Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / مغل شہنشاہ غدار تھے ، باپ کو قید کرنے والے نے تاج محل بنوایا تھا

مغل شہنشاہ غدار تھے ، باپ کو قید کرنے والے نے تاج محل بنوایا تھا

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کوئی نہیں روک سکتا ، بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم کی زہر افشانی
میرٹھ ۔16 اکٹوبر۔( سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم نے ایک نیا تنازعہ پیدا کرتے ہوئے تاریخ میں تاج محل کے مقام پر سوال اُٹھایا اور تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ( تاج محل ) ایک ایسے شہنشاہ نے بتایا ہے جس نے اپنے باپ کو قید کیا تھا اور ہندوؤں کو نشانہ بنایا تھا ۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی شریک حیات ممتاز محل کی یاد میں تاج محل بنایا تھا اور زندگی کے آحری حصہ میں اس کے ایک بیٹے اورنگ زیب نے قید کردیا تھا ۔ اُترپردیش کے ضلع میرٹھ کے دورہ کے موقع پر بی جے پی کے سردھانا رکن اسمبلی نے مغل شہنشاہوں بابر ، اکبر اور اورنگ زیب کو ’غدار‘ قرار دیا اور کہا کہ تاریخ کے صفحات سے ان کے ناموں کو مٹادیا جائے گا ۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے سیاحت کے سرکاری کتابچہ سے تاج محل کو نکال دیئے جانے کے بعد سنگیت سوم نے یہ تبصرہ کیا ہے اور کہاکہ ’’کئی افراد کو دکھ ہوگا کہ تاج محل کو تاریخی مقامات کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ کس قسم کی تاریخ ہے ؟ ‘‘ ۔ سنگیت سوم نے تاریخ سے لاعلمی کی بنیاد پر کہا کہ ’’کیا یہی تاریخ ہے کہ ایک ایسے شخص نے تاج محل بنوایا جس نے اپنے ہی باپ کو قید کردیا تھا؟ کیا آپ اس کو تاریخ کہیں گے جب ایک شخص جس نے تاج محل بنوایا تھا اُس نے اُترپردیش اور ہندوستان میں ہندوؤں کو نشانہ بنایا تھا ‘‘ ۔ تاریخ سے نابلد اور بے لگام بی جے پی رکن اسمبلی نے موضع سیسولی میں آٹھویں صدی کے راجہ اننگ پال سنگھ تومر کے مجسمہ کی نقاب کشائی کے بعد خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ ہندوستان پر قبضہ کرنے والوں کی تاریخ میں عظمت بیان کی گئی ہے ۔ سوم نے کہاکہ اسکو لوں اور کالجوں میں مہارانا پرتاب سنگھ اور شیواجی جیسے حقیقی عظیم شخصیات کی حیات اور کارناموں کا درس دیا جائے گا ۔ انھوں نے کہاکہ ایسے کئی ہندو راجہ ہیں جن کا تایخ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے چنانچہ بی جے پی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان کی بہادری اور قربانیوں کا مناسب احترام کیا جائے۔ سنگیت سوم نے مزید کہا کہ ’’ایودھیا میں رام مندر اور متھرا میں کرشنا مندر کی تعمیر کو اب کوئی نہیں روک سکتا ‘‘ ۔ سنگیت سوم کیلئے تنازعات کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔ ماضی میں بھی وہ گائے کا گوشت گھر میں رکھنے کے شبہ پر دادری میں ایک شخص ( اخلاق) کو جنونی ہجوم کے ہاتھوں مار مارکر ہلاک کرنے ، مظفرنگر فسادات جیسے مسائل پر اپنے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات کے سبب سرخیوں میں چھائے رہے ہیں۔ سیاحتی کتابچہ پر تنازعہ پیدا ہونے کے بعد حکومت اُترپردیش نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوپئے کہاکہ ’’370 کروڑ روپئے مالیتی سیاحتی پراجکٹس تجویز کئے گئے ہیں جن کے منجملہ 156 کروڑ روپئے آگرہ میں تاج محل اور اس کے اطراف کے علاقوں کے لئے محتص کئے گئے ہیں‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT