Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / ملازمین پولیس کا نکسلائٹس کی ناکہ بندی ختم کرنے کیمپ

ملازمین پولیس کا نکسلائٹس کی ناکہ بندی ختم کرنے کیمپ

نکسلائٹس تشدد سے قومی شاہراہ کی تعمیر و مرمت متاثر ‘ قبائلی تمدن تباہ ہونے کا غلط پروپگنڈہ
رائے پور ۔ 12فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) اپنی کثیر جہتی حکمت عملی کے ایک حصہ کے طور پر نکسلائٹس کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے چھتیس گڑھ پولیس نے ایک بیس کیمپ باغیوں کے مستحکم گڑھ ضلع بیجاپور میں قائم کیا ہے ‘ تاکہ قومی شاہراہ کی ازسرنو تعمیر کی نکسلائٹس کی جانب سے ناکہ بندی کا انسداد کیا جاسکے ۔ یہ سڑک پڑوسی ریاست تلنگانہ کو چھتیس گڑھ سے مربوط کرتی ہے ۔یہ کیمپ 8فبروری کو دریائے تارود پر قائم کیا گیا ہے جو بھدراکلی اور تارلہ گوڑہ کے درمیان بہتا ہے ۔ اس کیمپ کا مقصد خاص طور پر دریائے کے اوپر پُل تعمیر کرنا ہے تاکہ زیر تعمیر شاہراہ کی دفاعی اہمیت کے پیش نظر بھوپال پٹنم ۔ بھدرا کلی ۔ تارلہ گوڑہ روڈ کی حفاظت کی جاسکے ۔ یہ زیر تعمیر سڑک طویل مدتی بنیاد پر کافی فائدہ مند ثابت ہوگی ۔ سڑکوں سے ترقی میں اور دورافتادہ دیہاتوں کے انتظام میں مدد ملتی ہے جو ماؤسٹوں کے زیر اثر علاقہ میں واقع ہے ۔ بیجا پور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ایل دھرو نے کہا کہ  38کلومیٹر طویل علاقہ زیر تعمیر ہے اور یہ جگدل پور ۔ ورنگل قومی شاہراہ پر واقع ہے ‘ تعمیر کا کام بیجا پور سے جنوبی بستر میں 50کلومیٹر کے فاصلہ پر جاری ہے ۔حالانکہ یہ قومی شاہراہ کا ایک حصہ لیکن اس کی تعمیر ماؤسٹوں کے تشدد کی وجہ سے نہیں ہوسکی اور نہ ترقیاتی سرگرمیاں جاری رہ سکی ہیں ۔ یہ سڑک موسم برسات میں ناقابل عبور ہوجاتی ہے کیونکہ بارش کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوجاتی ہے اور اسے صرف موسم گرما میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی اسی صورت میں جب کہ اُس کی تعمیر ومرمت کی جائے ۔ 25اکٹوبر 2015ء کو تقریباً 37 گاڑیاں اور مشینیں اس سڑک کی تعمیر و مرمت کیلئے استعمال کی جارہی تھیں جنہیں مختلف مقامات پر انتہا پسندوں نے نذرآتش کردیا تھا ۔ علاوہ ازیں سڑک کی تعمیر میں مصروف 15موٹرکاریں اور مشینیں بھی تارلہ گوڑہ اور انارم کے درمیان گذشتہ ماہ نکسلائٹس نے نذرآتش کردی تھیں ۔ ماؤسٹوں کا پروپگنڈہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت قبائلی تمدن کو اور ان کے طرز زندگی کو مسخ کردے گی۔

TOPPOPULARRECENT