Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / مغربی پاکستان کے پناہ گزین سپریم کورٹ سے رجوع

مغربی پاکستان کے پناہ گزین سپریم کورٹ سے رجوع

دستور کی دفعہ 35اے  کو چیلنج ‘ چیف جسٹس اور جسٹس کھانوکر اور جسٹس چندراچور کی سماعت

نئی دہلی ۔ 10ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی پاکستان کے بعض پناہ گزین جو ہندوستان کو ترک وطن کر کے آئے ہوئے ہیں جبکہ 1947ء میںبرصغیر کی تقسیم ہوئی تھی ‘ سپریم کورٹ سے رجوع ہوگئے ‘ وہ دستور ہند کی دفعہ 35اے کو چیلنج کررہے تھے ‘ اس کے تحت جموں و کشمیر کے مستقل شہریوں کو خصوصی حقوق اور مراعات عطا کی گئی ہیں ۔ درخواست میں کہاگیاہے کہ تقریباً تین لاکھ پناہ گزین مغربی پاکستان سے جموں و کشمیرمیں سکونت اختیار کرچکے ہیں اورانہیں ان حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ‘ جن کی طمانیت دفعہ 35Aدیتی ہے اور جو یہاں کے حقیقی شہریوں کو دیئے جاتے ہیں ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھانویکر اور جسٹس ڈی وائی چندراچور پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں کی بیک وقت سماعت کرے گی جو جموںو کشمیر کے ضلع کٹھوا میں مقیم ہیں ۔ اسی طرح کے مقدمات سپریم کورٹ کی بنچ کے اجلاس پر زیر دوران ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کی درخواست پر دفعہ 35Aکو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں کی بیک وقت دیوالی کی تعطیلات کے بعد سماعت کی جائے گی ۔ دستور کی دفعہ 35A جس کا اضافہ دستور ہند میں 1954 میں ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ کیا گیا تھا ‘ جموں و کشمیر کے حقیقی شہریوں کو خصوصی حقوق اور مراعات عطا کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ریاستی ارکان مقننہ کو کوئی بھی قانون وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے جس کو حق مساوات کو مجروح کرنے کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔ کسی بھی دوسری ریاست یا کسی بھی دوسرے علاقہ کے عوام کو دستور کے تحت ایسا چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ قبل ازیں خاتون کشمیری پنڈت ڈاکٹرچاروولی کھنہ نے سپریم کورٹ سے ربط پیدا کر کے اس دفعہ کی گنجائشوں کو چیلنج کیا تھا ۔ درخواست گذار کالی داس ان کے فرزند سنجے کمار اور ایک اور کی درخواست بنیادی ‘ فطری اور انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے پیش کی گئی ہیں جن سے وہ فی الحال محروم ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT