Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں ممتاکاجادو برقرار ،راجستھان میں کانگریس فاتح

مغربی بنگال میں ممتاکاجادو برقرار ،راجستھان میں کانگریس فاتح

ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شرمناک شکست ،ترنمول امیدوارچارلاکھ70ہزار سے کامیاب

جئے پور ؍ کولکاتا ۔ یکم فروری (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان مغربی بنگال کے جملہ 3 لوک سبھا نشستوں اور ایک اسمبلی نشست پر منعقد کئے گئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو بُری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ راجستھان میں جہاں کانگریس نے لوک سبھا کی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے وہیں مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے زبردست فرق کے ساتھ شاندار کامیابی حاصل کی۔ جمعرات کو جہاں ایک طرف ملک کی نگاہیں بجٹ پر ٹکی ہوئی تھیں وہیں ضمنی انتخابات کے نتیجے بھی کافی دلچسپ رہے۔ راجستھان کی دو لوک سبھا نشستوں اجمیر میں 84,414اور الور میں ایک لاکھ 56 ہزار 319 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ حلقہ اسمبلی منڈل گڑھ نشست پر بھی کانگریس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ وہیں دوسری طرف مغربی بنگال کی نواپاڑہ حلقہ اسمبلی نشست بھی ترنمول کانگریس کے حصے میں گئی اور حلقہ لوک سبھا الویریا پر بھی ایک بڑے فرق کے ساتھ ترنمول نے کامیابی درج کرائی۔ راجستھان ضمنی انتخابات میں الور نشست سے کانگریس امیدوار کرن سنگھ یادو نے بی جے پی کے جسونت سنگھ یادو پر سبقت حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح اجمیر لوک سبھا نشست سے کانگریس امیدوار رگھو شرما بھی بی جے پی کے رام سوروپ لامبا کو بُری طرح سے شکست سے دوچار کردیا۔ حالانکہ منگل گڑھ ضمنی انتخابات میں کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو ملی جہاں پر کانگریس امیدوار ویویک دھاکڑ نے بی جے پی امیدوار شکتی سنگھ ہڈا کو 12,976 ووٹوں سے شکست دی۔ مغربی بنگال کے پلوبیریا لوک سبھا حلقہ سے ترنمول کانگریس کے امیدوار ساجدہ احمد نے 4,74,000 ووٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ واضح رہے کہ 44 فیصد مسلم آبادی والے اس حلقے میں ترنمول کانگریس اور سی پی ایم نے بھی مسلم امیدوار کھڑا کیا تھا جس کی وجہ سے مسلم اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ تھا اور بی جے پی کو یہاں سے بہت امیدیں وابستہ تھیں۔ چونکہ گزشتہ دو تین برسوں میں الویریا میں فرقہ وارانہ جھڑپ کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ جس کی وجہ سے یہاں ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ تھا۔ لیکن ممتا بنرجی کے جادو نے ووٹوں کی تقسیم کی سیاست کو بُری طرح سے ناکام کردیا۔ واضح رہے کہ ساجدہ احمد ، مرحوم سلطان احمد کی بیوہ ہیں جو اپنے حلقہ میں کافی مقبول سمجھی جاتی ہیں۔

ترنمول کانگریس کو اس حلقہ سے کامیابی کا پہلے سے ہی یقین تھا۔ ترنمول کانگریس دو لاکھ ووٹوں سے کامیابی کا دعویٰ کررہی تھی لیکن اُسے بھی یہ توقع نہیں تھی کہ چار لاکھ 74 ہزار کے بڑے فرق سے اُنھیں کامیابی حاصل ہوگی۔ دوسری طرف نواپاڑہ حلقہ اسمبلی میں بھی ترنمول کانگریس کے امیدوار سنیل سنگھ کو مجموعی طور پر 1,01720 ووٹ حاصل ہوئے۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر بی جے پی نے یہاں 38 ہزار ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کی ہے جو سی پی ایم امیدوار سے تین ہزار ووٹ زائد ہیں۔ واضح رہے کہ راجستھان میں حلقہ لوک سبھا اجمیر کی نشست سانور لال جاٹ کے انتقال کے بعد مخلوعہ تھی۔ جبکہ الور لوک سبھا سے مہنت چند ناتھ کے فوت ہوجانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اسی طرح منڈل گڑھ حلقہ اسمبلی کارتک کماری کے انتقال کے بعد ضمنی انتخابات کرانا پڑا۔ جبکہ مغربی بنگال کے الوبیریا لوک سبھا نشست ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سلطان احمد کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اسی طرح نواپاڑہ حلقہ اسمبلی نشست کانگریس کے رکن اسمبلی مدھو سدن گھوش کے انتقال کے بعد ضمنی انتخابات کرانے پڑے۔ واضح رہے کہ مذکورہ تمام نشستوں پر 29 جنوری کو رائے دہی انجام دی گئی تھی۔راجستھان اور بنگال کے انتخابات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے راہول گاندھی نے اسے قابل فخر کامیابی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ عوام نے بی جے پی حکومت کو اُن کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مسترد کردیا۔ سچن پائلیٹ نے وسندھرا راجے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ضمنی انتخابات میں کانگریس کے دونوں حلقہ لوک سبھا میں کامیابی بی جے پی کی ہٹ دھرمی کے خلاف جیت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کم ازکم اب وسندھرا راجے کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اُنھوں نے واضح کیاکہ دونوں حلقہ لوک سبھا کے تمام حلقہ اسمبلی میں کانگریس کو سبقت حاصل ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT