Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مقررہ وزن سے زائد سامان لے جانے پر سخت کارروائی

مقررہ وزن سے زائد سامان لے جانے پر سخت کارروائی

کریم نگر ۔ 10 ۔ فروری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سڑکوں کی حفاظت کے تحت گنجائش سے زائد وزن لانے لے جانے والی گاڑیوں ، لاریوں ڈرائیور مالکان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ آر ٹی او کی جانب سے اب نئے قاعدے پر سخت عمل آوری شروع کردی گئی ہے ۔ ڈرائیورس اور موٹر مالکان کے خلاف کارروائی کی جانے لگی ہے۔ قاعدے قوانین پر عمل آوری کیلئے قبل ازیں آر ٹی او کی جانب سے کئی بار مشورہ دیا گیاتھا لیکن اس پر کوئی بھی عمل نہیں کر رہا تھا۔ قبل ازیں صرف حیدرآباد کے علاقہ میں اس پر عمل ہورہا تھا ۔ اب ریاستی حکومت نے شاہراہوں کی تعمیر توسیع ترمیم بڑے پیمانہ پر شروع کی اور کافی بجٹ مختص کیا جارہاہے ۔ سڑکوں کی درستگی اور تعمیری کام جاری ہیں۔ ایسے میں گاڑیوں پر مقررہ گنجائش سے زیادہ وزن کی گاڑیوں تکی آمد و رفت سے سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ دوبارہ خراب ہو جارہی ہیں اور مرمت کرنا پڑ رہا ہے۔ کریم نگر روڈ ٹرانسپورٹ محکمہ ایک ہفتہ سے گنجائش مقررہ سے زیادہ وزن لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ شروع کرتے ہوئے بالخصوص ریت اور پتھر اور گرانائیٹ منتقل کرنے والی لاریوں کو پکڑنا شروع ہے ۔ تاحال 57 لاریوں کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ 37 لاریوں سے متعلقہ ڈرائیورس کے لائینس کو تین ماہ کے لئے معطل کردیا ۔ ضلع سے حیدرآباد کو روزانہ سینکڑوں لاریاں قاعدے سے زیادہ وزن لاد کر راجیو شاہراہ سے گزرتی ہیں۔ 10 پہیے کی لاری پر 17 ٹن کی بجائے 23 ٹن تک، 12 پہیے کی لاری میں 30 دن تک وزن لاد کر لے جایا جارہا ہے۔ کئی بار جرمانے عائد کرنے پر بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے پر اب سختی کے ساتھ لائسنس ہی منسوخ کردینے اور لاریوں کے مالکان کو نوٹس دیتے ہوئے پرمٹ ہی کیوں نہ رد کئے جانے ہوں گے، سوال کیا جارہاہے۔ پہلی دفعہ ڈرائیونگ لائسنس 3 ماہ کیلئے دوسری مرتبہ پکڑے جانے پر 6 ماہ کیلئے منسوخ کردینے یا پھر ہمیشہ کیلئے منسوخ کرنے کی کارروائی کی جائے گی ، کہا جارہا ہے ۔ لاری مالکین کا کہنا ہے کہ لاری میں ریت تول کر نہیں بلکہ ناپ کردہ 550 کیولک میٹر جے سی پی پکیٹ سے ریت لاریوں میں ڈالی جاتی ہے۔ ریت اگر کچی ہو وزن زیادہ ہوجاتا ہے۔ سڑکوں کی حفاظت اور سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے گنجائش سے زیادہ وزن لے جارہی ہو تو اس کے خلاف قاعدے کے مطابق کارروائی کی جانی چاہئے لیکن مکئی، چاول ، دھان و دیگر اشیاء بھی گنجائش سے زیادہ وزن باضابطہ سرکاری لائسنس وے بل کے ساتھ لے جائے جارہے ہیں۔ سیول سپلائیز سے روزانہ منتقلی ہوتی ہے اور ہر لاری میں گنجائش سے زیادہ ہی منتقلی عمل میں لائی جارہی ہے لیکن آر ٹی او اور ایم وی آئی ان پر کوئی جرمانہ نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں کھلی چھوٹ ہے ، اس ضمن میں ریت منتقل کرنے والے اصحاب کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ بالخصوص گنجائش سے زیادہ ہونے پر نئے قانون کے تحت فی ٹن ہزار روپیہ عائد کیا جارہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

TOPPOPULARRECENT