Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تردید، سرمایہ کاروں کو ترغیب

مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تردید، سرمایہ کاروں کو ترغیب

سیاستدانوں پر ریاست کو پرتشدد ظاہر کرنے کا الزام، چیف منسٹر مغربی بنگال و سربراہ ترنمول کانگریس ممتابنرجی کا بیان
کولکاتا ، 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج کہا کہ ریاست میں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں پائی جاتی۔ ان کے یہ تبصرے مالدہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعہ کے صرف چند دن بعد منظرعام پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ صنعت کے قائدین کو بحیثیت ترنمول کانگریس سربراہ کو تیقن دیتی ہے کہ ان کی پارٹی سرمایہ کاری کی راہ میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی اہم صنعتیں مغربی بنگال میں پہلے ہی سے قائم ہوچکی ہیں۔ انتخابات قریب ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر مسئلہ کی یکسوئی کرلی جائے گی۔ جمہوریت جاری رہے گی۔ یہ منتخبہ حکومت (ترنمول کانگریس حکومت دوبارہ برسراقتدار آئے گی)۔ ممتابنرجی نے بنگال عالمی تجارتی چوٹی کانفرنس کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں پرامن ماحول برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی سازگار پہلو یہ ہیکہ صنعتیں قائم ہورہی ہیں۔ سیاسی ناقدین مغربی بنگال کو ایک پرتشدد ریاست کی حیثیت سے ظاہر کررہے ہیں۔ ممتابنرجی نے کہا کہ بنگال ایک پرامن ریاست ہے جہاں سب متفقہ طور پر کام کرتے ہیں۔ صرف سیاسی ناقدین مغربی بنگال کو پرتشدد ظاہر کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماوسٹوں کے گڑھ جنگل محل میں ہی ماحول پرامن ہے۔ ان کے تبصرہ مالدہ کے علاقہ کلیاچاٹ میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ تشدد کے پیش نظر اہمیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے مرکزی وزارت داخلہ ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ ممتابنرجی نے کہا کہ اراضی کی دستیابی کوئی مسئلہ نہیں ہوگی کیونکہ ریاستی حکومت کی ایک اراضی پالیسی اور ایک اراضی بینک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ کوئی سرمایہ کاری موجود نہیں ہے۔ یہ سچ نہیں ہے۔ 94 ہزار کروڑ روپئے مالیتی سرمایہ کاری پہلے ہی ہوچکی ہے۔ ہم نے بعض پراجکٹس پر دستخط کئے تھے جو پہلے ہی شروع ہوچکے ہیں۔ مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کار بے چینی سے ایسا ماحول ڈھونڈ رہے ہیں جہاں سرمایہ کاری کے نتائج حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو سرمایہ کاری بھی نہیں ہوگی۔ اپوزیشن پارٹیاں جیسے سی پی آئی ایم، کانگریس اور بی جے پی نے کل اس چوٹی کانفرنس کو ایک ’’ڈرامہ‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مغربی بنگال کو صنعتوں سے پاک کرنے کا عمل مکمل کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT