Sunday , June 24 2018
Home / ہندوستان / مفتی الیاس کا بیان بے بنیاد، متفقہ مذمت

مفتی الیاس کا بیان بے بنیاد، متفقہ مذمت

لکھنؤ /20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جمعیۃ العلماء ہند کے قائد مفتی محمد الیاس کا مبینہ بیان کہ لارڈ شیوا مسلمانوں کے پہلے پیغمبر تھے کی کل ہند سنی و شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈس اور دیگر علمائے دین نے متفقہ طورپر مذمت کی اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔ رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ یہ بیان بے بنیاد ہے اور اس سے ایک ب

لکھنؤ /20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جمعیۃ العلماء ہند کے قائد مفتی محمد الیاس کا مبینہ بیان کہ لارڈ شیوا مسلمانوں کے پہلے پیغمبر تھے کی کل ہند سنی و شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈس اور دیگر علمائے دین نے متفقہ طورپر مذمت کی اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔ رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ یہ بیان بے بنیاد ہے اور اس سے ایک بڑی سازش کا اشارہ ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی مذہبی صحیفہ یا تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا کہ لارڈ شیوا مسلمانوں کے پہلے پیغمبر تھے۔ ہندو دھرم بھی اس نظریہ کی تائید نہیں کرتا، کیونکہ وہ پیغمبری کے اصول کو ہی نہیں مانتا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام تھے اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تمام مذاہب کے اوتاروں کا احترام کرتے ہیں، لیکن جب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت آدم پہلے پیغمبر تھے تو مفتی الیاس کا بیان ناقابل قبول ہے۔ شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ اس بیان کا مقصد سستی شہرت حاصل کرنا ہے اور یہ انتشار پسند طاقتوں کی ایما پر دیا گیا ہے۔

نامور شیعہ قائد نے کہا کہ اب اس ملک کی ترقی کو اگلی سطح تک لے جانے کا وقت آگیا ہے اور اس قسم کے بیانات نہ صرف ماحول کو زہریلا بنادیں گے، بلکہ ترقی میں تھی رکاوٹ بنیں گے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے معتمد عمومی مولانا نظام الدین نے اس بیان پر تبصرہ کی خواہش پر کہا کہ ان کے خیال میں یہ بیان تبصرہ کے قابل بھی نہیں ہے۔ مفتی الیاس نے ایودھیا میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ شیوا اسلام کے پہلے پیغمبر ہیں۔ ہم ہندوستانی مسلمان اسلام کے پیرو ہیں اور اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن روایتی طورپر ہم ہندو ہیں، لیکن اس بیان پر شور و غل کے بعد جمعیۃ العلماء ہند نے اپنی اتحاد کانفرنس جو 27 فروری سے بلرامپور (یو پی) میں مقرر تھی، نقص امن کے اندیشہ سے منسوخ کردی ہے۔ ایودھیا اور دیگر مقامات کے مذہبی قائدین اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے تھے، لیکن مفتی الیاس کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے پورے ملک کے اتحاد و امن کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ صدر ضلع جمعیۃ العلماء جو کانفرنس کے کنوینر ہیں، زبیر احمد نے بلرامپور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی الیاس کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ جمعیۃ العلماء ہند ایک شہرہ آفاق تنظیم ہے، اس کا اس بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مفتی الیاس جمعیۃ العلماء کے رکن بھی نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT