Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / مغربی ملکوں نے روس اور چین کو ایک دوسرے سے قریب کردیا

مغربی ملکوں نے روس اور چین کو ایک دوسرے سے قریب کردیا

ماسکو ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) روس اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی و رفاقت اس بات کا ثبوت ہیکہ عالمی امور میں روس کو باقی ماندہ دنیا سے الگ تھلگ کردینے امریکی اور مغربی ملکوں کی پالیسی ناکام ہوگئی ہے بلکہ اس پالیسی نے روس کو چین سے بہت قریب پہنچا دیا ہے، جس کا نتیجہ ہیکہ روس اور چین اب وسط ایشیاء میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کی منصوبہ

ماسکو ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) روس اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی و رفاقت اس بات کا ثبوت ہیکہ عالمی امور میں روس کو باقی ماندہ دنیا سے الگ تھلگ کردینے امریکی اور مغربی ملکوں کی پالیسی ناکام ہوگئی ہے بلکہ اس پالیسی نے روس کو چین سے بہت قریب پہنچا دیا ہے، جس کا نتیجہ ہیکہ روس اور چین اب وسط ایشیاء میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کی منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں۔ اس ضمن میں یوروپ اور اس سے متصلہ ایشیائی علاقوں کے علاوہ سابق سوویت یونین میں اپنی نئی پالیسیاں ترتیب دینے میں ایک دوسرے کے ساتھ ربط ضبط و تعاون کریں گے۔ بالخصوص یوکرین بحران کے بعد روس ۔ چین تعلقات میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یوکران بحران پر مغربی ممالک کے برخلاف چین نے روس کی مذمت نہیں کی۔ 2014ء میں روس اور چین نے کروڑوں ارمیکی ڈالر مالیتی تیل و قدرتی گیس کے پرعزم سمجھوتوں پر بھی دستخط کئے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے مابین فوجی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ باہمی تجارت 88 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ ہمہ فریقی فورمس میں عالمی مسائل پر ان دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چین کے صدر ژی جن پنگ کے درمیان 2013ء سے تاحال کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ بالخصوص گذشتہ ماہ مئی کے دوران جرمن کے سابق نازی ڈکٹیٹر اڈلاف ہٹلر کی افواج کے خلاف روسی اتحاد کی فتح کی 70 ویں سالانہ یاد کے موقع پر پوٹن اور ژی نے ماسکو میں دو مشترکہ اعلامیے جاری کئے جن سے ان دونوں ملکوں کے نظریات میں بڑھتی ہوئی یکسانیت کی جھلک ملتی ہے۔ بالخصوص افغانستان، شام، یوکرین، ایران اور شمالی کوریا کی صورتحال پر روس اور چین کے نظریات میں بڑی حد تک یکسانیت کا اظہار ہوا ہے۔ چنانچہ دونوں قائدین نے ان انتہائی حساس و سنگین عالمی مسائل کی باہمی ربط و تعاون کے ذریعہ یکسوئی کی مساعی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی و علاقائی امن کو یقینی بنایا جاسکے۔ نازیوں پر روسیوں کے یوم فتح کے موقع پر ماسکو میں منعقدہ پریڈ میں چینی سپاہیوں نے بھی حصہ لیا اور صدر پوٹن نے یاد دلایا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ایشیاء میں فوجی تسلط کے خلاف مزاحمت کے معاملہ میں چین ہی اصل میدان جنگ تھا اور اس تاریخی لڑائی میں محاذ کے ہراول دستہ کا رول ادا کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT