Saturday , July 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / مفتی کا فتویٰ اور عدالت کا فیصلہ

مفتی کا فتویٰ اور عدالت کا فیصلہ

مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر

مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر

ہندوستان میں روز بہ روز مسلم دشمنی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غیر مسلم شدت پسندوں کے سینوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت، بغض و عناد کے لاوے پھوٹ رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو متہم اور اسلام کو مشکوک کرنے کے لئے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ قانونی اور غیر قانونی، ہر طریقے سے اور ہر سطح پر اسلام دشمنی کے جذبات ظاہر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں میڈیا میں ایک شرانگیز خبر منظر عام پر آئی کہ سپریم کورٹ میں فتووں پر روک لگانے اور دارالافتاء و دارالقضاء کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ایک رٹ داخل کی گئی اور دارالافتاء و دارالقضاء کو ہندوستان میں عدالتی نظام کے تقابل میں ایک متبادل نظام عدالت سے تعبیر کیا گیا، جو بالکل جہالت اور شرارت پر مبنی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان فتویٰ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ انفرادی طورپر بھی اس کا احترام کرتے ہیں اور اختلافی صورت میں بھی فتویٰ کے مطابق تصفیہ و مفاہمت کرتے ہیں، کیونکہ آخرت میں کامیابی و کامرانی شریعت کے مطابق عمل کرنے میں ہے اور فتویٰ حکم شریعت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب مفتی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے تو وہ قرآن و سنت، اجماع اور قیاس کی روشنی میں کتب فقہ اور فتاووں کی مدد سے دریافت شدہ مسئلہ میں حکم شریعت کو ظاہر کرتا ہے اور حکم شریعت معلوم ہونے کے بعد اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ وہ فتویٰ پر عمل نہ کرے یا تسلیم کرنے سے انکار کردے تو دنیا میں اگرچہ اس کی گرفت نہیں کی جاسکے گی، لیکن آخرت میں وہ ضرور ماخوذ ہوگا۔ اگر کسی جدید پیش آمدہ مسئلہ میں کوئی دلیل شرعی موجود نہ ہو تو مفتی اپنی فقہی جستجو کی روشنی میں اپنی رائے کو ظاہر کرے گا۔

عہد رسالت ہی سے فتویٰ کی اہمیت مسلم رہی ہے اور وہ قرآن مجید و حدیث سے ماخوذ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’وہ آپ سے عورتوں سے متعلق استفتاء (مسئلہ دریافت) کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالی ان سے متعلق فتویٰ دے گا‘‘ (سورۃ النساء۔۱۲۷) ’’وہ لوگ آپ سے فتویٰ (شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں، فرما دیجئے کہ اللہ تمھیں ’کلالہ‘‘ (جس کے ماں باپ اور اولاد نہ ہو، اس کی وراثت) کے بارے میں فتوی دیتا ہے‘‘۔ (سورۃ النساء۔۱۷۶)

آپﷺ جس طرح رسول و نبی ہونے کے ساتھ حاکم، کمانڈر مقنن وغیرہ ہیں، اسی طرح آپﷺ فتویٰ بھی صادر فرماتے تھے، یعنی امت پر جو احکام پوشیدہ ہوتے، اس کو آپ ظاہر فرماتے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن) کو نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ (احکام و پیغام کو) خوب واضح کردیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں‘‘۔ (سورۃ النحل۔۴۴)

سائل و مستفتی کی جانب سے کسی مسئلہ کی وضاحت سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر ادلۂ شرعیہ کی روشنی میں دیئے جانے والے جواب کو فتویٰ کہتے ہیں اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی نظیریں ملتی ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ’’وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں، آپ فرما دیجئے…‘‘ (سورہ البقرہ۔۲۱۵) ’’وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے…‘‘۔ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ فرمادیجئے کہ جو ضرورت سے زائد ہو‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۱۹) ’’وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرمادیجئے…‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۲۰) ’’وہ آپ سے چاند سے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرمادیجئے…‘‘ (سورۃ البقرہ۔۱۸۹) ’’وہ آپ سے روح کے بابت سوال کرتے ہیں، آپ فرمادیجئے…‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل۔۸۵)

متذکرہ آیات قرآنی سے واضح ہے کہ فتویٰ دینا یعنی لوگوں کے سوال پر شریعت کے حکم کو بیان کرنا نبوت کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے اور اس امت میں ایک جماعت کا تفقہ فی الدین حاصل کرنا اور امت کو پیش آمدہ مسائل میں ان کی شریعت کی روشنی میں رہبری کرنا فرض کفایہ ہے۔ اگر اس امت کے اپنے اپنے علاقہ میں ایسے افراد تیار نہ ہوں، جو اس فریضہ کو ادا کرنے کے اہل ہوں تو سارے لوگ ماخوذ ہوں گے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’تو ان میں سے ایک گروہ میں سے ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں، تاکہ وہ (گناہ و نافرمانی) سے بچیں‘‘ (سورۃ التوبہ۔۱۲۲) اور امت کو حکم ہے کہ جب وہ حکم شریعت سے واقف نہ ہوں تو اہل علم سے اس کے متعلق سوال کیا کریں۔ ’’تم اہل ذکر (علم) سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں معلوم نہ ہو‘‘۔ (سورۃ النحل۔۴۳)

فتویٰ ایک اہم فریضہ اور نہایت گرانمایہ ذمہ داری ہے، اس کے لئے فقہی بصیرت، اعلی درجہ کی عقل، اونچے درجہ کی فہم، غیر معمولی علم، خصوصی تربیت کے ساتھ حالات زمانہ پر گہری نظر درکار ہوتی ہے۔ سیکڑوں علماء میں بہت کم افتاء کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تمام کے تمام عادل و ثقہ ہیں۔ ان کی حجت ایمان و احسان ہے۔ ان میں بعض فوجی قیادت میں مشہور ہوئے، بعض روایت حدیث میں، بعض قراء ت قرآن میں، بعض زہد و ریاضت میں اور ان میں بعض صحابہ اہل افتاء مشہور ہوئے، جن میں خلفائے راشدین، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سرفہرست ہیں۔

فقہ اسلامی میں فتویٰ کے ساتھ ایک اور اصطلاح عام ہے، جس کو ’’قضاء‘‘ یعنی حاکم عدالت کا فیصلہ کہتے ہیں۔ مفتی کے فتویٰ اور قاضی (جج) کے فیصلہ میں فرق اظہر من الشمس ہے، حتی کہ ادنی سی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کے لئے بھی کوئی دشواری نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ فتویٰ میں سائل کے سوال کو شرعی اعتبار سے جانچا جاتا ہے اور اسی کے مطابق اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ سوال کے صحیح ہونے یا غلط بیانی پر مبنی ہونے سے مفتی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ سوال کی تحقیق و تفتیش، سائل کی ردوقدح کا پابند نہیں، اسی لئے فتاویٰ میں ’’صورت مسئول عنہا، بشرط صحت سوال، در صورت صداقت مستفتی، در صورت صدق بیان مستفتی، حسب صراحت سوال، مذکورہ در سوال صورت‘‘ یا ’’مذکور السوال صورت میں‘‘ جیسے جملوں کا اکثر اوقات استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن عدالتی فیصلہ میں درخواست کی تنقیح، درخواست گزار کی تفتیش، مدعا علیہ، گواہان اور دیر ثبوت و شواہد کی جانچ و تفتیش اور ان کے دلائل بیانات کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مستفتی غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے فتویٰ حاصل کرلیتا ہے تو بعد ازاں فریق مخالف حقیقت تحریر کرکے فتویٰ حاصل کرتا ہے۔ مفتی ان دو فتووں میں سے کسی ایک کو صحیح اور کسی دوسرے کو غلط قرار نہیں دیتا، بلکہ وہ کہتا ہے کہ دونوں جوابات صحیح ہیں، البتہ کونسا سوال حقیقت پر مبنی ہے وہ عدالت فیصلہ کرے گی، دارالافتاء یا دارالقضاء نہیں۔

دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ مفتی فتویٰ جاری تو کرتا ہے، لیکن اس کو قوت نافذہ حاصل نہیں کہ وہ فتویٰ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں نہ حبس و قید کرسکتا ہے اور نہ ہی سزا دے سکتا ہے۔ اس کے برخلاف حاکم عدالت کے فیصلہ کو قبول نہ کرنا یا اس پر عمل آوری نہ ہونے کی صورت میں عدالت اس کی سرزنش کرسکتی ہے اور اس کو سزا بھی دے سکتی ہے۔

مخفی مباد کہ اسلامی ملک میں دارالافتاء کو عدالت کا درجہ حاصل نہیں، وہاں علحدہ مستقبل عدالتیں قائم ہیں، چہ جائیکہ ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک میں دارالافتاء کو متبادل نظام عدالت کا درجہ حاصل ہو۔
چند سال قبل حیدرآباد میں پٹاخوں کی تیاری میں قرآن مجید کے اوراق استعمال کئے گئے تھے، جس کی خبر عام ہونے سے کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور مقامی پولیس اسٹیشن میں کیس درج ہوا تھا۔ متعلقہ انسپکٹر متنازعہ اوراق قرآنی آیات ہیں یا نہیں تصدیق کرنے کے لئے آیا اور انتظار کرنے لگا۔ اجلاس میں اژدھام تھا، کوئی طلاق و خلع کے مسائل پوچھ رہا ہے، کوئی جائداد کے جھگڑوں کو حل کرکے جا رہا ہے، کوئی تجارتی نزاعات میں تصفیہ کے بعد لوٹ رہا ہے۔ چند لمحوں میں پیچیدہ مسائل کے حل دیکھ کو وہ بہت متاثر ہوا اور مجھ سے کہنے لگا کہ پہلی مرتبہ مجھے معلوم ہوا کہ جامعہ نظامیہ پولیس اور عدالت کی کس حد تک مدد کر رہا ہے۔ اگر دیگر مسلمان بھائی بھی اپنے مسائل اور اختلافات میں دارالافتاء جامعہ نظامیہ سے رجوع ہوں تو وہ پولیس اور عدالت کی چکروں سے بچ جائیں گے۔ ان کا وقت، پیسہ اور عزت بھی محفوظ رہے گی اور تصفیہ بھی ہو جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT