Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال کے فساد زدہ علاقوں میں فوج کا مارچ

مغربی بنگال کے فساد زدہ علاقوں میں فوج کا مارچ

پہاڑی پارٹیوں کے دارجلنگ میں جلسے، بی جے پی وفد گرفتار، فرقہ وارانہ فسادات بدبختانہ : نائیڈو

کولکتہ۔7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پولیس اور نیم فوجی فورسس نے آج مغربی بنگال کے فساد زدہ ضلع شمالی 24پرگنہ کے گڑبڑ زدہ علاقوں میں تشدد پر قابو پانے کے لیے مارچ کیا۔ حالانکہ ریاستی حکومت کے بموجب بدوریہ، سوروپ نگر، ڈیگنگا اور بشیر ہاٹ میں صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ تاہم غیر سرکاری ذرائع کے بموجب کل شام بھی بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے۔ دکانیں، بازار، اسکول بند رہے۔ ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوا۔ چیف منسٹر کی فساد زدہ علاقوں کا دورہ نہ کرنے کی اپیل کو تمام سیاسی پارٹیوں نے نظرانداز کردیا۔ بائیں بازو، کانگریس اور بی جے پی کے وفود نے اس کی کوشش کی۔ مقامی افراد اپنے گھروں تک محدود رہے۔ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ ضلعی عہدیدار کے بموجب سیاسی پارٹیوں کو فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حالانکہ نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن برہم ہجوموں نے مکانوں پر حملے کیئے اور گاڑیاں نذر آتش کی۔ بدوریہ اور مضافاتی علاقے استراب آمیز سکون کا منظر پیش کررہے تھے۔ دارجلنگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب دارجلنگ کے مختلف علاقوں میں پہاڑی پارٹیوں نے غیر معینہ مدت کا بند آج مسلسل 23 ویں دن بھی جاری رکھا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے احتجاج کے ایک حصہ کے طور پر جلسے منعقد کئے۔ گورکھا جنمکتی مورچہ نے دارجیلنگ اسٹیشن تا سنگھ ماری براہِ چوک بازار ایک جلوس نکالا اور انٹرنیٹ سرویسس کی بحالی کا مطالبہ کیا جو 18 جون سے معطل کردی گئی ہیں۔ بند کی وجہ سے غذائی اجناس کی سربراہی بری طرح متاثر ہوئی۔ دوائوں کی دکانیں، اسکول اور کالجس بند تھے۔ پولیس اور فوج سڑکوں پر گشت کررہی ہے۔ داخلے اور اخراج کے مقامات پر نگرانی رکھے ہوئے ہے۔ بدوریہ جاتے ہوئے بی جے پی کے وفد کو گرفتار کرلیا گیا۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ فرقہ وارانہ جھڑپیں بدبختانہ ہیں۔

مغربی بنگال حکومت کو چاہئے کہ ہر ایک کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت سے صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی توقع ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن موثر اقدام کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں اقلیت اور اکثریت کو ذہن میں نہیں رکھا جانا چاہئے۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ہر فرقہ ہندوستان کا ایک حصہ ہے اور ریاستی حکومت سے توقع ظاہر کی کہ وہ احتجاجیوں کے خلاف تعصب برتے بغیر کارروائی کرے گی۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی زیر قیادت ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔ دریں اثناء بی جے پی، بائیں بازو اور کانگریس کے وفود کو بدوریہ جانے سے روک دیا گیا۔اسی دوران کشیدگی سے متاثرہ بشیرہاٹ کا دورہ کرنے سے بی جے پی ، بائیں بازو اور کانگریس قائدین کو روک دیا گیا ۔ یہاں سے 80 کیلو میٹر دو واقع بشیر ہاٹ میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد اس علاقہ کا دورہ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی ، ان سیاستدانوں کو درمیان میں ہی روک دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT