Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / ملازمین برقی کی ہڑتال کا اچانک آغاز ‘تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ

ملازمین برقی کی ہڑتال کا اچانک آغاز ‘تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ

کئی پاور اسٹیشنوں میں کام متاثر ‘ برقی پیداوار میں کمی ‘ صورتحال پر گورنر اور اعلیٰ عہدیداروں کا غور

کئی پاور اسٹیشنوں میں کام متاثر ‘ برقی پیداوار میں کمی ‘ صورتحال پر گورنر اور اعلیٰ عہدیداروں کا غور

حیدرآباد ۔ 25 ؍ مئی (سیاست نیوز) ریاستی سطح پر آج اچانک برقی ملازمین نے قبل از وقت کسی نوٹس کے بغیر ہڑتال کا آغاز کر دیا ۔ ریاست کے تمام (23) اضلاع میں آج صبح کی اولین ساعتوں سے ہی (اتوار کے دن سے ) تمام برقی ملازمین نے اپنے فرائض کی انجام دہی سے دوری اختیار کی ۔ جبکہ حیدرآباد میں واقع محکمہ برقی کے صدر دفتر ودیوت سودھا کے پاس برقی ملازمین یونینوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنا پروگرام منظم کیا گیا ۔ ملازمین کے مطابق بتایاجاتا ہے کہ حکومت و برقی محکمہ کے انتظامیہ نے ملازمین کے لئے ریویژن کمیٹی رپورٹ کی سفارشات پر عمل آوری کرنے کا کے وعدہ کیا تھا ۔ لیکن اپنے وعدے کو پورا کرنے میں برقی انتظامیہ ناکام ثابت ہوجانے کی وجہ سے ہی آج ملازمین کو اچانک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ اسی دوران بتایا گیا کہ وجئے واڑہ میں وی ٹی پی ایس ملازمین نے اتوار کی اولین ساعتوں سے ہی وی ٹی پی ایس برقی پیداواری اسٹیشن کے باب الداخلہ کے روبرو بیٹھ کراپنا احتجاج شروع کیا ۔ ضلع کھمم کے پالونچہ کے پاس موجود کے ٹی پی ایس (کتہ گوڑم) تھرمل پاور اسٹیشن کے پاس بھی تمام ملازمین نے احتجاج شروع کرتے ہوئے فرائض انجام نہیں دیئے ۔ حکومت نے برقی ملازمین کی تنخواہوں پر نظرثانی کرنے سے اتفاق کرتے ہوئے باقاعدہ طورپر معاہدہ بھی کیا تھا ۔ اور اس معاہدے پر عمل آوری میں کی جانے والی تاخیر کے باعث ہی احتجاج کرتے ہوئے آندھراپردیش پاور ایمپلائیز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ہڑتال شروع کی گئی اور کسی بھی ملازمین کو ڈیوٹی پر جانے نہیں دیا جا رہا ہے ۔ ڈیوٹی پر جانے کی کوشش کرنے والے ملازمین کے لئے روکاوٹیں حائل کی جا رہی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین برقی کی شروع کردہ ہڑتال سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث کے ٹی یو ایس میں (کتہ گوڑم) تھرمل پاور اسٹیشن میں 1720 میگاواٹ برقی پیداوار میں خلل اندازی ہونے قوی امکان پایا جاتا ہے ۔ اسطرح ضلع کڑپہ کے ایرا گنٹلا منڈل میں آر ٹی پی ایس کے پہلے یونٹ میں فنی خرابی پیش آنے کے نتیجہ میں (210) میگاواٹ برقی پیداوار نہیں ہو پا رہی ہے ۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ ہڑتال میں حصہ لینے والے برقی ملازمین نے آج (اتوار کے دن) حیدرآباد میں اپنا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا اور اجلاس میں برقی ملازمین کی (30) مختلف یونینوں کے قائدین نے شرکت کی ۔ اور کہا کہ ہمارے دیرینہ حل طلب مطالبہ کی تکمیل تک ہڑتال کو بہر صورت جاری رکھا جائیگا اور اس سلسلہ میں واضح فیصلہ کیا گیا کہ ہڑتال ختم نہیں کی جائیگی ۔ بتایا گیا کہ پے ریویژن کمیشن سفارشات کی روشنی میں تنخواہوں میں (275) فیصد تک نظر ثانی کرنا اور کنٹراکٹ ملازمین کو ان کے کاموں کی مناسبت سے یومیہ اجرت ادا کرنے کے اہم مطالبے اس ہڑتال کی اہم وجہ ہیں ۔ آج سے شروع کی گئی برقی ملازمین کی ہڑتال میں اے پی جینکو اے پی ٹرانسکو ‘ و ڈسکام ملازمین حصہ لے رہے ہیں ۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ اے پی ٹرانسکو مینجنگ ڈائرکٹر مسٹر سریش چندا ‘ مینجنگ ڈائرکٹر اے پی جینکو مسٹر کے وجیانند نے مختلف جے اے سی قائدین و نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور کہا کہ پی آر سی تجاویز ریاستی حکومت کو روانہ کر دی گئیں۔

وہاں احکامات آنے کے ساتھ ہی معاہدات کرلئے جاسکیں گے ۔ لہذا ہڑتال کرنے کی پرزور اپیل کی جس پر جے اے سی قائدین نے اپنے پس و پیش کا اظہار کیا جس کے پیش نظر محکمہ توانائی کے اسپیشل چیف سکریٹری مسٹر ایس کے جوشی نے آج شام ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا ۔ اس اجلاس میں مسرس سریش چندا ‘ سی ایم ڈی اے پی ٹرانسکو کے وجیانند ‘ مینجنگ ڈائرکٹر اے پی جینکو نیندرا پرنسپال سکریٹری محکمہ توانائی ایس ایم رضوی ‘ صدرنشین و مینجنگ ڈائرکٹر سی پی ڈی سی ایل و دیگر عہدیداروں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ برقی ملازمین کے لئے پی آر سی سے متعلق فائل اب تک ہی محکمہ فینانس کو روانہ کر دی گئی ہے ۔ وہاں سے فائیل پبلک انٹرپرائیزس محکمہ کو روانہ کی جائے گی اور پھر ریاستی چیف سکریٹری ڈاکٹر بی کے موہنتی کی منظوری حاصل ہونے کے فوری بعد مشیر برائے ریاستی گورنر مسٹر صلاح الدین احمد اس کی منظوری دیتے ہوئے ریاستی گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کو قطعی منظوری کے لئے روانہ کریں گے۔ اور بعدازاں گورنر کی منظوری حاصل ہونے کے فوری بعد برقی ملازمین کے لئے بی آر سی پر عمل آوری کے احکامات جاری ہونے کی قوی توقع پائی جاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT