Tuesday , January 23 2018
Home / ہندوستان / مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ‘ سنگھ کے اخبار میں نقشہ

مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ‘ سنگھ کے اخبار میں نقشہ

نئی دہلی 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آر ایس ایس کے ترجمان اخبار ’ آرگنائزر ‘ کے تازہ شمارہ میں مسخ شدہ ہندوستانی نقشہ کی اشاعت پر راجیہ سبھا میں ارکان نے شدید احتجاج درج کروایا ۔ اس نقشہ میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستانی علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔ احتجاجی ارکان نے یہ جاننا چاہا کہ آیا حکومت نے اس نقشہ کو منظوری دیدی ہے ؟

نئی دہلی 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آر ایس ایس کے ترجمان اخبار ’ آرگنائزر ‘ کے تازہ شمارہ میں مسخ شدہ ہندوستانی نقشہ کی اشاعت پر راجیہ سبھا میں ارکان نے شدید احتجاج درج کروایا ۔ اس نقشہ میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستانی علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔ احتجاجی ارکان نے یہ جاننا چاہا کہ آیا حکومت نے اس نقشہ کو منظوری دیدی ہے ؟ ۔ حالانکہ پشیمانی کا شکار حکومت نے اس معاملہ کی تحقیقات کا تیقن دیا اور کہا کہ جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ آر ایس ایس یا بی جے پی کے موقف کی تائید نہیں کرتا لیکن قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد کی قیادت میں ارکان نے اس مسئلہ پر حکومت کو مکمل دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور کردیا ۔

آرگنائزر کے تازہ ترین شمارہ میں جنوبی ایشیا کا نقشہ شائع کیا گیا ہے جس میں جموں و کشمیر کے ایک حصے کو پاکستانی علاقہ کے طور پر دکھایا گیا ہے ۔ حالانکہ اخبار کے آن لائین ایڈیشن سے فوری طور پر اس نقشہ کو حذف کردیا گیا لیکن 15 مارچ کے پرنٹ ایڈیشن میں اس نقشہ میں مقبوضہ کشمیر کو پڑوسی ملک کا حصہ قرار دیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا تاج ہے اور اس تاج کو برقرار رکھنے کیلئے کئی قربانیاں دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بیرونی میگزین میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دینے پر آر ایس ایس اور بی جے پی نے شدید احتجاج کیا تھا لیکن انہوں نے آرگنائزر میں اس کی اشاعت پر سوال کیا کہ آیا حکومت اس کو قبول کرتی ہے ؟ ۔ حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وزیر ٹیلیکام روی شنکر پرساد نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور آرگنائزر میں اس مضمون کی اشاعت کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقشہ سنگھ پریوار یا بی جے پی یا پھر حکومت کے موقف کا عکاس نہیں ہے ۔ ان کی وضاحت پر اپوزیشن نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔اپوزیشن نے یہ جاننا چاہا کہ حکومت نے اخبار کے ایڈیٹر یا مضمون نگار کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ نقشہ ایک مضمون میں شائع کیا گیا ہے ۔ کانگریس کے کچھ ارکان بشمول پرمود تیواری نے پاکستان میں لشکر طیبہ عسکریت پسند ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کے عدالتی احکام کا مسئلہ اٹھانے کی بھی کوشش کی اور کہا کہ یہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT