مقام پر مارشل آرٹ کی مشق کیا کرتے تھے ۔ بہت سے ہندوستانیوں کی طرح وہ بھی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو ایک ملک مخالف تنظیم سمجھتا تھا ۔
اب جبکہ ساہا کی عمر 43 سال ہوچکی ہے ۔کولکاتا میں وہ حال ہی میں آر ایس ایس سے جڑا ہے ۔ وہ 50 رضاکاروں کے ساتھ اسی پارک میں آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کلکتہ کے قریب ایک میٹنگ کے دوران آر ایس ایس میں شامل ہوا ۔ بھارت ماتا کی مورتی جو mother goddess کی علامت کے طور پر جانی جاتی ہے ، اس کے سامنے پلتھی مار کر ہاتھ رانوں پر رکھ کر بیٹھے ۔
راما پاڑا پال ، آر ایس ایس چیف پرچارک کے طور پر جانے جاتے ہیں ، انھوںنے ہندو بالادستی کا پیغام سناتے ہوئے کہا ’’ہر شخص کو ہندوراج (مملکت) کی بالادستی اور برتری کو تسلیم کرلینا چاہئے‘‘ ۔ انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ اگر ایک مسلمان ہندوستان میں رہتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے بھگوان (خدا) کو ملک سے پہلے مانتا ہے تو اسے کیوں ہندوستان میں رہنے کا حق دیا جانا چاہئے؟‘‘ ۔ یہ ملک پہلے ہندوؤں کو اولیت ملتا ہے اس کے بعد کسی کا نمبر آسکتا ہے ۔
آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ اس کی ممبرشپ میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے ۔ آر ایس ایس  کے جوائنٹ جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے پیش قیاسی کی ہے کہ مغربی بنگال میں آر ایس ایس کی شاخیں 2013 میں 650 کے مقابلے آئندہ سال 1200 ہوجائیں گی ۔ آر ایس ایس ممبرشپ کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے کوئی آزادانہ طریقہ کار نہیں ہے۔
مغربی بنگال جس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے ، وہاں گروپس پیغامات روانہ کئے جاتے ہیں ۔ بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تعداد بنگال میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے ، جو اس وقت مغربی بنگال کی آبادی کا 27 فیصد ہیں ۔ وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہندو اب بھی اکثریت میں ہیں ، لیکن ان کی آبادی کا تناسب کم ہوتا جارہا ہے اور یہ تناسب 2001 اور 2011 کے دوران  2.2 فیصد رہا ہے ۔
راہل سنگھ جو ریاست میں بی جے پی کے سربراہ ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ’’آر ایس ایس جنگ میں گائیڈنگ فورس کی طرح کام کرتی رہی ہے تاکہ قدیم ہندو تہذیب و وراثت کو زندہ کیا جاسکے‘‘ ۔ انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ ’’مسلم بنگلہ دیش سے یہاں آتے ہیں اور ہم ان کی مہمان نوازی کرتے رہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ لوگ نئے نئے مدرسے اور مسجدیں ریاست کے کونے کونے میں تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں‘‘ ۔
ساہا جنھوں نے حال ہی میں آر ایس ایس جوائن کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ میں گزشتہ جولائی میں آر ایس ایس میں شامل ہوا جب میری بھانجی نے ایک مسلم نوجوان سے شادی کرکے اسلام قبول کرلیا ۔ اس نے اس طرح کا عمل کرکے ہمارے خاندان کی ناک کٹوادی ۔ اس نے مزید یہ بات کہی کہ ’’ہمیں اپنے ہندو مذہب کی جڑوں کی حفاظت کرنی چاہئے ، جس کی یہ لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اپنے مذہب کی حفاظت کو اولیت دینی چاہئے‘‘ ۔
آر ایس ایس نے ساہا سے اس کی بھانجی کے اسلام قبول کرلینے کے بارے میں سوالات کئے لیکن ساہا نے کہا کہ ہم نے آگے کی کارروائی اس لئے روک دی کیونکہ میری بھانجی نے پولیس میں ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی دے ڈالی کہ اگر کسی نے بھی اس سلسلے میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس میں خاندان والوں کے خلاف شکایت درج کرادوں گی ۔ اس لئے تم لوگ میری ذاتی زندگی میں مداخلت مت کرو ورنہ پریشانی میں مبتلا ہوجاؤگے‘‘ ۔
ساہا بی جے پی کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہے ۔ اور وہ آئندہ سال بھی پارٹی کے لئے اپنی خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے ۔ اس کا کہنا ہے ’’میرا مشن ہندوستان کو ایک ہندو ملک بناناہے‘‘ ۔
مغربی بنگال میں 2016  میں الیکشن ہونے والے ہیں ۔ اگر بی جے پی اس ریاست کو فتح کرلیتی ہے تو یہ مودی کو راجیہ سبھا پر کنٹرول کرنے کا موقع فراہم کردے گی ۔ جس کی وجہ سے یہ پارٹی  اپنی کلیدی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوسکتی ہے ۔
مودی کے بی جے پی کا گیم پلان یہ ہے کہ وہ فی الوقت راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہے اور اس کا ہدف یہ ہے کہ آئندہ چار برسوں میں 31 ریاستوں میں سے 20 پر اپنا قبضہ جمالے ۔ پارٹی کے ٹاپ ذرائع نے یہ بات کہی ۔ اس وقت بی جے پی کو 11 ریاستوں پر کنٹرول حاصل ہے ۔
حکومت دوسرے امور کو بھی نمایاں طور پر پیش کرکے آر ایس ایس  کو خوش کرنا چاہتی ہے ۔ مثلاً سرسوتی ندی کی گم گشتہ بازیابی ۔ گورنمنٹ کے آرکیالوجسٹس سرسوتی ندی کی تلاش کا حکم صادر کرچکے ہیں ، جس کا ذکر ہندو  ٹیکٹس میں موجود ہے ۔ آر ایس ایس ارکان کا ماننا ہے کہ اس کے شواہد سے ہندوستان میں ہندو بالادستی کے گولڈن عہد کا احیاء ممکن ہوسکتا ہے ، جو مسلمانوں  اور عیسائیوں کے ہندوستان میں آمد سے قبل پایا جاتا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT