Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مقامی سیاسی جماعت اپنے داغ دھونے میں مصروف

مقامی سیاسی جماعت اپنے داغ دھونے میں مصروف

اترپردیش ، مہاراشٹرا میں مسلم ووٹ تقسیم کرواکر اب حیدرآباد میں اپنی ساکھ بچانے کوشاں
حیدرآباد۔17 مارچ (سیاست نیوز) اترپردیش میں مسلمانوں کے ووٹ کی تقسیم کا داغ دھونے کے لیے مقامی سیاسی جماعت نے دوبارہ عوام کے درمیان پہنچ کر اپنی ساکھ بچانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اترپردیش اور مہاراشٹرا میں پوری شدت کے ساتھ الترتیب اسمبلی اور بلدی انتخابات میں حصہ لینے کے باوجود مقامی جماعت کو شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا جس کا منفی اثر تلنگانہ کے مسلم عوام پر پڑا ہے۔ دونوں ریاستوں میں بھی نتائج کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ اگر ان ریاستوں کے لیے غیر مقامی یہ جماعت سیاست میں حصہ نہ لیتی تو مسلم ووٹ کی تقسیم سے بچا جاسکتا تھا۔ بلدی انتخاب میں پارٹی کے فلور لیڈر نے تین ہفتوں تک مسلسل قیام کرتے ہوئے مہم چلائی جبکہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں 36 نشستوں کے لیے پارٹی کے صدر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ طوفانی مہم چلاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ رائے دہندے ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن جب دونوں جگہ کے نتائج منظر عام پر آئے تو سوائے رسوائی اور مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں لگا۔ مہاراشٹرا اور اترپردیش کے مقامی مسلمان اس بات پر ناراض ہیں کہ مقامی جماعت نے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے مسلم نمائندگی کو کم کردیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور اترپردیش اسمبلی میں مسلم نمائندگی کافی حد تک گھٹ چکی ہے جس کے لیے حیدرآباد کی سیاسی جماعت کو ذمہ دار قراردیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں اخبارات اور سوشل میڈیا پر تجزیاتی تبصرے اور مضامین شائع ہورہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی سکیولر جماعتوں نے اترپردیش کے نتائج کے بعد مقامی جماعت سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سکیولر اور مسلم ووٹ کی تقسیم سے بچاجاسکے۔ تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوچکی ہے کہ حلیف جماعت کے ساتھ دوستی اس کے لیے آئندہ انتخابات میں کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوگی۔ مسلم ووٹ کی تقسیم کا داغ اس قدر گہرا ہے کہ مقامی جماعت کی قیادت نے عوام میں پھیلی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے اپنے عوامی نمائندوں کو متحرک کردیا ہے۔ ( سلسلہ صفحہ 8 پر )

TOPPOPULARRECENT