Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال و آسام میں پہلے مرحلہ کی رائے دہی پرامن

مغربی بنگال و آسام میں پہلے مرحلہ کی رائے دہی پرامن

بنگال میں 80 فیصد اور آسام میں 70 فیصد رائے دہی ۔ اہم سیاسی قائدین کی قسمت کا فیصلہ
کولکاتہ / گوہاٹی 4 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال اور آسام میں پہلے مرحلہ کے اسمبلی انتخابات کا آج پرامن انعقاد عمل میں آیا ۔ مغربی بنگال میں 80 فیصد اور آسام میں 70 فیصد رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی میں جملہ 18 نشستوں کیلئے اور آسام میں 126 کے منجملہ 65 حلقوں کیلئے آج ووٹ ڈالے گئے ۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر سندیپ سکسینہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت مجموعی یہ انتخابات پرامن رہے اور تشدد سے متعلق ہلاکت یا زخمی ہونے کی کہیں سے کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انتخابی بدعنوانیوں ‘ ووٹ سے محروم کردینے اور رائے دہی کے تاخیر سے آغاز سے متعلق 16 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ دونوں ہی ریاستوں میں پولنگ انتہائی سخت سکیوریٹی میں منعقد ہوئی اور مرکزی نیم فوجی دستے بھی بھاری تعداد میں موجود تھے ۔ مغربی بنگال میں سکیوریٹی دستوں نے ہیلی کاپٹر سے بھی پولنگ کی نگرانی کی ۔ مغربی بنگال میں ممتابنرجی مسلسل دوسری معیاد کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں اور یہاں بھاری تعداد میں رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ یہاں 40.09 لاکھ رائے دہندوں میں 80 فیصد نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ یہ بیشتر ایسے علاقے ہیں جہاں ترنمول کانگریس کے اقتدار سے قبل ماؤیسٹوں کا زیادہ اثر تھا ۔ ترنمول نے ان کا اثر ختم کردیا ہے ۔ قبائلی جنگل محل علاقہ کی 13 نشستوں کیلئے پولنگ کو چار بجے ختم کردیا گیا ۔ سکیوریٹی وجوہات کی بنا پر ایسا کیا گیا ۔ یہاں پہلے ماؤیسٹ تشدد ہوا تھا ۔ پرولیا ‘ من بازار ‘ کاشی پور ‘ پارا اور رگھوناتھ پور حلقوں کیلئے پولنگ 6 بجے تک جاری رہی ۔ آسام میں جملہ 70 فیصد رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استافدہ کیا ۔ یہاں ترون گوگوئی کی قیادت میں کانگریس مسلسل چوتھی معیاد کیلئے کوشاں ہے ۔ ریاست میں 65 اسمبلی حلقوں کیلئے آج ووٹ ڈالے گئے اور کہیں سے بھی کسی تشدد کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ یہاں بی جے پی کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کرنے ہر ممکن جدوجہد کر رہی ہے اور سابق چیف منسٹر پرفل کمار مہنتا کی آسام گن پریشد سے مفاہمت کی ہے ۔ پارٹی یہاں مخالف حکومت لہر سے فائدہ حاصل کرنے کوشاں ہے ۔ آج کی رائے دہی میں جن اہم امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوا ہے ان میں چیف منسٹر ترون گوگوئی ‘ اسپیکر اسمبلی پرنب گوگوئی بھی شامل ہیں۔ دوسرے اہم امیدواروں میں بی جے پی وزارت اعلی امیدوار مرکزی وزیر سربانندا سونوال بھی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT