Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / ملائم سنگھ ، اکھلیش یادو ’’تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں‘‘

ملائم سنگھ ، اکھلیش یادو ’’تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں‘‘

غضنفر علی خان
اترپردیش کی حکمراں سماج وادی پارٹی میں باپ بیٹے ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو میں پچھلے چند ماہ سے انا اور خود پرستی کی جو جنگ چل رہی ہے اس کے اثرات ملک کی سیاسی صورتحال پر ہونے والے تو ہیں ہی لیکن خود باپ بیٹے کی یہ لڑائی ان کی پارٹی کیلئے اس قدر نقصان دہ ہیکہ خود دونوں کو بھی اسکا صحیح اندازہ نہیںہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پارٹی کو اقتدار پر دو مرتبہ لانے اور اس کو عوام  میں پسندیدہ جماعت بنانے میں پارٹی کے بانی ملائم سنگھ نے ا تنی مشقت کی کہ اس کے بارے میں کوئی دوسرا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان ہی ماہ  کے درمیان اس وقت جبکہ اختلاف شروع ہوا تھا تو ملائم سنگھ نے اپنے بیٹے اور موجودہ چیف منسٹر اکھلیش یادو کو جھڑک کر کہاتھاکہ ’’تمہاری حیثیت ہی کیا ہے ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ وزارت اعلیٰ کا یہ عہدہ تمہاری کوششوں سے حاصل ہوا ہے ۔ تم کر ہی کیا سکتے ہو۔ ملائم سنگھ نے یہ سمجھ کر اپنے بیٹے کو یہ سخت الفاظ کہے تھے کہ شاید بھاری بھرکم شخصیت کے مالک ملائم سنگھ کی ڈانٹ پھٹکار سے بیٹا اکھلیش یادو راہِ راست پر آجائے گا ۔ سیاست میں جہاں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ کوئی ہمیشہ دشمن ہوتا ہے کا آزمودہ اصول بھی ان دونوں کے درمیان کام نہ کرسکا ۔ اکھلیش یادو ضد پر اڑے رہے اور نوبت یہ ہوئی کہ ایک مرحلہ پر تو ملائم سنگھ کو پارٹی کی صدارت سے اکھلیش یادو کے حامیوں نے ہٹادیا لیکن بیٹے کے حامیوں کے اس فیصلے کو ملائم سنگھ نے قبول نہیں کیا اور اس بات کے باوجود کہ پارٹی کے ورکرس لیڈرس ، ارکان پارلیمان و ارکان اسمبلی بیٹے اکھلیش کے طرفدار ہیں ملائم سنگھ نے کچھ ہی دیر بعد پارٹی کے صدر خود ہونے کا اعلان کردیا ۔ لیجئے جناب پارٹی دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ عملاً سماج وادی پارٹی اس وقت دو گروہوں کے درمیان تقسیم ہے۔ پھر ایک مرحلہ یہ بھی آیا کہ ملائم سنگھ نے برملا یہ اعلان یا کہ ان کی پارٹی اگر انتخابات میں اکثریت حاصل کرے گی تو چیف منسٹر اکھلیش یادو ہی ہوں گے جہاں صلح صفائی کی ایک نئی گنجائش پیدا ہوئی ہے لیکن ابھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ گنجائش دیرپا ثابت ہوگی ۔اگر پارٹی دو گروپوں میں بٹ جائے گی تو دونوں کے حامیوں کو یہ سمجھ لیا جائے کہ پارٹی کے ووٹ دونوں گروپس میں تقسیم ہوجائے گا اور پارٹی ا کثریت تو کیا معمولی تعداد میں سیٹس حاصل نہیں ہوں گی ۔ یہ نوشتہ دیوار ہے اب اگر دونوں باپ بیٹے ہٹ دھرمی  چھوڑ کر ریاست اور ملک کے مفادات کو اولین ترجیح دیں تو پھر سماج وادی پارٹی کے اقتدار پر آنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ بات تو ملائم سنگھ یادو سمجھ رہے ہیں اورنہ اکھلیش یادو کی سمجھ میں آرہی ہے ۔ دونوں اقتدار کی امید پر باپ بیٹے کے مقدس رشتہ کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ بات صرف ریاست اترپردیش کی نہیں ہے بلکہ اس بات کا تعلق سارے ملک سے ہے ۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اگر خدا نخواستہ بی جے پی کامیاب ہوجاتی ہے تو مرکز میں اس کا وقار بڑھے گا۔ راجیہ سبھا میں اس کا عددی موقف بہتر ہوجائے گا جو ابھی تک کمزور ہے اور اس کمزور موقف کی وجہ سے بی جے پی کی حکومت رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے ۔ اترپردیش کے چناؤ بی جے پی کے اقتدار کو استحکام دے سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں سیکولرازم کی بنیادیں مزید کمزور ہوجائیں گی ۔ سماج وادی پارٹی تو خیر ہار ہوجائے گی لیکن ہماری جمہوریت کا وہ متاع بے بہا جس کو ہم سیکولرازم کہتے ہیں اور جس پر ہم کو ناز ہے ، فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس جائے گا ۔ ان ہی معنوں میں آج کے حالات ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو کو یہ پیام دے رہے ہیںکہ ’’وطن کی فکر کرنا ورنہ مصیبت آنے والی ہے۔ تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں‘‘۔ اس معاملہ میں (باپ بیٹے کی لڑائی میں) کوئی دوسری پارٹی کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ جو کرنا ہے ان دونوں ہی کو کرنا ہے ۔ اگر دونوں کو ’’وطن کی فکر ہے تو پھر دائمی اور مضبوط صلح و آشتی سے کام کرنا ہوگا ۔ ملائم سنگھ کا یہ اعلان کہ آئندہ چیف منسٹر اکھلیش یادو ہی رہیں گے ۔ اکھلیش اوران کے حامیوں کیلئے ایک طرح سے ’’مژدہ جانفرا ہے ایک نوید ہے‘‘ ان کو اکھلیش کو اس یقین دہانی پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے اور ان کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے اپنے والد کی شفقت کی قیمت ادا کرتے ہوئے اپنی پوزیشن اور اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہئے ۔ اکھلیش اور ان کی حمایت کرنے والے پار ٹی لیڈروں اور ورکرس کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ دو دھڑوں میں بٹی ہوئی سماج وادی پار ٹی اقتدار سے محروم ہوجائے گی اور بی جے پی کی فرقہ پرستی ریاست اترپردیش پر بھی چھا جائے گی ۔ نہ صرف اپنی پارٹی کی حکومت بلکہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر پارٹی کے اس داخلی بحران کو ختم کردینا چاہئے ۔ یو پی کے انتخابات میں مسلم ووٹوں کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے ۔ مسلم ووٹ ’’شاہ گر‘‘ کا موقف رکھتے ہیں ۔ ان ووٹوں پر نہ صرف سماج وادی پارٹی کی نظر ہے بلکہ اترپردیش میں موجود دوسری بڑی پارٹی بہوجن سماج پارٹی بھی ان ہی مسلم ووٹوں پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اگر مسلم ووٹ بینک ان دونوں علاقائی پارٹیوں میں تقسیم ہوتا ہے تو اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا ۔ وہ تو باپ بیٹے کی جنگ سے اور مسلم ووٹ کی تقسیم کے امکان ہی سے بے حد خوش ہے اور سوچ رہی ہے کہ کب بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹے گا اور کب اترپردیش میں بھی پوری اکثریت کے ساتھ بی جے پی اقتدار سنبھالے گی ۔ اتر پردیش میں مسلم ووٹ کی تقسیم جس کے امکانات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، ان اسمبلی چناؤ کا فیصلہ کئی مرحلہ میں ثابت ہوگا ۔ اس لئے کہ مسلم ووٹ تین حصوں میں بٹ جائے گا ۔ ایک طرف تو سماج وادی پارٹی کے دونوں گروہوں میں ووٹ تقسیم ہوگا تو دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی حاصل کرے گی۔ تیسرا امکان یہ بھی ہے کہ مسلم ووٹ کا کچھ نہ کچھ حصہ کانگریس کے حق میں بھی ہوگا۔ اس طرح سے تقسیم در تقسیم کی وجہ سے اترپردیش میں شاہ گر مسلمان کا ووٹ اپنی وقت کھودے گا۔ بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر اور سابق چیف منسٹر مایاوتی نے ابھی تک 425 کے منجملہ 100 امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان میں 34 مسلم امیدوار ہیں  یعنی مسلم ووٹوں پر اپنا حق جتانے کے معاملہ میں مایاوتی نے سبقت حاصل کرلی ہے ۔ ابھی سماج وادی پارٹی خاندانی وراثت کے جھگڑوں سے نجات بھی نہیں پائی ہے جبکہ مایاوتی نے اپنی چال دکھادی۔  یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’یار ان تیز گام نے منزل کو پالیا‘‘ سرپھٹول کا سلسلہ ہے کہ سماج وادی پارٹی میں ختم ہی نہیں ہورہا ہے ۔ مسلم ووٹ کس پارٹی کے حق میں جائے گا یہ کہنا ابھی دشوار ہے لیکن یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلم ووٹ اترپردیش میں فیصلہ کن عنصر ہے اور رہے گا ، اس کی افادیت اس بات پرمنحصر ہے کہ اترپردیش کے مسلمان کا سیاسی شعور کیسے کام کرتا ہے ، اگر سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹیوں میں سے کسی ایک پارٹی کو مسلم ووٹ پوری طرح یعنی تقسیم ہوئے بغیر مل سکتے تو اس پارٹی کی کامیابی یقینی کہی جاسکتی ہے ۔ باپ بیٹے کی اس کھلی جنگ میں مسلم ووٹر بھی حیران و پریشان ہے ۔ اترپردیش کا مسلم ووٹ غالباً یہ چاہتا ہے کہ کس طرح دونوں مل جائیں اور ایک پارٹی کی حیثیت سے چناؤ میں حصہ لیں۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑی حد تک  غیر اخلاقی تنازعہ ہے جو جاری ہے ۔ دونوں میں سے کوئی بھی ’’شاخ زیتون‘‘ دکھانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ پھر بھی ملائم سنگھ یادو کی ستائش کی جانی چاہئے کہ انہوں نے آئندہ کیلئے اکھلیش یادو ہی کو چیف منسٹر بنانے کا پیشکش کیا جو ان کی جانب سے امن کی علامت شاخ زنیوں Olive branch پیش کرنے کے مصداق ہے۔ یہ خاندان کا جھگڑا ہی نہیں کہلاسکتا، اس میں اترپردیش کے کروڑ ہا عوام کا مفاد شامل ہے ۔ ایک ایسے وقت جبکہ کرنسی کی منسوخی کے فیصلہ نے بی جے پی کی مقبولیت میں کمی کردی ہے ، خصوصاً یو پی کے دیہی علاقوں میں تو بی جے پی کا موقف کمزور ہوگیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے لئے بی جے پی کو شکست دینا نسبتاً آسان ہوگیا ہے ۔ بی جے پی لاکھ دعویٰ کرے کہ کرنسی کی منسوخی سے اس کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے، اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس فیصلہ نے بی جے پی کی عوامی مقبولیت کم کردی ہے ۔ اگر بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک میں تین تا چار فیصد بھی کمی ہوتی ہے تو یہ اترپردیش جیسی بڑی ریاست میں پارٹی کے انتخابی مفاد کے لئے کاری ضرب ثابت ہوگی ۔ سماج وادی پارٹی کے لئے ان تمام مثبت امکانات اگر اہم ہیں اور اگر وہ چاہتی ہیں کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار پر فائز ہونے سے روکے تو باہمی اور خاندانی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے جسد واحد کی طرح انتخابی میدان میں اترنا چاہئے ۔ ایسا اگر نہ ہو تو پھر منفی نتائج کیلئے تیار رہنا پڑے گا ۔ قطعی فیصلہ سماج وادی پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ قومی اور ریاستی مفادات عزیز ہیں تو سماج وادی پار ٹی کو پھوٹ اور بدبختانہ تقسیم سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے جذبات سے زیادہ ہوشمندی سے کام لینا پڑے گا ۔

TOPPOPULARRECENT