Wednesday , September 19 2018
Home / سیاسیات / مغربی بنگال میں بی جے پی کا عروج صرف ایک سراب

مغربی بنگال میں بی جے پی کا عروج صرف ایک سراب

کولکتہ ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) برسراقتدار ترنمول کانگریس نے بی جے پی کے اس دعویٰ کی تردید کردی کہ بھگوا پارٹی مغربی بنگال میں ایک طاقتور اپوزیشن کی حیثیت سے ابھر رہی ہے اور 2016ء کے اسمبلی انتخابات میں مؤثر مقابلہ کرے گی۔ جنرل سکریٹری ترنمول کانگریس مکل رائے نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بھگوا پارٹی کا یہ دعویٰ صرف ’’ایک سراب‘‘ ہے۔ مغر

کولکتہ ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) برسراقتدار ترنمول کانگریس نے بی جے پی کے اس دعویٰ کی تردید کردی کہ بھگوا پارٹی مغربی بنگال میں ایک طاقتور اپوزیشن کی حیثیت سے ابھر رہی ہے اور 2016ء کے اسمبلی انتخابات میں مؤثر مقابلہ کرے گی۔ جنرل سکریٹری ترنمول کانگریس مکل رائے نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بھگوا پارٹی کا یہ دعویٰ صرف ’’ایک سراب‘‘ ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی بڑی اپوزیشن کی جگہ حاصل کرنے سے قاصر رہے گی۔ لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال سے بی جے پی کی کامیابیاں صرف وقتی ہیں۔ یہ ایک سراب ہیں۔ اس کا ثبوت آئندہ کولکتہ مجلس بلدیہ کے انتخابات میں مل جائے گا۔ کئی بلدیات کے انتخابات میں بھی یہ ثابت ہوجائے گا کہ بی جے پی مغربی بنگال میں عروج حاصل نہیں کرسکتی اور اسے ووٹوں کا قابل لحاظ فیصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے 293 انتخابی حلقوں میں سے 136 میں ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ پارٹی صرف 23 اسمبلی حلقوں میں سبقت حاصل کرسکی۔ اس کے برعکس ترنمول کانگریس کو 216 اسمبلی حلقوں میں سبقت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ووٹوں میں حصہ صرف 17.6 فیصد تھا اور یہ مغربی بنگال میں اس کا حاصل کردہ اعظم ترین حصہ تھا۔ 1991 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو صرف 13.1 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ 2009ء کے انتخابات میں اس کا فیصد صرف 6.15 تھا۔ ترنمول کانگریس چیف منسٹر ممتابنرجی کی زیرقیادت ریاست کی 45 لوک سبھا نشستوں میں سے 34 پر کامیابی حاصل کرسکی۔ اسے جملہ استعمال شدہ ووٹوں کا 34 فیصد حاصل ہوا۔ بائیں بازو کو 29 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ کانگریس 9.6 فیصد ووٹ حاصل کرسکی۔ پارٹی سولہویں لوک سبھا کے انتخابات میں چوتھی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اس کی اصل حریف سی پی آئی ایم نے صرف دو نشستیں حاصل کیں اور 1964ء میں اس کی تشکیل کے بعد اس کا ووٹوں کا فیصد پست ترین رہا۔ کانگریس نے 4 نشستیں حاصل کیں جبکہ بی جے پی کو دو نشستیں حاصل ہوئیں۔ مکل رائے دعویٰ کیا کہ 2016ء کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کا مظاہرہ مزید بہتر ہوجائے گا۔ دریں اثناء مکل رائے نے بی جے پی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا کہ ان کے حامیوں پر ترنمول کانگریس کے کارکن انتخابات کے بعد حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ہزار بولنگ بوتھس قائم کئے گئے تھے۔ ہمیں بتائیے کہ ان میں سے کتنے بوتھس پر ایسے واقعات پیش آئے۔ مشکل سے ایسے بوتھ ایک فیصد ہوں گے۔ اس سوال پر کہ کیا انہوں نے ترنمول کانگریس کی کمیٹی کو ہدایت دی تھی کہ سی پی آئی ایم کارکنوں پر حملے کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT