Saturday , January 20 2018
Home / دنیا / مغرب کو کرہ ارض کی تباہی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا

مغرب کو کرہ ارض کی تباہی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا

لندن۔17مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے مغرب سے خواہش کی کہ کاربن کے ماضی میں اخراج سے کرہ ارض کو پہنچنے والی تباہی کی ذمہ داری قبول کرے اور تجویز پیش کی کہ اس عالمی لعنت سے نمٹنے کیلئے مغربی ممالک کو مالیہ فراہم کرنا ہوگا ۔مرکزی وزیر مملکت برائے توانائی پیوش گوئل نے کہا کہ یہ ایک عالمی لعنت ہے جو عالمی حدت اور تبدیلی ماحولیات کی شکل

لندن۔17مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے مغرب سے خواہش کی کہ کاربن کے ماضی میں اخراج سے کرہ ارض کو پہنچنے والی تباہی کی ذمہ داری قبول کرے اور تجویز پیش کی کہ اس عالمی لعنت سے نمٹنے کیلئے مغربی ممالک کو مالیہ فراہم کرنا ہوگا ۔مرکزی وزیر مملکت برائے توانائی پیوش گوئل نے کہا کہ یہ ایک عالمی لعنت ہے جو عالمی حدت اور تبدیلی ماحولیات کی شکل میں نظر آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے منصوبہ قابل تجدید توانائی کے حصول کیلئے ہیں ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے برقی توانائی ‘ کوئلہ اور نئی و قابل تجدید توانائی نے کہا کہ بلاوقفہ برقی توانائی کی ہندوستان کے شہریوں کو فراہمی یقینی بنانے میں کوئلہ اہم کردار ادا کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی طریقے دریافت کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیئے اور صاف ستھری برقی توانائی کے حصول کیلئے مالیہ مغرب کو فراہم کرنا ہوگا ۔

جس نے کرہ ارض اور اس کے ماحولیات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے حد سے زیادہ اخراج کی شکل میں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان فی کس جتنا کوئلہ خرچ کرتا ہے اتنا کوئلہ امریکہ 150سال قبل ہی خرچ کرچکا ہے اور اب صاف ستھری توانائی اور تبدیلی ماحولیات کی بات کرتے ہیں ۔ جب کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ کم لاگتی شیل گیس حاصل کی جاسکتی ہے ۔ ہندوستان کے مقاصد کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے تبدیلی ماحولیات کانفرنس سے کہا کہ پیرس میں گذشتہ سال کے اوآخر میں شریک ممالک نے فیصلہ کیا تھا کہ برقی توانائی کا تحفظ موزوں کا سب سے بڑا پہلو ہوگا ۔ ہندوستان واجبی قیمت میں روزانہ 24گھنٹے برقی توانائی سربراہ کرنے کا پابند ہے اور اس کیلئے ہمیں برقی توانائی کے لحاظ سے محفوظ ہندوستان تشکیل دینا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ اس لئے جب ہم قابل تجدید توانائی ایک مخصوص رقم خرچ کرنے پر زور دیتے ہیں تو ہم پانی سے برقی توانائی پیدا کرنے کی خواہش نہیں کرسکتے ۔ اگر ہمیں کوئی سستا ذریعہ جیسے شیل گیس متبادل کے طور پر حاصل ہوسکتا تو ہم بھی مکمل طور پر کوئلہ کے استعمال کو ترک کرنے کی بات کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں انہیں اوورسیز فرینڈس آف بی جے پی نے’’ بہت کچھ کیا جاچکا ہے لیکن بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے ‘‘ کے موضوع پر تقریر کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ گوئل نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ آخر کار مودی حکومت کے پہلے سال میں اس کی کارکردگی کیسی رہی ‘ ہم نے نمایاں محکمہ جاتی بہتری مختلف شعبوں میں پیدا کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT