Saturday , August 18 2018
Home / ہندوستان / مفرور دھوکے بازوں کے اثاثے قرق ، فروخت کرنے کا بِل لوک سبھا میں پیش

مفرور دھوکے بازوں کے اثاثے قرق ، فروخت کرنے کا بِل لوک سبھا میں پیش

نیرؤ مودی جیسے ملزمین کیخلاف کارروائی کی راہ ہموار کرنے حکومت کی سعی ۔ قانون کی حکمرانی کی تصدیق اور بینک شعبے کو بچانا مقصد

نئی دہلی 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج ایک بل پیش کیا جو مفرور دھوکے بازوں اور قرض نادہندگان سے بقایا جات کی وصولی کے سلسلہ میں اُن کے تمام اثاثوں کو قرق کرلینے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ مفرور معاشی مرتکبین سے متعلق بِل 2018 کا مقصد نیرؤ مودی جیسے بھگوڑوں کے اثاثے قرق کرکے اُنھیں فروخت کرنا ہے تاکہ اُن کی جانب سے واجب الادا رقومات کی پابجائی کی جاسکے۔ نیرؤ پر الزام ہے کہ وہ پنجاب نیشنل بینک میں لگ بھگ 11,700 کروڑ روپئے کے فراڈ کے پس پردہ کارفرما ہے۔ یہ قانون کا اُن تمام خاطیوں پر اطلاق ہوگا جو زائداز 100 کروڑ روپئے باقی ہیں اور ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ لوک سبھا میں پیش کردہ بِل میں گنجائش ہے کہ ہندوستان میں قانون سے بچتے ہوئے معاشی جرائم کے ارتکاب کے بعد فرار ہوجانے والوں کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اِس طرح کے خاطی ہندوستانی عدالتوں کے دائرہ کار سے خود کو ہمیشہ دور رکھنے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔ چنانچہ اِس بل کا بنیادی مقصد ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کی تصدیق کا تحفظ ہے اور متعلقہ معاملوں میں ضروری کارروائی کے لئے گنجائشیں فراہم کرنا ہے۔ اِس بِل کے مقاصد اور وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے کئی معاملے پیش آچکے ہیں جن میں معاشی جرائم کے مرتکب عناصر ہندوستانی عدالتوں کے دائرہ کار سے نکل چکے ہیں کیوں کہ اُنھیں اندیشہ لاحق ہوگیا تھا کہ کسی بھی وقت اُن کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کے خاطی ہندوستانی عدالتوں سے بچ جانے کے نتیجہ میں کئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں جیسے فوجداری مقدمات میں تحقیقات اڑچنیں آتی ہیں، عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کی وقعت گھٹ جاتی ہے۔ مقاصد و وجوہات کے بیان میں مزید کہا گیا کہ معاشی جرائم کے زیادہ تر معاملوں میں بینکس سے لئے گئے قرضوں کی عدم ادائیگی کا عنصر شامل ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے بینک شعبہ کی اقتصادی صحت ابتر ہوتی جاتی ہے۔ قانون میں موجودہ دیوانی اور فوجداری دفعات اِس مسئلہ کی سنگینی سے نمٹنے کے لئے ناکافی ہے۔ چنانچہ اِس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے اور ایسے معاشی جرائم کے سدباب کی کوشش کے طور پر اس قانون سازی کی تجویز پیش کی جارہی ہے تاکہ یقینی ہوجائے کہ مفرور معاشی مرتکبین ہندوستان کو واپس ہوکر قانون کی مطابقت میں کارروائی کا سامنا کریں۔ مجوزہ بِل کے مطابق مفرور معاشی خاطی کی صراحت ایسے فرد کے طور پر کی گئی ہے جو کوئی ایسے معاشی جرم میں ملوث ہوا ہے جس کا تعلق 100 کروڑ روپئے یا اُس سے زائد کی رقم سے ہو اور وہ ہندوستان سے فرار ہوجائے یا فوجداری مقدمہ کا سامنا کرنے کے لئے وطن واپسی سے انکار کردے۔ ایسے معاملوں میں قانون گنجائش فراہم کرتا ہے کہ حکام مفرور عناصر سے تعلق رکھنے والی املاک کو قرق کرلیں اور اُن کی واجب الادا رقم کو ادا کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ یہ بِل متعلقہ حکام کو ایسے اشخاص کی جائیدادوں ، اثاثوں وغیرہ کی تلاشی کے اختیارات بھی فراہم کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT