Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ملازمین کی تقسیم کا مسئلہ ، سکریٹریٹ میں کشیدگی

ملازمین کی تقسیم کا مسئلہ ، سکریٹریٹ میں کشیدگی

تقسیم کے عمل کو منصفانہ بنانے کی کوشش ، کمیٹی اجلاس کے التواء پر احتجاج
حیدرآباد۔/13 اپریل، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے ملازمین کی منصفانہ تقسیم کے عمل کی تکمیل کیلئے سینئر آئی اے ایس عہدیدار مسٹر کملاناتھن کی زیر قیادت تشکیل دی گئی کمیٹی کے آج سکریٹریٹ میں منعقد ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا جس کی وجہ سے آج سکریٹریٹ میں صورتحال کچھ دیر کیلئے کشیدہ ہوگئی۔ ملازمین کی تقسیم کے مسئلہ کو ملتوی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تلنگانہ ملازمین کی کثیر  تعداد نے زبردست احتجاج منظم کیا اور ڈی بلاک سکریٹری کے تیسرے فلور پر بڑے پیمانے پر ملازمین نے احتجاج منظم کیا کیونکہ سکریٹریٹ ملازمین کی تقسیم کیلئے تلنگانہ ملازمین  کی تمام تنظیمیں گزّتہ 18 ماہ سے سخت منتظر ہیں اور ملازمین کی اس تقسیم میں تلنگانہ ملازمین کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی ہو اس کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے تلنگانہ سکریٹریٹ میں صرف تلنگانہ ملازمین کو برقرار رکھنے کے مطالبہ سے آج کوئی بھی گریز نہیں کئے بلکہ تمام تلنگانہ ملازمین یونینوں اور اسوسی ایشنوں سے وابستہ قائدین نے اپنا سخت موقف اختیار کررکھا ہے۔ ریاستی نظم و نسق کا ایک اہم مرکز تصور کئے جانے والے سکریٹریٹ میں تمام سطحوں پر تلنگانہ ملازمین کو ہی خدمات کا موقع فراہم کرنے اور کسی نوعیت کی ناانصافی نہ ہونے کیلئے تمام احتیاطی اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ بصورت دیگر چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں تشکیل پائی ریاست تلنگانہ کو ہی زبردست نقصان پہونچنے کا قوی امکان پایا جارہا ہے۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں مسٹر کملاناتھن کمیٹی کا منعقدہ اجلاس کسی حد تک ہنگامہ آرائی و گڑبڑ کی نذڑ ہوگیا۔ کملاناتھن کے طرز عمل کے خلاف آندھرا پردیش ملازمین یونین قائدین نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا اور الزام عائد کیاکہ کملاناتھن کمیٹی تلنگانہ حکومت کی تائید میں موافق اقدامات کررہی ہے اور کہا کہ محض اپنی میعاد میں توسیع کرنے کے مقصد سے ہی کملا ناتھن کمیٹی ملازمین کی تقسیم میں عمداً تاخیر کررہی ہے اور ملازمین کی تقسیم کے عمل کو جلد سے جلد مکمل کرنے کا متعدد مرتبہ مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس مطالبہ کو نظرانداز کردیا جارہا ہے۔ کملاناتھن کمیٹی کے اس رویہ کے خلاف مرکزی حکومت چیف منسٹرس اور چیف سکریٹریز سے ملاقات کرکے بہت جلد نمائندگی کئے جانے کا اے پی این جی اوز یونین قائدین نے اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT