Monday , December 11 2017
Home / مضامین / مغرب ایشیا اور خلیج میں اڑھتی ریت

مغرب ایشیا اور خلیج میں اڑھتی ریت

ہندوستان کو سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا احتیاط سے جائزہ لینا ضروری
شیام سرن

ہندوستان کے وسطی پڑوس میں جو ایران سے ترکی تک پھیلا ہوا ہے گذشتہ ایک دہے یا اس سے بھی کچھ زیادہ وقت سے انتہائی ناگفتہ بہ حالات ہیں۔ اس علاقہ میں جو حالات پیش آ رہے ہیں وہ ہماری خارجہ پالیسی کیئلے تشویش کا باعث ہونے چاہئیں۔ چھ ملین سے زیادہ ہندوستانی باشندے خلیجی مملکتوں میں برسر کار ہیں اور یہاں سے یہ لوگ جو رقومات ہندوستان کو بھیجتے ہیں وہ ہمارے بیرونی زر مبادلہ کی آمدنی کا ایک خاطر خواہ حصہ بھی ہے ۔ یہ علاقہ ہندوستان کی توانائی ضروریات کی تکمیل کا ایک بڑے ذریعہ بھی ہے حالانکہ یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ توانائی ضروریات کو دیگر ذرائع سے بھی پورا کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور علاقہ کے دیگر ممالک کے مابین مستحکم مذہبی اور ثقافتی رشتے بھی ہیں حالانکہ خود ہندوستان میں کثیرالعقیدہ لوگ رہتے ہیں ان کے نسلی ‘ مذہبی اور ثقافتی رشتے اسی علاقے سے ملتے ہیں جو قدیم ہیں۔ یہ بات کوئی حیرت کی وجہ نہیں ہونی چاہئے کہ اس علاقے میں اگر کوئی سیاسی گہما گہمی پیدا ہوتی ہے یا معاشی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں تو اس سے ہندوستان کو کئی چیلنجس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور اس کے خطرات بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ ہمارے جو وسائل ہیں وہ جنگ کا شکار ممالک عراق اور لیبیا سے واپس آنے والے چند ہزار تاکین وطن کی ضروریات سے نمٹنے میں بھی پورے نہیں ہوسکے تھے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں ہندوستانیوں کو تنازعات کا شکار ممالک سے نکالنے اور انہیں ہندوستان واپس لانے کی ضرورت درپیش آگئی ۔

سوال یہ ہے کہ کیا ان لاکھوں ہندوستانیوں کو ان ریاستوں میں دوبارہ بسایا اور بازآباد کیا جاسکتا ہے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں ؟ ۔ کیا ان ریاستوں میں درکار صلاحیت ہے کہ وہ اس قدر کثیر تعداد میں اور غیر متوقع تارکین وطن کی آمد سے نمٹ سکیں۔ کیا ہمارے پاس ان ممالک میں رہنے اور کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کا کوئی جامع ڈاٹا بھی موجود ہے ؟ ۔ کیا ہمارے پاس ان تارکین وطن کی ریاستوں اور ان کی صلاحیتوں سے متعلق کوئی تفصیلات موجود ہیں ؟ ۔ کیا ہم نے ان اثاثہ جات اور وسائل کا جائزہ لیا ہے جو ضرورت پڑنے پر بھاری تعداد میں ہندوستانیوں کو ان ممالک سے نکال کر واپس ہندوستان لانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ؟ ۔ کیا ایسے کوئی ممالک ہیں جو اس طرح کے کام میں ہمارے معاون ہوسکتے ہیں اور انہیں بھی اسی طرح کے چیلنجس کا سامنا ہو اور وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہوں ؟ ۔ کیا ہم ایسے کچھ دوست ممالک رکھتے ہیں جو تنازعات کا شکار زون کے باہر ہمارے شہریوں کیلئے عارضی پناہ گاہ ثابت ہوسکتے ہیں اور ان ممالک سے ہم بتدریج اور منظم انداز میں اپنے شہریوں کو واپس ہندوستان لا سکیں۔ ہم نے اس مسئلہ پر نیشنل سکیوریٹی اڈوائزری بورڈ میں غور کرنا شروع کیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا یہ پتہ نہیں ہے ۔ کسی بھی حال میں یہ صورتحال فوری ترجیح کے طور پر دیکھی جانی چاہئے ۔

حال ہی میں اردن کا دورہ ہوا تھا ۔ یہ ایک نسبتا پرسکون اور مستحکم ملک ہے اور یہاں علاقہ کے مسلسل سیاسی انتشار کے اثرات محدود ہیں۔ یہ ملک صحرا میں نخلستان کی طرح ہے ۔ سرحدات کی از سر نو حد بندی ‘ نسلی ‘ فرقہ واری اور طبقہ واری اختلافات میں شدت کی وجہ سے حالیہ ماضی میں ہم جن مشکلات کا شکار ہوئے ہیں مستقبل اس سے زیادہ خطرناک اور زیادہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ علاقہ میں سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازعہ کی وجہ سے مقامی تنازعات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں سیاسی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور نسلی شناخت کا اعادہ بھی عمل میں آ رہا ہے ۔ علاقہ میں امریکہ کی فوجی موجودگی قابل لحاظ ہیں اور زیادہ انحصار بحریہ پر ہے ۔ تاہم امریکہ کا جہاں تک سوال ہے وہ زیادہ سے زیادہ بالواسطہ طریقے اختیار کر رہا ہے اور راست طاقت کے ذریعہ حالات کا حصہ بننے سے گریز کر رہا ہے ۔ حالیہ مقامی اختلافات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ شیعہ غلبہ والا ایران طاقتور بن کر ابھرا ہے ۔ شام کے بشار الاسد اب بھی اقتدار میں ہیں اور ان کی سرکاری افواج باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں خاصی پیشرفت کر رہی ہیں۔ عراق میں آئی ایس کو بالآخر شکست ہوگئی ہے اور وہ بکھر گئی ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے امریکہ نے عراق میں کردوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ اس کا ایک اور مقصد بھی یہ تھی کہ ایک نسبتا طاقتور اور شیعہ غلبہ والے تیل کی دولت سے مالا مال ایران کو دوبارہ ابھرنے سے روکا جاسکے ۔ امریکہ ایران کے ساتھ طئے پائے نیوکلئیر معاہدہ کو بھی ختم کر رہا ہے تاکہ ایران پر دوبارہ تحدیدات اور دباؤ ڈالا جاسکے ۔ شام میں بشارالاسد کی مخالف طاقتوں کیلئے قدم جمانے کوئی مقام فراہم کرنے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں تاہم ابھی تک ایسا ہو نہیں سکا ہے ۔ یہ سب کرتے ہوئے یمن میں جو سانحہ ہورہا ہے اس سے آنکھیں بند کرلی گئی ہیں ۔ سعودی عرب ‘ یمن کو پوری طرح تباہ کردینا چاہتا ہے تاکہ اس ملک میں رہنے والے شیعہ عوام ‘ سعودی عرب کے دشمن ایران کا ساتھ نہ دینے پائیں۔ یہاں فرقہ واری خطوط بڑی تیزی اور واضح انداز میں ابھر رہی ہیں اور جو ممالک کسی ایک فریق کی تائید کرنے سے گریزاں ہیں ان کیلئے بھی حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ قطر اس کی ایک واضح مثال ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی واضح ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین ایک در پردہ اتحاد بھی ہوچکا ہے ۔ یہ دونوں ہی ایران کی علاقائی بالادستی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ حال میں حماس نے غزہ میں فلسطینی اتھاریٹی سے صلح کرنے کی جو رضامندی دکھائی ہے وہ بھی سعودی عرب اور مصر کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ حماس سے اب اسرائیل کو کوئی خطرہ لاحق نہیںہوگا اور یہ اسرائیل کیلئے ایک بڑی کامیابی ہوسکتی ہے ۔ امریکہ کا جہاں تک معاملہ ہے اسے فی الحال سنی طاقتوں کے ساتھ اتحاد رکھنے میں اپنے مفادات نظر آر ہے ہیں حالانکہ اسے یہاں اپنے دیرینہ سکیوریٹی اثاثہ جات کو بچانے کیلئے مقامی سطح پر کچھ اونچ نیچ بھی کرنی پڑسکتی ہے ۔

علاقہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہی تاثر مل رہا ہے کہ موجودہ تبدیلیاں جاری رہیں گی اور یہ مزید تیزی بھی اختیار کرسکتی ہیں اور اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ مزید بحران اور علاقائی لڑائیاں بھی چھڑ سکتی ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کیلئے بہت مشکل ہوگا کہ وہ علاقہ کے بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھ سکے ۔ اردن جیسے نسبتا پرسکون ممالک پر بھی پناہ گزینوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جو جنگ زدہ علاقوں سے یہاں آنا چاہتے ہیں۔ پہلے یہاں فلسطینی آئے اور اس کے بعد عراق جنگ سے متاثرہ عوام پہونچے تھے ۔ اب شام کی جنگ کے متاثرین یہاں آ رہے ہیں۔ ایک دہے میں اردن کی آبادی چار ملین سے بڑھ کر گیارہ ملین ہوگئی ہے ۔ یہ بڑی قابل غور بات ہے کہ اس ملک نے کس طرح سے خود کو کارکرد رکھا ہے ۔ یہاں سماج کی کثیر جہتی کو بھی برقرار رکھا گیا ہے جبکہ علاقہ میں فرقہ واری خطوط زیادہ ابھرے ہیں۔ چونکہ عراق اور شام عملا تباہ کردئے گئے ہیں اور وہ سکیولر اور کثیر جہتی سماج رکھتے ہیں ایسے میں صرف اردن ایسا ملک ہے جو قدیم روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ علاقہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ ضرور یہ سبق دیتا ہے کہ تکثیری سماج کی اہمیت اور تہذیبی ورثہ کی اہمیت کتنی اہم ہے اور ہم اپنے مغربی پڑوس میں یہی کچھ رکھتے ہیں۔ اس سے جو سبق حاصل ہوتا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ہم جہاں اپنے مستقبل کے تعلق سے غور کرتے ہیں وہیں ان حالات پر بھی گہری نظر رکھی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT