Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مقامی جماعت نے مرہٹوں اور مسلمانوں کیلئے تحفظات کا بیڑہ اٹھایا

مقامی جماعت نے مرہٹوں اور مسلمانوں کیلئے تحفظات کا بیڑہ اٹھایا

لیکن تلنگانہ اسمبلی میں سیاسی خاموشی معنی خیز‘ تحفظات کے مستحق مسلمانوں میں مایوسی
حیدرآباد ۔ 14۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ تلنگانہ میں مسلم تحفظات کیلئے مہم دن بدن شدت اختیار کرتی جارہی ہے، حیدرآباد کی سیاسی جماعت مجلس نے مہاراشٹرا میں مراٹھا طبقہ کو تحفظات فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ اس سلسلہ میں آج ناگپور میں ودھان سبھا کے قریب مہا مورچہ کا اہتمام کیا گیا۔ مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے مجلس کے ارکان اسمبلی امتیاز جلیل اور وارث پٹھان کے علاوہ مقامی مجلس قائدین اور مراٹھا قائدین نے شرکت کی۔ اس احتجاج کیلئے ایک کور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں مراٹھا طبقہ کے نمائندوںکو شامل کیا گیا ہے۔ کور کمیٹی نے حکومت مہاراشٹرا کو جو مطالبات پیش کئے ہیں، اس میں مسلم اور مراٹھا طبقہ کو تحفظات، مہاراشٹرا میں مکمل نشہ بندی اور وقف بورڈ کی تشکیل جیسے مطالبات شامل ہیں۔ تلنگانہ میں انتخابات سے قبل چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار کے دیڑھ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اس وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ 12 فیصد تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے روزنامہ سیاست کی جانب سے ایک غیر سیاسی تحریک کا آغاز کیا گیا ہے جس میں ریاست کے مسلمانوں میں شعور بیداری میں اہم رول ادا کیا۔ شہر اور اضلاع میں عوامی نمائندوں کو یادداشت کی پیشکشی کے بعد دوسرے مرحلہ میں عام جلسوں ، ریالیوں اور زنجیری بھوک ہڑتال کا آغاز کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعت کو چاہئے تھا کہ وہ کھل کر اس مطالبہ کے حق میں مہم چلاتی۔ برخلاف اس کے حکومت سے مبینہ خفیہ مفاہمت کے سبب اس مطالبہ پر مسلم جماعت خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کی صورت میں سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا۔ ایک طرف حکومت نے ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کردیا ہے تو دوسری طرف 12 فیصد مسلم تحفظات کے بارے میں ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کی تکمیل کے بعد تحفظات کے اعلان کی صورت میں مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا لہذا شہر اور اضلاع میں مسلمانوں نے سیاسی اور مسلکی وابستگی سے بالاتر ہوکر متحدہ طور پر جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ مسلمانوں کا احساس ہے کہ آنے والی نسلوں کے تابناک مستقبل سے مربوط اس وعدہ کی تکمیل کیلئے مسلم سیاسی جماعت کو سیاسی مصلحت سے اوپر اٹھ کر ملی مفاد کے جذبہ کے تحت کام کرنا ہوگا ۔ مہاراشٹرا میں مراٹھا طبقہ کو تحفظات کیلئے احتجاج کا اہتمام کرنا دراصل اس ریاست میں سیاسی طور پر مضبوط ہونے کی کوشش ہے۔ کاش اسی طرح کی جدوجہد تلنگانہ میں 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کیلئے کی جاتی۔ اطلاعات کے مطابق ناگپور کور کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی ، معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ مسلمانوں اور مراٹھا طبقہ کو تحفظات فراہم کئے جائیں۔ کور کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ 2005 ء میں قائم کردہ راجندر سچر کمیٹی نے مسلمانوں کو تحفظات کی سفارش کی ہے ۔ اس کے علاوہ محمود الرحمن کمیٹی نے بھی اقلیتوں کو تحفظات کی سفارش کی۔ وہاں مورچہ میں کور کمیٹی کے قائدین ایڈوکیٹ ولاس ڈونگرے (ناگپور) پنڈت بورڈے (اورنگ آباد) ، ابراہیم علی ابو (ناندیڑ) ، ڈاکٹر عبدالغفار کدری ، مولانا محفوظ رحمن فاروقی، انجم انعامدار ، ایڈوکیٹ محمد علی شیخ ، سلمان حق اور سید معین مختار اور دوسروں نے شرکت کی۔ کور کمیٹی نے مہاراشٹرا میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے مطالبات پیش کئے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ مسلم جماعت تلنگانہ میں بھی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کو روکنے کیلئے اسی طرح کی جدوجہد کرتی۔ اس طرح مہاراشٹرا میں مراٹھا طبقہ کو تحفظات اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسی طرح کی دلچسپی تلنگانہ میں بھی دکھائی جاتی تو بہتر ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT