Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / مغربی بنگال میں بی جے پی قائدین کوعوام تک رسائی میں دقت

مغربی بنگال میں بی جے پی قائدین کوعوام تک رسائی میں دقت

کولکاتا 25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال میں بی جے پی قائدین کو پنچایت انتخابات سے قبل صدر پارٹی امیت شاہ کے مقررہ نشانے کے مطابق عوام تک پہونچ کر اُن سے تال میل بڑھانے میں بڑی دقت پیش آرہی ہے جبکہ پارٹی کو داخلی رسہ کشی اور ریاستی بی جے پی ارکان میں تعاون کا فقدان بھی پایا جاتا ہے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ایک گوشے کا ماننا ہے کہ پارٹی ترنمول کانگریس حکمرانی والے بنگال میں پیش قدمی کررہی ہے، جو کبھی بایاں بازو کا گڑھ ہوا کرتا تھا، لیکن کئی وجوہات کی بناء اِس کی ریاستی یونٹ پارٹی کے حق میں جاری لہر کا بھرپور فائدہ اُٹھانے سے قاصر ہورہی ہے۔ مختلف انتخابات کے نتائج جو 2016 ء کے اسمبلی چناؤ کے بعد سامنے آئے ہیں، اُن سے پارٹی کے ووٹ تناسب میں کافی اضافہ ظاہر ہوتا ہے اور وہ بنگال میں برسر اقتدار ٹی ایم سی کے لئے بڑے چیلنجر کے طور پر اُبھر سکتی ہے۔ اگرچہ ریاستی بی جے پی قیادت کو گزشتہ روز کسی اور سے نہیں بلکہ وزیراعظم نریندر مودی سے شاباشی ملی کہ ووٹوں کے تناسب میں 18 فیصد کا اضافہ ہوا ہے لیکن ایک سینئر لیڈر نے اعتراف کیاکہ پارٹی کو اپنی طرف ووٹروں کو راغب کرنے کے لئے ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ سینئر مرکزی بی جے پی لیڈر نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہمیں ہنوز ریاست کے تمام 77,000 بوتھس تک پہونچنا ہے۔ ہمارے پارٹی صدر امیت شاہ نے اِس سال کے اوائل بنگال کو اپنے دورے میں یہ نشانہ مقرر کیا تھا کہ 2017 ء کے ختم تک بوتھ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں لیکن ہم اِس نشانے کی محض 65 تا 70 فیصد تک تکمیل کرپائے ہیں۔ تاہم، بی جے پی نیشنل جنرل سکریٹری اور بنگال انچارج کیلاش وجئے ورگھیا نے کہاکہ کمیٹیوں کی تشکیل آئندہ ماہ تک عین ممکن ہے ہوجائے گی۔ پارٹی کی مرکزی قیادت نے دانشوروں کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے جو رائے عامہ ہموار کرنے میں اپنے رول ادا کرتے ہیں۔ ایک سینئر ریاستی بی جے پی لیڈر نے کہاکہ قائدین کے ایک گوشے میں رسہ کشی کے سبب پارٹی کی یہ مجموعی پیشرفت میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ صدر مغربی بنگال بی جے پی دلیپ گھوش بھی اتفاق کرتے ہیں کہ پارٹی کو ابھی ریاست کے تمام بوتھس تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ بات درست ہے اور اس کے پس پردہ بعض وجوہات ہیں۔ اقلیتی غلبہ والے اضلاع مالدہ، مرشدآباد اور ناڈیہ میں ہمیں کچھ تائید و حمایت حاصل ہے لیکن کوئی بھی بوتھ کمیٹیوں کی ذمہ داری قبول کرنے تیار نہیں کیوں کہ وہ ٹی ایم سی اور اقلیتوں کے بعض گوشوں سے خائف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT