Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں ریلی سے مودی کے خطاب کے دوران سائبان منہدم ، 90 زخمی

مغربی بنگال میں ریلی سے مودی کے خطاب کے دوران سائبان منہدم ، 90 زخمی

وزیراعظم نے کچھ دیر وقفہ کے بعد خطاب جاری رکھا ، ممتا بنرجی حکومت پر جمہوریت کو کچلنے اور سنڈیکیٹ راج چلانے کا الزام ، نوشتۂ دیوار پڑھ لینے کا مشورہ

مدنا پور ۔ 16 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی آج یہاں منعقدہ ایک بڑی ریلی میں ان کے خطاب کے درمیان ایک عبوری سائبان اچانک منہدم ہوگیا جس کے نتیجہ میں بشمول 13 خواتین کم سے کم 90 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عوام کو بارش سے بچانے کیلئے ریلی کے باب الداخلہ پر عبوری سائبان نصب کیا گیا تھا ۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران اس سائبان کو منہدم ہوتا دیکھ کر اپنے اطراف موجود اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی ) کے اہلکاروں کو فی الفور وہاں پہونچکر زخمیوں کی مدد کرنے کی ہدایت کی ۔ حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے مدناپور میڈیکل کالج اور ہاسپٹل کے پرنسپال پی کنڈو نے کہاکہ بشمول 13 خواتین 90 افراد کو دواخانہ میں شریک کروایا گیا ہے جن میں کسی کی بھی حالت تشویشناک نہیں ہے ۔ مودی کے شخصی اسٹاف بشمول ڈاکٹر اور ایس پی جی اہلکاروں کے علاوہ بی جے پی کی مقامی یونٹ کے ذمہ دار بھی زخمیوں کو مدد پہونچانے کیلئے سرگرم و متحرک ہوگئے ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہاکہ مودی کی ریلی کے دوران بی جے پی کے کئی پرجوش کارکن اس عبوری سائبان پر چڑھ گئے تھے ۔ وزیراعظم مودی نے اس واقعہ کے بعد کچھ دیر کے لئے اپنی تقریر روک دی اور انھیں کئی مرتبہ کارکنوں کے نیچے اُترنے کیلئے کہتے ہوئے سنا گیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عینی شاہدین نے کہاکہ چند افراد اس عبوری سائبان پر چڑھ گئے تھے جس کو صرف تارپولین سے ڈھانکا گیا تھا ۔ یہ ڈھانچہ ان افراد کا وزن نہیں سنبھال سکا اور منہدم ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں بشمول چند خواتین کئی افراد زخمی ہوگئے ۔ عہدیداروں نے کہاکہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران اس سائبان کو منہدم ہوتا دیکھ کر اپنے قریب موجود اسپیشل پروٹیکشن گروپ ( ایس پی جی ) کے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ پہلے ان افراد کو دیکھیں اور زخمیوں کی مدد کریں۔ عہدیداروں نے کہاکہ مودی کا پرسنل اسٹاف ، اُن کے ڈاکٹرس اور ایس پی جی اہلکاروں کے علاوہ بی جے پی کی مقامی یونٹ بھی زخمیوں کی مدد کیلئے متحرک ہوگئی۔ بی جے پی کے ایک ذمہ دار نے کہاکہ وزیراعظم کے قافلہ میں شامل ایمبولینس کے ذریعہ زخمیوں کو دواخانہ پہونچایا گیا اور وزیراعظم مودی نے ریلی سے خطاب کے بعد دواخانہ پہونچکر زخمیوں کی عیادت کی ۔ ایک زخمی خاتون نے وزیراعظم سے آٹوگراف کی خواہش کی اور انھوں ( مودی) نے بخوشی اس کی تکمیل کی ۔ خیمہ کے انہدام کے بعد وزیراعظم نے اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’خیمہ گرنے کے باوجود وہاں موجود افراد دوسروں کی مدد کرتے رہے ۔ کوئی بھی وہاں سے نہیں بھاگا ۔ انھوں نے ڈسپلن برقرار رکھا ‘‘ ۔ چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہاکہ ریلی میں زخمی ہونے والوں کو حکومت کی طرف سے مکمل طبی امداد پہونچائی جائیگی ۔ ممتا بنرجی نے اپنے ٹوئٹر پوسٹ میں کہا کہ ’’مدناپور ریلی میں آج کے زخمیوں کی عاجلانہ صحتیابی کے لئے ہم دعاء کرتے ہیں۔ طبی امداد اور علاج کیلئے حکومت کی طرف سے مکمل اعانت کی جائے گی ‘‘۔ مودی نے ممتا بنرجی حکومت کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پر جمہوریت کو کچلنے اور ریاست میں سنڈیکیٹ راج چلانے کا الزام عائد کیا ۔ انھوں نے کہاکہ ’’سنڈیکیٹ راج ‘‘ کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں ہوپارہا ہے۔ وزیراعظم مودی نے یہاں ایک کسان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کی پذیرائی کی اور کہا کہ ان کی حکومت 2022ء تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کی مساعی کررہی ہے ۔ مودی نے بظاہر آئندہ عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مغربی بنگال کے عوام کو اندرون چند ماہ ترنمول کانگریس کی غلط حکمرانی سے نجات مل جائے گی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’’وندے ماترم اور جن گن من کی سرزمین پر سیاسی سنڈیکیٹ کا راج چل رہا ہے ۔ یہ سنڈیکیٹ خوشامد اور ووٹ بینک کی سیاست پر عمل پیرا ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ’’جو یہ سمجھتے ہیں کہ تشدد برپا کرتے ہوئے اقتدار پر فائز رہا جاسکتا ہے انھیں نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہئے ‘‘ ۔ مودی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کاشتکاروں کی آمدنی دوگنی کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے جبکہ ترنمول کانگریس نے اسے مودی کا پرانا وعدہ قرار دیا جو ہنوز پورا نہیں ہوسکا ۔ مودی نے ترنمول کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ممتا بنرجی کے بنگال میں پوجا کرنا بھی خطرے میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT