Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / مغربی بنگال میں سی پی ایم کا احیاء۔ عوام میں مقبولیت کی سمت گامزن

مغربی بنگال میں سی پی ایم کا احیاء۔ عوام میں مقبولیت کی سمت گامزن

ملک گیر ہڑتال کی کامیابی سے حکومت مخالف جذبات کا اظہار۔ صدر نشین لیفٹ فرنٹ کا دعویٰ
کولکتہ۔/11ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال میں 2011 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے متواتر انتخابی شکست کے باعث سی پی ایم پر سکتہ طاری ہوگیا تھا لیکن گذشتہ ایک ماہ میں دو سیاسی پروگرامس کی کامیابی کے نتیجہ میں وہ صدمہ سے باہر آگئی ہے۔ پارٹی نے مغربی بنگال میں واضح اکثریت کے ساتھ 35سال تک حکمرانی کی تھی۔ سال 2011 کے اسمبلی انتخابات میں کٹر حریف ترنمول کانگریس کے ہاتھوں شرمناک شکست سے دوچار ہوگئی۔ اسوقت سے پارٹی تنظیمی پروگرامس کے ذریعہ از سر نو توانائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عوام کی سرد مہری کی وجہ سے اسے کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تاہم گزشتہ ایک ماہ میں سیاسی منظر تبدیل ہوگیا ہے جس نے 2کامیاب پروگرم منعقد کئے ہیں۔ پہلے پروگرام میں لیفٹ فرنٹ نے 27 اگسٹ کو کسانوں کا چلو سکریٹریٹ احتجاج منظم کیا جبکہ دوسرے پروگرام میں 8ستمبر کو مغربی بنگال میں ملک گیر عام ہڑتال کامیابی کے ساتھ کی گئی۔ سی پی ایم پولیٹ بیورو ممبر اور مغربی بنگال لیفٹ فرنٹ کے صدر نشین بمن باسو نے بتایاکہ ایک کے بعد ایک سیاسی پروگرامس کی کامیابی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں نہ صرف حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے بلکہ ہمیں سیاسی حمایت دوبارہ حاصل ہورہی ہے

 

کیونکہ ہم نے ترنمول کانگریس کے بارے میں جو کہا تھا اب عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ وہ سچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئی ، اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کیلئے عوام کچھ مہلت دینا چاہیئے تھا۔لیکن چار سال کا طویل عرصہ گذر جانے کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کے برخلاف حالات مزید ابتر ہوگئے اور اب عوام ترنمول کانگریس کے اصل چہرہ کوپہچان گئے ہیں۔ دریں اثناء سی پی ایم پولیٹ بیورو ممبر محمد سلیم نے بتایا کہ لیفٹ فرنٹ کی بڑی پارٹی سی پی ایم تیزی کے ساتھ عوام میں مقبولیت حاصل کررہی ہے اور جاریہ سال اپریل میں کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں لیفٹ فرنٹ کے ووٹوں کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد میڈیا کے ایک وسیع تر حلقہ نے ہمیں ایک اپوزیشن کی حیثیت سے صفایا کردیا لیکن حالیہ کامیاب سیاسی تحریک سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ لیفٹ فرنٹ آج ترنمول کانگریس کی غلط حکمرانی کی واحد متبادل ہے۔ سی پی ایم لیڈر نے کہا کہ ایک عرصہ قبل ہی ٹی ایم سی ۔ بی جے پی میں گٹھ جوڑ ہوگیا تھا لیکن اب یہ بے نقاب ہوگیا کیونکہ جب بھی بی جے پی کا مرکزی لیڈر بنگال آتا ہے تو ریاستی حکومت اور ٹی ایم سی کی تعریف کرتا ہے جس کے عوض ترنمول کانگریس مرکزی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT