Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / ملائیشیائی طیارہ افغانستان یا پاکستان میں ہوسکتا ہے ، برطانوی اخبار کا دعویٰ

ملائیشیائی طیارہ افغانستان یا پاکستان میں ہوسکتا ہے ، برطانوی اخبار کا دعویٰ

لندن ، 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ملائیشیا کا لاپتہ مسافر طیارہ طالبان کے زیر کنٹرول پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں ہو سکتا ہے۔ اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے ماہرین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طیارہ ملائیشیا کے شمال مغربی علاقے سے اڑا اور اس کے آخری سگنل بھی وہیں سے ملے، جس سے ثابت ہوتا ہے ک

لندن ، 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ملائیشیا کا لاپتہ مسافر طیارہ طالبان کے زیر کنٹرول پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں ہو سکتا ہے۔ اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے ماہرین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طیارہ ملائیشیا کے شمال مغربی علاقے سے اڑا اور اس کے آخری سگنل بھی وہیں سے ملے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طیارہ افغانستان یا پاکستان کے ان علاقوں میں ہے جہاں طالبان کا کنٹرول ہے

اور طالبان بعد میں اس طیارہ کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق ملائیشیائی حکام کو طیارہ کی گمشدگی پر طالبان پر شبہ ہے، جبکہ ملائیشین ایئر لائن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان سے تحقیقات کیلئے سفارتی سطح پراجازت مانگی گئی ہے، اور یہ اجازت جلد ملنے کی توقع ہے۔ اخبار کے مطابق جدید ٹکنالوجی کوئی کرشمہ نہ دکھا سکی۔ 25 ممالک کی امدادی ٹیمیں دسویں روز بھی طیارہ کا سراغ نہ لگا سکیں۔ جبکہ غیر ملکی میڈیا نے ملائیشیا کے لاپتہ ہونے والے طیارہ کا ذمہ طالبان کے سر ڈال دیا۔ برطانوی اخبار بدستور پاکستان کے خلاف ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف ہیں۔ 25 ممالک، زائد از 43 بحری جہاز، 10 سٹیلائٹس اور جدید ترین ٹکنالوجی دس روز میں بھی بدقسمت طیارے کا نشان تک نہ ڈھونڈ سکے ہیں۔

حکام نے تمام تر توجہ دہشت گردی کے حوالے سے تحقیقات پر مرکوز کرلی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ نے راڈار سے بچنے کیلئے مطلوبہ بلندی سے 1500 میٹر کم بلندی پر پرواز کی۔ ملائیشیا کے جاری کردہ نقشے میں طیارہ کی پاکستان میں لینڈنگ کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ واقعات کے تانے بانے، پائلٹ اور معاون پائلٹ تک جاتے ہیں۔ حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ طیارہ نے جب آخری پیغام دیا تب وہ زمین پر ہی موجود تھا۔ ملائیشیائی حکام نے بدقسمت جہاز کے زمینی عملے، انجینئرز، پائلٹ کے لواحقین کو شامل تفتیش کیا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ اور معاون پائلٹ کو اکٹھے پرواز پر جانے کا نہیں کہا گیا تھا۔

لاپتہ طیارہ کو اصل راستے سے کمپیوٹر کے
ذریعہ ہٹایا گیا : امریکہ
اس دوران امریکہ کاکہناہے کہ طیارہ میں موجود کسی مشکوک شخص نے ممکنہ طور پر کمپیوٹر سسٹم کی مدد سے طیارہ کا راستہ تبدیل کیا۔ ایک امریکی اخبار کے مطابق واشنگٹن میں سینئر حکام نے بتایا کہ گمشدہ طیارہ کا رخ طے شدہ راستے سے ہٹا کر مغرب کی طرف موڑنے کا کام کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے کیاگیا۔ یہ کام کرنے والا شخص کاک پٹ میں ہی موجودتھا اور طیاروں کے سسٹمز سے بخوبی آگاہ تھا۔ کاک پٹ میں موجودشخص نے طیارہ کا رخ موڑنے کیلئے ’کی بورڈ‘ کی 7 سے 8 کیز استعمال کیں۔ تاہم ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ طیارہ کے فلائٹ پروگرام میں تبدیلی اس کے روانہ ہونے سے پہلے کی گئی یا بعد میں۔ امریکی حکام کے دعوؤں سے ملائیشیائی حکام کے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طیارہ کا رخ جان بوجھ کر تبدیل کیاگیا۔ دوسری جانب ملائیشیا میں چین کے سفیر ہوآنگ نے کہا کہ طیارہ میں سوار کوئی چینی شہری دہشت گردی میں ملوث نہیں۔ 8 مارچ کو کوالا لمپور سے بیجنگ روانہ ملائیشیائی طیارہ 11 روز سے لاپتہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT