Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / مفتی سعید کی مکمل آزادی کو نیشنل کانفرنس کی تائید

مفتی سعید کی مکمل آزادی کو نیشنل کانفرنس کی تائید

نئی دہلی ۔ 25 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی تشکیل حکومت کیلئے غیر مشروط تائید کی تھی۔ اس کا ارادہ تھا کہ مفتی محمد سعید کو ’’آزادانہ فیصلے‘‘ بحیثیت چیف منسٹر کرنے کا موقع دیا جائے جبکہ قومی پارٹی سے اتحاد کی صورت میں پی ڈی پی پر ’’دباؤ‘‘ رہتا۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے تاہم اس

نئی دہلی ۔ 25 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی تشکیل حکومت کیلئے غیر مشروط تائید کی تھی۔ اس کا ارادہ تھا کہ مفتی محمد سعید کو ’’آزادانہ فیصلے‘‘ بحیثیت چیف منسٹر کرنے کا موقع دیا جائے جبکہ قومی پارٹی سے اتحاد کی صورت میں پی ڈی پی پر ’’دباؤ‘‘ رہتا۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے تاہم اس امکان کو مسترد کردیا کہ ان کی پارٹی نے ایسا اشارہ اس لئے تھا کہ وہ ریاست کی برسر اقتدار پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے پر مجبور کردے۔ پہلی بار پی ڈی پی کی تائید کرنے کے نیشنل کانفرنس کے فیصلے کے بارے میں اپنی خاموشی ختم کرتے ہوئے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت تشکیل دینے کیلئے ایک ایسی پارٹی کی ساتھ اتحاد جو ملک گیر سطح پر اپنی موجودگی رکھتی ہو، پی ڈی پی کیلئے ایک بوجھ ہے۔ اس وقت ہمیں 6 سال کے لئے حکومت تشکیل دینے کی کوئی خواہش نہیں تھی کیونکہ ہم 6 سال تک ریاست میں برسر اقتدار رہ چکے تھے۔ ہم نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے مفاد اور مرکز کو اپنے پیش نظر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قومی پارٹی چاہے وہ کانگریس ہو یا بی جے پی جموں و کشمیر کے کسی ایک انتخابی حلقہ سے کامیابی حاصل کرتی ہے تو آپ اس سے اتحاد کرنے کی خواہش کرتے ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے آپ پر مسلط کرتی ہے اور اس کے اثرات باقی ملک پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کو ہماری تائید کا پیشکش صرف ریاستی حکومتوں سے اس دباؤ کے خاتمہ کیلئے تھا جو مفتی محمد سعید کی بحیثیت چیف منسٹر کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ریاست کے مفاد میں اپنے فیصلے کرنے کیلئے آزاد ہوں ۔ ان کو اس بات کا خوف نہ ہوں کہ باقی ملک پر ان کا کیا اثر مرتب ہوگا۔ انتحابات کے بعد ایک معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی ۔ نیشنل کانفرنس کو 15 نشستیں حاصل ہوئی تھیں اور اس نے پی ڈی پی کو 87 رکنی ایوان اسمبلی میں غیر مشروط تائید کی پیشکش کی تھی ۔ پی ڈی پی کو 28 نشستیں حاصل تھیں۔ اس سوال پر کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد ٹوٹ جانے پر کیا وہ دوبارہ پی ڈی پی کی تائید کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ ایساکچھ نہیں ہوگا۔ ہم دوبارہ عوام کے سامنے جائیں گے۔ پی ڈی پی کو نیشنل کانفرنس کی تائید حاصل کرنے کا ایک موقع حاصل ہوا تھا لیکن اس نے اس کو مسترد کردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT