Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی کی تیاریاں

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی کی تیاریاں

پارٹی کارکنوں میں جوش اور حوصلہ پیدا کرنے کیلئے قیادت میں تبدیلی
کولکتہ۔/12جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی مغربی بنگال یونٹ نے اپنی تنظیم میں نئی جان ڈالنے کیلئے کلیدی عہدوں پر نئے چہروں کو نامزد کرنا شروع کردیا ہے تاکہ ایک قابل اعتبار اپوزیشن جماعت بن کر اُبھرسکے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش جنہیں گزشتہ ماہ اس عہدہ پر مامور کیا گیا ہے، بتایا کہ جاریہ سال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارٹی کو ترو تازہ اور توانا بنانے کا بیڑہ اُٹھایا گیا ہے اور ہم نے نصب العین حاصل کرنے کیلئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا ہے اور ریاست بھر میں حالیہ منعقدہ قانون کی خلاف ورزی احتجاج کی کامیابی سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ مسٹر دلیپ گھوش جو کہ آر ایس ایس پرچارک ہیں ریاستی صدر بی جے پی کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے اندرون چند ہفتے متعدد تنظیمی عہدیداروں اور ضلع صدور کو ہٹادیا۔ اس تبدیلی سے بی جے پی کارکنوں میں ایک نیا حوصلہ اور ولولہ پیدا ہوا ہے اور ریاست بھر میں حالیہ قانون کی خلاف ورزی پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے یہ کارکنان سڑکوں پر نکل آگئے تھے۔ دریں اثناء پارٹی کے ایک لیڈر نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ دلیپ گھوش کو آر ایس ایس کی مکمل سرپرستی اور تائید حاصل ہے۔ فلمی اداکارہ سے سیاستداں بننے والی روپا گنگولی جو کہ سابق ریاستی صدر بی جے پی راہول سنہا سے ناراض تھیں حال ہی میں انہیں بی جے پی مہیلا مورچہ کا ریاستی صدر بنایا گیا ہے۔ نئی ریاستی صدر گھوش کے اچانک اقدام سے کئی ایک قائدین بشمول جنرل سکریٹری آشیم سرکار اور میڈیا کنوینر رتیش تیواری عہدوں سے محروم کردیئے گئے۔

ریاستی یونٹ کی نئی قیادت میں صدر یوتھ ونگ امیتاو رائے اور کئی ایک سابق بیورو کریٹس جنہوں نے 2014 کے عام انتخابات سے قبل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ تاہم رائے اور تیواری کو سکریٹری کے عہدوں تک محدود کردیا گیا۔ یہ تبدیلی پارٹی کارکنوں میں ناراضگی اور اختلافات کے پس منظر میں عمل میں لائی گئی ہے جبکہ 2014 کے عام انتخابات میں شامل بعض کارکنوں کو اہم عہدوں پر مامور کرنے کی شکایت تھی۔ اگرچیکہ بی جے پی نے گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں 18فیصد ووٹ حاصل کرکے مغربی بنگال میں بہتر مظاہرہ کیا تھا لیکن اندرون ایک سال قیادت کے فقدان، داخلی اختلافات حکمراں ترنمول کانگریس سے مبینہ مفاہمت سے سیاسی طور پر کمزور ثابت ہوگئی کیونکہ شردھا چٹ فنڈ اسکام پر ریاست اور مرکز کے درمیان ہنی مون سے پارٹی کارکن اُلجھن کا شکار ہوگئے جس کا اثر فبروری 2015 میں بونگاؤں لوک سبھا انتخابات میں شکست کی شکل میں دیکھا گیا ۔ یہ نشست حکمران ٹی ایم سی نے جیت لی اور لیفٹ فرنٹ نے دوسرا مقام حاصل کیا تھا۔دریں اثناء سی پی ایم پولیٹ بیورو ممبر محمد سلیم نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو فروغ حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا لیکن بی جے پی اور ٹی ایم سی میں میچ فکسنگ کے نتیجہ میں صرف ایک سال میں یہ بھرم کھل گیا کہ یہ جماعت اپنا مقام بنانے میں ناکام ہوگئی۔جبکہ ٹی ایم سی سکریٹری جنرل پارتھاچٹرجی نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت میں تبدیلی لاحاصل ثابت ہوگی کیونکہ بنگال میں فرقہ پرست جماعت کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT