Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / مقتول طلبہ کے جلوس جنازے میں ہزاروں افراد شریک

مقتول طلبہ کے جلوس جنازے میں ہزاروں افراد شریک

رالے (امریکہ) ، 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک سفید فام شہری کے ہاتھوں قتل کئے گئے تین پڑوسی مسلم طلبہ کی سوگوار فیملیوں نے اپنی لخت جگراولاد کو ملک ِ عدم کیلئے جذباتی انداز میں وداع کرتے ہوئے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا کہ اس طرح کی ہلاکتوں سے نفرت پر مبنی جرم کے طور پر نمٹا جائے۔ امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں قتل کردیئے گئ

رالے (امریکہ) ، 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک سفید فام شہری کے ہاتھوں قتل کئے گئے تین پڑوسی مسلم طلبہ کی سوگوار فیملیوں نے اپنی لخت جگراولاد کو ملک ِ عدم کیلئے جذباتی انداز میں وداع کرتے ہوئے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا کہ اس طرح کی ہلاکتوں سے نفرت پر مبنی جرم کے طور پر نمٹا جائے۔ امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں قتل کردیئے گئے تین مسلمان طلبہ کے جمعرات کو منعقدہ جلوس جنازے میں زائد از 5,000 افراد نے شرکت کی۔ مقتولین میں شامل دو نوجوان بہنوں کے والد نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ اس تہرے قتل کے پیچھے مذہبی منافرت تو کارفرما نہیں تھی۔ 23 سالہ سعدی برکت، اس کی 21 سالہ بیوی یوسر ابو صالحہ اور اس کی 19 سالہ بہن رزان ابو صالحہ کو منگل کے روز 46 سالہ کریگ اسٹیفن ہِکس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس واقعے کی وجہ پارکنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازعہ تھا یا مذہبی منافرت۔ملزم ہکس بتایا جاتا ہے کہ مذہب کا کٹر مخالف ہے جیسا کہ اُس کے ’فیس بک‘ صفحہ پر درجنوں مخالف مذہب پیامات پائے گئے، جن میں عیسائیت، اسلام و دیگر عقیدوں کی شدید مذمت میں بیانات شامل ہیں۔ پولیس نے کہا کہ وہ منگل کو یونیورسٹی ٹاؤن چیاپل ہِل میں پیش آئے مہلک واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے لیکن مقتولین کی فیملیوں کا بار بار یہی دعویٰ ہے کہ یہ حملہ مذہبی منافرت کی وجہ سے ہوا۔ فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے کہا کہ اس نے ان ہلاکتوں کی متوازی تحقیقات بھی شروع کردی ہے۔ وفاقی تحقیقات کار اکثر و بیشتر نفرت پر مبنی مشتبہ جرائم کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ اس طرح کے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سخت تر سزا ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT