ملائشیا میں عنقریب سزائے موت کا قانون برخاست

کوالالمپور ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ملائشیا کی کابینہ نے ملک میں سزائے موت دیئے جانے کے قانون کو کالعدم قرار دینے کو منظوری دی ہے جس کی دائیں بازو گروپس نے زبردست ستائش کی ہے۔ یاد رہیکہ اس وقت ملائشیا میں قتل، اغوائ، غیرقانونی طور پر ہتھیار رکھنا اور منشیات کی اسمگلنگ چند ایسے سنگین جرائم ہیں جن کیلئے سزائے موت دی جاتی ہے اور مجرمین کو پھانسی پر لٹکادیا جاتا ہے جو دراصل برطانوی سامراج کے زمانے سے چلی آرہی روایت ہے۔ دریں اثناء کمیونکیشن اور ملٹی میڈیا کے وزیر گوبند سنگھ دیو نے بتایا کہ کابینہ نے سزائے موت کو ختم کئے جانے کی قرارداد منظور کی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی سزائے موت کے قانون میں ضروری ترمیم کی جائے گی۔ ملائشیا میں عوام سزائے موت کی عرصہ دراز سے مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ بہرحال اس فیصلہ کی دائیں بازو کے گروپس نے ستائش کی ہے۔ ملائشیا میں سزائے موت کے قانون کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ملائشیا اپنے ایسے تمام شہریوں کی زندگی کیلئے بھی اپنی لڑائی جاری رکھے گا جنہیں دیگر ممالک میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT