Wednesday , December 19 2018

مقطعہ مدار میں عیدگاہ کے لیے حکومت سے مختص کردہ اراضی تحفظ کے اقدامات

تلنگانہ وقف بورڈ کی مساعی ، چیرمین بورڈ محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔ 8جنوری (سیاست نیوز) مقطعہ مدار خیریت آباد میں حکومت کی جانب سے عیدگاہ کے لیے الاٹ کردہ 4 ہزار مربع گز اراضی کے تحفظ کے لیے تلنگانہ وقف بورڈ نے اقدامات کیے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بتایا کہ متحدہ آندھراپردیش میں حکومت نے عیدگاہ کے لیے 4 ہزار گز اراضی الاٹ کی تھی لیکن بعض افراد کی جانب سے اسے پارکنگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قابضین کی اس اراضی پر نظر ہے اور وقف بورڈ کی عدم توجہی کی صورت میں غیر مجاز قبضوں کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی ٹاسک فورس ٹیم کے ذریعہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ وہ بہت جلد اراضی کا معائنہ کریں گے اور حد بندی کے انتظامات کیے جائیں گے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے عیدگاہ کے لیے یہ اراضی وقف بورڈ کے حوالے کی تھی اور وقف بورڈ اپنے خرچ سے اراضی کی حد بندی کرے گا۔ شہر کے مرکزی مقام پر مقامی عوام کی سہولت کے لیے حکومت نے یہ اراضی عیدگاہ کے لیے مختص کی تھی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے تاریخی قطب شاہی مسجد شیخ پیٹ کے تحفظ کے سلسلہ میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے تعاون کی خواہش کی ہے۔ شیخ پیٹ کی یہ قدیم مسجد کو آباد کرنے کا بورڈ نے فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسجد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے اور ڈائرکٹر آرکیالوجی نے وقف بورڈ سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ مقامی عوام کے تعاون سے مسجد کو آباد کیا جائے گا اور وقف بورڈ امام اور موذن کا تقرر عمل میں لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر آباد مساجد کو آباد کرنے کے لیے باقاعدہ مہم شروع کی گئی ہے اور اب تک دو مساجد کو آباد کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر و مضافاتی علاقوں میں مساجد اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں بورڈ سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کھمم میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں 9 جنوری کو ضلع کلکٹر کی جانب سے اجلاس طلب کیاگیا ہے۔ وقف بورڈ کے رکن اور کمشنر پولیس کھمم تفسیر اقبال کی مساعی سے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ منان فاروقی اور دیگر عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھمم میں اوقافی جائیدادوں کے بارے میں مقامی افراد کی جانب سے نمائندگی کی گئی تھی۔ کئی جائیدادوں پر ناجائز قبضے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے جب ضلع کلکٹر کی صدارت میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے اجلاس منعقد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اور پولیس حکام نے جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT