Friday , April 20 2018
Home / ہندوستان / ملبورن میں سالِ نو کے جشن میں دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام

ملبورن میں سالِ نو کے جشن میں دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام

ملبورن 28 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کی ملبورن پولیس نے اسلامک اسٹیٹ کے ایک حامی کے مبینہ دہشت گرد حملے کے منصوبے کو ناکام بنانے کے بعد کہا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ سے ہمدردی رکھنے والے ایک نوجوان ملبورن میں نئے سال کے جشن کے موقع پر کئی افراد کو ہلاک کرنے کے مقصد سے ایک بندوق خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ علی علی نے جو اپنے صومالیائی ماں باپ کے گھر آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا تھا پیر کو ملبورن کے نیم مضافاتی علاقہ میں ویری بی میں کئے گئے ایک دھاوے کے دوران گرفتار کرلیا گیا۔
اُس کو دہشت گرد حملے کی تیاری اور اس حملے کے لئے مواد جمع کرنے کے الزامات کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ضمانت کی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔ پولیس نے دعویٰ کیاکہ 20 سالہ علی علی نے القاعدہ کی طرف سے تیار کردہ ایک آن لائن گائیڈ بُک پر رسائی کے ذریعہ آتشیں اسلحہ کے استعمال اور دہشت گرد حملے کے طریقے سیکھ رہا تھا۔ وکٹوریہ پولیس کے ڈپٹی کمشنر سیشن پیٹن نے کہاکہ ’’ہم یہ الزام لگائیں گے کہ وہ نئے سال کے موقع پر فیڈریشن اسکوائر پر ممکنہ حد تک کئی افراد کو ہلاک کرنے کے لئے آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا تھا‘‘۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’یہ ہمارے لئے بے پناہ تشویش کا باعث ہے کہ تہوار کے موسم کے دوران جب لوگ جشن منانے میں مصروف ہوں گے اس موقع پر کوئی دہشت گرد حملے کی سازش کا سنگین خطرہ بھی لاحق رہے گا‘‘۔ فیڈریشن اسکوائر قلب شہر کے علاقہ میں واقع ہے جس کے روبرو سینٹ پال چرچ اور ایک مصروف ترین ریلوے اسٹیشن ہے۔ نئے سال کا جشن دیکھنے کے لئے یہ انتہائی مقبول ترین مقامات میں ایک سمجھا جاتا ہے جو 31 ڈسمبر جشن والوں سے کھچا کھچ بھرا رہے گا۔ پولیس نے کہا ہے کہ اُنھوں نے گزشتہ سال اسی مقام پر کرسمس کے موقع پر دہشت گرد حملہ کرنے کی ایک سازش کو ناکام بناتے ہوئے ایسے کئی افراد کو گرفتار کرلیا تھا جو اس مقام کو نشانہ بنانے کے لئے دھماکو اشیاء، چاقو اور بندوق استعمال کرنے کا منصوبہ تیار کئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر شین پیٹن نے کہاکہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنے والے علی علی پر اس سال کے اوائل سے خفیہ نظر رکھی گئی تھی وہ ایسے انتہا پسند گروپ کا حصہ تھا جس کی سرگرمیوں کی خفیہ نگرانی کی جارہی تھی۔ پیٹن نے کہاکہ ’’اگر یہ حملہ کیا جاتا تو اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔ یہ نوجوان اسلامک اسٹیٹ سے ہمدردی رکھتا تھا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT