Saturday , December 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / ملبورن میں آج تیسرا ونڈے ، دھونی کیلئے تخت یا تختہ جیسی صورتحال

ملبورن میں آج تیسرا ونڈے ، دھونی کیلئے تخت یا تختہ جیسی صورتحال

Players prepare to walk onto the field prior to the start of the one-day international cricket match between India and Australia in Perth on January 12, 2016. AFP PHOTO / Greg WOOD --IMAGE RESTRICTED TO EDITORIAL USE NO COMMERCIAL USE-- / AFP / GREG WOOD (Photo credit should read GREG WOOD/AFP/Getty Images)

پرتھ اور برسبین میں لگاتار دو ناکامیوں کے بعد ہندوستانی ٹیم کیلئے ملبورن میں کامیابی ضروری

ملبورن ۔ 16 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کے خلاف لگاتار دو ونڈے میچوں میں بدترین شکست کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہندوستانی ٹیم اب ’’کرو یا مرو ‘‘ جیسی صورتحال میں پہونچ گئی ہے ۔ جس کی ناقص و کمزور بولنگ ابتدائی دو میچوں میں پوری طرح بے نقاب ہوگئی اور وہ کل یہاں کھیلے جانے والے تیسرے میچ میں حریف آسٹریلیا کو شکست دینے کیلئے اپنے بیٹسمینوں پر انحصار کررہی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا کی کامیابی کے لئے زائد از 300 رنز کا ہدف دینے کے باوجود پہلے دونوں میچوں میں شکست سے دوچار ہوئی ہے جس کے بعد سخت تنقیدوں کے شکار کپتان مہندر سنگھ دھونی پر اس دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے کہ وہ اپنے کمزور اور ناقص بولرس کے بجائے بیٹسمین پر ہی زیادہ انحصار کرتے ہوئے کم سے کم تیسرے میچ میں ہندوستانی ٹیم کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔ ہندوستان کے لئے کل اپنی قسمت بدلنے کا آخری دن ہوگا ۔ اس میچ میں کامیابی کے ساتھ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کو فیصلہ کن موڑ بھی دیا جاسکتا ہے ۔ ورلڈ کپ کے گزشتہ سال یہاں کھیلے گئے میچوں کے بعد ہندوستانی ٹیم محض زمبابوے کے خلاف ایک رسمی کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اس کو چیلنج سے بھرپور دیگر دو ونڈے انٹرنیشنل مقابلوں میں شکست پر اکتفا کرنا پڑا تھا اور اس مرتبہ لگاتار تیسری شکست کے دہانے پر پہونچ چکے ہیں۔ گزشتہ سال سے ہونے والی ہر ایک شکست کے بعد دھونی کو ہٹانے کے مطالبے شدت اختیار کررہے ہیں۔ کل ملبورن مقابلے میں شکست کی صورت میں دھونی کا کپتان برقرار رہنا آسان نہیں رہے گا ۔ ایسی صورت میں بی سی سی آئی کو اس صورتحال پر کنٹرول کرنا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہوگا کہ دھونی کو کم سے کم ورلڈ ٹی ۔ 20 2016 ء تک محدود اوورکی سیریز کیلئے ہی کپتان برقرار رکھا جائے ۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ زمبابوے کے خلاف کامیابی کے موقف پر دھونی اس ٹیم میں شامل نہیں تھے اور ان کی واپسی کے بعد لگاتار دو مرتبہ شکست ہوئی ہے ۔ اس صورت میں دھونی کیلئے تخت یا تختہ ، جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور انھیں اپنے عہدہ پر برقرار رہنے کیلئے کل کچھ کر دکھانا ہی ہوگا ۔ دھونی اگرچہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں کہ بڑا اسکور اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں رکھتا جب تک بولرس بھی اپنی ٹیم کی موثر دفاع کریں لیکن یہ بھی ایک تلخ سچائی ہے کہ وہ ( بولرس) ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ چنانچہ دھونی اگر اپنے بیٹسمین سے 330-340 رنز کا اسکور بنانے کیلئے کہتے ہیں تو اُن کا کہنا یقینا کوئی مذاق یا لطیفہ نہیں ہوگا ۔ روہت شرما اور ویراٹ کوہلی فی الحال بہت خوب کھیل رہے ہیں اور اُنھیں مزید ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT