Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / ملائم سنگھ کا وقار چھوٹی بہو اپرنااور بھائی شیوپال کیلئے داؤ پر

ملائم سنگھ کا وقار چھوٹی بہو اپرنااور بھائی شیوپال کیلئے داؤ پر

سماجوادی پارٹی کے سرپرست نے تاحال خود کو ارکان خاندان کیلئے انتخابی مہم تک محدود رکھا۔یو پی کے ووٹروں کے موڈ میں تبدیلی پر بہت کچھ منحصر

لکھنؤ۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سماجوادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو بھلے ہی پارٹی میں حاشیہ پر کردیئے گئے ہیں لیکن لکھنؤ کنٹونمنٹ اور جسونت نگر نشستوں میں ان کا شخصی وقار داؤ پر لگا ہے، جہاں سے ترتیب وار ان کی چھوٹی بہو اپرنا اور بھائی شیوپال چناؤ لڑ رہے ہیں۔ 77سالہ پہلوان سے سیاستدان بننے والے ملائم سنگھ جو کئی مرتبہ سیاسی بحران سے گذر چکے، وہ یو پی انتخابی منظر کے ابتدائی دو مرحلوں میں مشکوک انداز میں غائب رہے۔ 19فبروری کو تیسرے مرحلہ کی رائے دہی کیلئے انہوں نے ابھی تک صرف اپنے ارکان خاندان کیلئے مہم چلانے کو ترجیح دی ہے۔ اپنے فرزند اکھلیش یادو کی جانب سے پارٹی کی باگ ڈور سنبھال لینے کے بعد پارٹی میں تبدیل شدہ ماحول میں انتخابی مہم چلانے کے معاملہ میں پس و پیش سے دوچار لیڈر نے تاحال اپنے تین انتخابی جلسوں میں اظہار کیا کہ پارٹی کا یہ نشستیں جیتنا ان کیلئے کس قدر اہم ہے۔

شیوپال یادو پارٹی کے طاقتور گڑھ اٹاوہ میں جسونت نگر سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔ ملائم سنگھ نے اپنی انتخابی مہم کی شروعات میں ایس پی۔ کانگریس اتحاد کے ذکر سے گریز کیاتھا۔ اور اسی طرح گزشتہ روز لکھنؤ کنٹونمنٹ میں اپنی چھوٹی بہو اپرنا کیلئے ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے بھی انہوں نے جذباتی انداز اختیار کیا اورکہا کہ یہ انتخابات ان کی سیاسی عزت نفس اور افتخار سے جڑے ہیں۔ اگر عوام اپرنا کا ساتھ دیتے ہیں تو وہ شکر گذار رہیں گے۔ اس دوران بہت کچھ اترپردیش کے ووٹروں کے موڈ میں تبدیلی پر منحصر ہے کیونکہ ان کے ذہن میں معمولی تبدیلی بھی کسی امیدوار یا پارٹی کے حق میں یا مخالفت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لاسکتی ہے۔ حالیہ برسوں کے انتخابی مواد سے یہی کچھ ظاہر ہوا ہے۔ اس مرتبہ ریاست میں ایس پی ۔ کانگریس اتحاد، بی جے پی اور بی ایس پی کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہاں تک کہ حاصل ہونے والے ووٹ کے تناسب میں معمولی تبدیلیاں بھی پارٹی یا اتحاد کے انتخابی امکانات کو سنوار یا بگاڑ سکتی ہیں۔

اکھلیش ’کام کی بات‘ کرتے ہیں: ڈمپل یادو
چیف منسٹر اکھلیش یادو کی شریک حیات ڈمپل نے آج کانپور میں ایک ریالی سے خطاب میں کہا کہ اکھلیش یادو ’ من کی بات‘ نہیں کرتے بلکہ ’ کام کی بات‘ کرتے ہیں۔ عوام کو چاہیئے کہ انھیں دوبارہ ووٹ کے ذریعہ اقتدار سونپیں تاکہ اتر پردیش ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔

TOPPOPULARRECENT