Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / ملازمین پولیس پر عسکریت پسندوں کے دو حملے

ملازمین پولیس پر عسکریت پسندوں کے دو حملے

یرغمال رہا ‘ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ‘جنوبی کشمیر میں فائرنگ کے بعد خوف کا ماحول
سرینگر، 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عسکریت پسندوں نے جموں و کشمیر میں کل رات پولیس پر دو حملے کئے جس کی وجہ سے پوری ریاست میں سخت چوکسی کا اعلان کردیا گیا ۔ جب کہ وزیراعظم نریندر مودی چند دن بعد وادی کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ علاوہ ازیں یہاں پر ضمنی انتخابات بھی مقرر ہے ۔ پہلے واقعہ کی اطلاع ضلع بڈگام سے ملی‘ جو سرینگر پارلیمانی انتخابی حلقہ میں ہے جہاں اپریل کے دوسرے ہفتہ ضمنی انتخابات مقرر ہے ۔ عسکریت پسند  ایک سب انسپکٹر کے مکان میں زبردستی داخل ہوگئے اور ایک کار نذرآتش کردی ۔ عسکریت پسند اس کے بعد ایک کار میں بیٹھ کر فرار ہوگئے ۔ انہوں نے دو لڑکوں کو یرغمال بنالیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں رہا کردیا ۔ یہ واقعہ تین ہفتہ قبل عسکریت پسندوں کے شوپیان میں ایک سینئر پولیس عہدیدار کے مکان میں عسکریت پسندوں کے زبردستی داخل ہونے کے صرف تین ہفتہ بعد پیش آیا ہے ۔ پولیس کے بموجب عسکریت پسند چاہتے تھے کہ عہدیدار کو قتل کرنے جسے حال ہی میں بارہمولہ کی ضلعی جیل پر تعینات کیا گیا ہے جہاں عسکریت پسند سے علحدگی پسند قائد بننے والے مسرت عالم قید ہیں ۔ یہ انتخابی بدبختانہ واقعہ ہے کہ دہشت گردی پولیس کار کو نذرآتش کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے ۔

ڈائرکٹر جنرل محابس ایس کے مشرا نے کہا کہ انہوں نے کل ایک جائزہ اجلاس طلب کیا ہے تاکہ ارکان عملہ اور ان کے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ دوسرا واقعہ جس میں تین موٹر سیکل سوار نوجوان جموں میں ایک عالم دین کے شخصی محافظ کے آنکھوں میں مرچ کا سفوف ڈال کر اشیاء کو نذرآتش کرنے کے بعد اے کے 47رائفل لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے پیش آیا ہے ۔ پولیس کے بموجب دو مشتبہ افراد مسعود اور شاہد کو گرفتار کرلیا گیا اور تیسرے ملزم آصف کی جو رائفل کے ساتھ فرار ہوگیا تلاش جاری ہے ۔زخمی کانسٹبلس کو سرکاری میڈیکل کالج ہاسپٹل جموں میں شریک کیا گیا ہے ۔جنوبی کشمیر کے ایک گاؤں میں سلامتی دستہ کی فائرنگ کے بعد سے خوف کا ماحول برقرار ہے ۔  کل دیر رات ضلع کلگام کے نلو گاؤں میں فوج کے کیمپ کے نزدیک کچھ مشتبہ سرگرمیاں محسوس ہونے کے بعد فوج نے فائرنگ کی جس کے بعد وہاں خوف کا ماحول ہے ۔ اگرچہ اس فائرنگ پر کوئی جوابی فائرنگ نہیں ہوئی۔ اس کے بعدفوج نے دیر رات تک پورے گاؤں میں تلاشی مہم چلائی۔  انہوں نے بتایا کہ اس فائرنگ میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے ۔ فوج کی تلاشی مہم آج صبح بھی جاری رہی۔

TOPPOPULARRECENT