Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں بی جے پی وفد کے داخلے پر پابندی

مغربی بنگال میں بی جے پی وفد کے داخلے پر پابندی

سڑک پر احتجاج اور سیمی کارکنوں پر تشدد کا الزام
ہوڑہ۔ 24 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کی مرکزی ٹیم کو آج مغربی بنگال پولیس نے ضلع ہوڑہ میں تشدد سے متاثرہ علاقہ دھولا گڑھ میں داخلے سے روک دیا جس کے خلاف پارٹی کارکنوں نے سڑک پر دھرنا دیا اور یہ الزام عائد کیا کہ ممتا بنرجی حکومت ’’خوشامدی کی سیاست‘‘ پر عمل پیرا ہے۔ بی جے پی وفد میں ارکان پارلیمنٹ جگدمبیکا پال، ستیہ پال سنگھ اور ریاستی صدر دلیپ گھوش اور نیشنل سیکریٹری راہول سنگھ شامل تھے۔ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اس مقام سے ایک کلو میٹر دور ایکاب بارا پور روڈ پر روک دیا گیا جہاں پر چند دن قبل فرقہ وارانہ تصادم ہوگیا تھا۔ پولیس نے پورے علاقہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے بھاری جمعیت کو متعین کردی تھی۔ وفد سے کہا کہ اس علاقہ میں امتناعی احکامات نافذ ہیں لہذا وہ آگے نہیں بڑھ سکتے جس کے خلاف وفد پارٹی کے ہزارہا حامیوں کے ساتھ بطور احتجاج سڑک پر بیٹھ گیا۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ ریاست میں امن و قانون کی مشنری ناکارہ ہوگئی ہے۔ ستیہ پال نے کہا کہ حکومت ایک مخصوص فرقہ کی خوشامدی میں مصروف ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکومت نے دھولا گڑھ میں تشدد کے سلسلے میں 65 افراد کو گرفتار کرنے پر ہوڑہ (رورل) پولیس سپرنٹنڈنٹ سبیا ساچی رامن مصرا کا تبادلہ کردیا ہے، جہاں پر ایک فرقہ کی املاک پر دوسرے فرقہ نے حملہ کردیا تھا۔ بی جے پی مغربی بنگال کے صدر دلیپ گھوش نے الزام عائد کیا کہ دائیں بازو کی مسلم تنظیمیں اور سیمی کے کارکنان اس علاقہ میں داخل ہوکر گڑبڑ کی تھی جبکہ متاثرہ علاقہ میں امتناعی احکامات کے بارے میں بی جے پی کو قبل از وقت اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، حکومت کے ایک ادارہ کے طور پر کام کررہی ہے جس کی کارروائی پارٹی وفد کی توہین کے مترادف ہے۔ بعدازاں بی جے پی وفد نے راج بھون پہنچ کر گورنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ حکمراں ترنمول کانگریس کا شعبہ اقلیت ضلع ہوڑہ میں ہندوؤں کو نشانہ بنارہا ہے تاکہ زعفرانی پارٹی کی حمایت سے باز رکھا جائے۔

TOPPOPULARRECENT