Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / ملالہ یوسف زئی کی چھ سال بعد پاکستان واپسی ،چار روزہ قیام

ملالہ یوسف زئی کی چھ سال بعد پاکستان واپسی ،چار روزہ قیام

بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایرپورٹ پر سخت سیکوریٹی،
والدین کے ساتھ آمد
وزیراعظم عباسی اور فوجی سربراہ باجوہ سے ملاقات
عباسی نے ساوینر پیش کیا
’’میٹ ملالہ‘‘ پروگرام میں شرکت متوقع

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نوبل انعام پانے والی دنیا کی سب سے کم عمر ملالہ یوسف زئی آج چھ سال بعد پاکستان واپس آئیں۔ چھ سال قبل لڑکیوں کیلئے تعلیم کی وکالت کرنے والی ملالہ کو طالبان عسکریت پسندوں نے سر پر گولی ماری تھی جس کے بعد ملالہ کا زندہ بچنا محال تصور کیا جارہا تھا لیکن ’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ کے مصداق ملالہ کا برطانیہ میں کامیاب علاج ہوا۔ ملالہ آج 20 سال کی ہے جو انسانی حقوق کی ایک زبردست علمبردار بن چکی ہے۔ پاکستان کے وادی سوات میں طالبان نے 2012ء میں ملالہ پر صرف اس لئے حملہ کیا تھا کہ اس نے لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کی تھی۔ اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ملالہ اپنے والدین کے ساتھ پہنچیں جہاں اس وقت سخت سیکوریٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ملالہ شلوار قمیض اور دوپٹہ زیب تن کئے ہوئے تھی اور مسکرا رہی تھی۔ ایرپورٹ آمد پر وہ انتہائی خوش نظر آرہی تھی جہاں ہر ایک نے اس کا استقبال کیا۔ سیکوریٹی کی وجوہات پر ملالہ کے پاکستان آمد اور قیام کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے جبکہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہیکہ ملالہ پاکستان میں صرف چار روز قیام کرے گی۔ ملالہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جہاں عباسی نے انہیں ایک ساوینر پیش کیا۔ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی ملالہ کے پروگرام میں شامل ہے۔ ملالہ کے ساتھ ’’ملالہ فنڈ‘‘ کے سی ای او بھی پاکستان آئے ہیں جہاں توقع ہیکہ ملالہ ’’میٹ دی ملالہ‘‘ پروگرام میں بھی شرکت کریں گی۔ البتہ یہ معلوم نہیں ہوا ہیکہ وہ اپنے آبائی مقام سوات بھی جائیں گی یا نہیں جہاں اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام گزارے اور وہیں اکٹوبر 2012ء میں اس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اسکول سے واپس آرہی تھی۔ اس وقت ملالہ کی عمر صرف 14 سال تھی۔ شدید زخمی حالت میں ملالہ کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ایک فوجی ہاسپٹل سے دوسرے فوجی ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے ’’قصداً طبی طور پر غشی کے حالت میں کردیا‘‘ تاکہ اسے فوری طور پر علاج کیلئے برطانیہ منتقل کیا جاسکے۔ طالبان نے جو لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے سخت مخالف تھے، انہوں نے پاکستان میں سینکڑوں اسکولوں کو تباہ و برباد کردیا۔

TOPPOPULARRECENT