Tuesday , May 22 2018
Home / مضامین / ملت کی ترقی کیلئے بیٹیوں کی تعلیم ضروری

ملت کی ترقی کیلئے بیٹیوں کی تعلیم ضروری

کینیڈا کی ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی کا انٹرویو

محمد ریاض احمد

ماں اگر تعلیمیافتہ نہ بھی ہو تو اس کے دل میں اپنی اولاد کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کی تڑپ ضرور ہوتی ہے ۔ ہر ماں چاہے امیر ہو یا غریب تعلیمیافتہ ہو یا غیرتعلیمیافتہ اُن کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اولاد کو زندگی کے ہر موڑ پر کامیابی و کامرانی حاصل ہو، ترقی و خوشحالی ان کے قدم چومے ، معاشرہ میں انھیں باعزت مقام و مرتبہ حاصل ہو ،وہ ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنیں اور معاشرہ کو اچھائیوں و نیکیوں کی دعوت اور برائیوں سے بچنے کی ترغیب دیں۔ قارئین آج آپ کی ملاقات ہم ایک ایسی ہی ماں کی بیٹی سے کروارہے ہیں جس نے عین جوانی میں بیوہ ہونے اور غربت کے باوجود اپنے بچوں کی تعلیم نظرانداز نہیں کی خود تعلیمیافتہ نہ تھیں لیکن قدرت نے اُس خاتون میں اولاد کی تربیت اُنھیں پڑھانے لکھانے کا جذبہ اور سلیقہ کوٹ کوٹ کر بھردیا تھا تب ہی تو اس کے 9 بچوں ( دو لڑکے اور 7 لڑکیوں ) نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ آج خوشحال اور کامیاب زندگی گذار رہے ہیں ۔ ہم بات کررہے ہیں کلثوم بیگم مرحومہ کی جنھوں نے غربت کے باوجود اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور انھیں اچھے انسان بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اﷲ عزوجل نے ان کی کوششوں کو قبول بھی کیا ۔ ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی ان ہی کی دختر ہیں ۔ وہ اپنے شوہر انجینئر محمد ذاکرالدین صدیقی کے ہمراہ تقریباً 45 برسوں سے کنیڈا میں مقیم ہیں اور ان کی تین بیٹیاں بھی کنیڈا میں ہی خوشحال اور کامیاب زندگی گذار رہی ہیں ۔ ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی کنیڈا میں کئی ایک سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں ۔ غریب و ضرورتمند طلبہ کو اسکالرشپس کی فراہمی ، کشمیر ، فلسطین اور دوسرے علاقوں میں امداد کی تقسیم اور نومسلم خواتین میں دعوت دین جیسی سرگرمیوں میں وہ بڑھ چڑھکر حصہ لیتی ہیں۔ کنیڈا میں فلاحی و خیراتی کاموں میں سرگرم تنظیم فی سبیل اﷲ سے بھی وہ وابستہ ہیں۔ سیاست ملت فنڈ ، فیض عام ٹرسٹ اور ہلپنگ ہینڈ کی جانب سے چلائے جارہے کپڑا بینک کیلئے وہ کنیڈا سے زنانی ، مردانی ، بچکانی ملبوسات ، طبی آلات بشمول بیڈس اور وہیل چیرس کے کنٹینرس روانہ کرتی ہیں۔ انھوں نے کنیڈا میں مقیم حیدرآبادی اور دوسرے شہروں و ملکوں کے مقیم باشندوں سے کپڑے و دیگر اشیاء اکٹھا کرکے حیدرآباد میں کپڑا بینک کے لئے دفتر سیاست روانہ کیا ۔ ان کے روانہ کردہ ایک کنٹینر کی کشمیر اور بہار کے سیلاب متاثرین میں تقسیم بھی عمل میں آئی ۔
ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی حیدرآباد آئی ہوئی ہیں اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے ان سے بات کی ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش پرانا شہر کے علاقہ بالسٹی کھیت دارالشفاء میں ہوئی جو حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں شعراء ، ادباء ، دانشوران قوم ، پیشہ ورانہ ماہرین اور اہل علم کا مسکن سمجھا جاتا رہاہے ۔ بچپن میں ہی ان کے سر سے والد کا سایہ اُٹھ گیا تھا اور ساری ذمہ داری والدہ پر آن پڑی ۔ 9 چھوٹے چھوٹے بچوں کی پرورش اور ان کی تربیت اگرچہ ایک مشکل کام تھا لیکن ان کی والدہ کلثوم بیگم نے یہ فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا اور والد کی کمی محسوس ہونے نہیں دی ۔ اپنے والد کے بارے میں ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ ان کے والد محمد مخدوم علی کا کم عمر میں انتقال ہوا ۔ وہ مکرم جاہ بہادر کے ڈرائیور تھے ۔ پرانا شہر کے باغ جہاں آراء میں واقع منہاج الشرفیہ اسکول سے ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی نے ایس ایس سی کیا اور ویمنس کالج کوٹھی سے پی یو سی ( انٹرمیڈیٹ) میں اعلیٰ نشانات سے کامیابی حاصل کرکے عثمانیہ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا ۔ عثمانیہ میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس 1968 ء بیاچ سے ان کا تعلق رہا ۔ ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی نے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں آئی مصیبتوں اور نشیب و فراز کا فخریہ انداز میں اظہار کیا لیکن وہ بار بار بارگاہِ خداوندی میں اظہارتشکر بجالارہی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ 1973 ء میں انجینئر محمد ذاکرالدین صدیقی سے اُن کی شادی ہوئی اور 1974 ء میں وہ اپنے شوہر کے ہمراہ کنیڈا منتقل ہوگئیں ۔ ان کی تینوں لڑکیاں کنیڈا میں پیدا ہوئیں ، وہیں پرورش پائی اور تعلیم حاصل کی ۔ ان لڑکیوں کی شادیاں بھی کنیڈا میں ہوئیں۔ بڑی دختر زیبا شاہین ڈاکٹر ہیں اور اپنا کلینک چلاتی ہیں۔ دوسری لڑکی ارم افشین بزنس اڈمنسٹریشن کی ڈگری رکھتی ہیں ۔ تیسری بیٹی سلمیٰ زرین صدیقی سائنسداں ہیں اور Molecular Biology میں تحقیق کرتی ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر صدیقی کا کہنا تھاکہ انھوں نے کینڈا میں 1977 ء تا 2012 ء فزیشن کی حیثیت سے پریکٹس کی اور اس دوران سماجی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں۔ کچھ عرصہ قبل عربک لینگویج میں ڈپلوما مکمل کرنے والی ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی نے بتایا کہ انھوں نے جب ایم بی بی ایس کیا تھا ان کے گروپ میں مسلم لڑکیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی اُس دور میں ایم بی بی ایس کی 30 فیصدنشستیں لڑکیوں کیلئے مختص کردی گئیں تھی انھیں سوشیل ورک یا سماجی کاموں سے بچپن سے ہی دلچسپی رہی۔ ضرورت مند وں کی مدد کرنے کا جذبہ کم عمری سے ہی ان میں بدرجہ اتم موجود تھا ۔ چنانچہ کنیڈا میں بھی انھوں نے خود کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ سماجی و ملی خدمات میں بھی مصروف رکھا اور وہاں مجلس خواتین قائم کی ۔ 1982 ء سے اس مجلس خواتین کے ذریعہ ہر ماہ درس و تفسیر اور اہم دینی موضوعات پر لکچرس کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ مجلس خواتین میں وہ دینی اُمور پر انگریزی میں اظہارخیال کرتی ہیںجس کے باعث گجراتی اور دوسری خواتین بالخصوص نومسلم خواتین کی کثیرتعداد وہاں آتی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مجلس خواتین میں نوجوان نسل ان کے مخاطب ہوتے ہیں ۔ ہرماہ کسی ایک عنوان پر وہ خطاب کرتی ہیں۔ اپنی لڑکیوں کو بھی وہ کبھی آب زم زم ، کبھی کھجور ، کبھی کلونجی وغیرہ کے بارے میں اسٹڈی کرکے اظہارخیال کرنے کی ترغیب دیتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی مساجد میں افطار کا اہتمام کروانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ افطار میں غیرمسلموں کی کثیرتعداد شریک ہوتی ہے ۔ 1985 ء سے UOIT (University of Antorio Institute of Technology) میں افطار کا اہتمام کروارہی ہیں۔ وہ جس علاقہ میں مقیم ہیں 1995 ء سے وہاں کی آبادی میں اچھا خاصہ اضافہ ہوا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ کنیڈا میں مسلمان اپنے زکوٰۃ کی رقم سے ضرورت مند مسلم طلبہ یا فارن اسٹوڈنٹس کیلئے اسکالرشپ کا انتظام کرتے ہیں۔ اس طرح زکوٰۃ کو بہترین استعمال میں لایا جاتا ہے ۔ شامی بچوں کی بھی مدد کی جاتی ہے ۔ فی سبیل اﷲ کے بارے میں استفسار پر ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی نے بتایا کہ یہ ایک فلاحی و خیراتی آرگنائزیشن ہے اور وہ اس کی رُکن ہیں۔ انھوں نے بتایا ’’اگر آپ کمیونٹی کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو فی سبیل اﷲ اس تجویز کا جائزہ لے کر آپ کو ہی اپنے طورپر وہ پراجکٹ پر عمل آوری کرنے کیلئے کہتی ہے ۔ یہ ایک غیرمنفعت بخش تنظیم ہے ۔ اس کے توسط سے ضرورت مند مسلم طلبہ میں اسکالرشپس اور بیرون ملک پریشان حال لوگوں کیلئے اشیاء ضروریہ ، ملبوسات ، ادویات اور طبی ساز و سامان روانہ کیا جاتا ہے ۔ اس سے کسٹمز کلیرنس میں آسانی ہوتی ہے ۔ فلسطینیوں کی بھی ممکنہ حد تک مدد کی جاتی ہے ۔ پاکستان میں یہ تنظیم بورویلس کی تنصیب عمل میں لارہی ہے اور کنویں کھدوارہی ہے‘‘ ۔
اس سوال پر کہ روزنامہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے رابطے میں کیسے آئیں؟
ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی نے بتایا کہ انھوں نے پہلے اپنی ایک بہن خورشید بیگم سے ربط پیدا کرتے ہوئے حیدرآباد کے غریب بسیتوں میں مستعملہ ملبوسات اور دوسری اشیاء تقسیم کرنے کاارادہ ظاہر کیا ۔ انھوں نے حامی بھرلی لیکن کام چونکہ بہت بڑا تھا اس لئے ان کے ماموں غلام حسین نے منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیرالدین علی خاں سے بات کی اس طرح سیاست ملت فنڈ، فیض عام ٹرسٹ اور ہلپنگ ہینڈ کی جانب سے چلائے جارہے کپڑا بینک کیلئے ملبوسات ، جوتے ، چپلیں اور طبی آلات ( ساز و سامان ) کنیڈا سے بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ تاحال کپڑوں اور دیگر ساز و سامان سے لدے چار کنٹینر س حیدرآباد بھیجے جاچکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیاست ملت فنڈ ، فیض عام ٹرسٹ اور ہلپنگ ہینڈ بڑی کامیابی سے کپڑا بینک چلارہے ہیں ۔ ہر روز 100 خاندان وہاں سے ملبوسات حاصل کرتے ہیں ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں ، سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ہیلپنگ ہینڈ کے سربراہ ڈاکٹر شوکت علی مرزا جس انداز میں کام کررہے ہیں وہ قابل ستائش ہے ۔ ان شخصیتوں کی دیانت داری اپنے کام کے تئیں سنجیدگی اور منصوبہ بندی و مقاصد مثالی اور قابل تقلید ہیں۔ انھوں نے ان شخصیتوں کے حق میں بارگاہ رب العزت میں دعا کی اور کہا کہ وہ کپڑا بنک کی خدمات سے کافی متاثر ہوئیں اس کی مثال شائد سارے ہندوستان میں نہیں ملے گی ۔انھوں نے پولیس میں مسلم نوجوانوں کی بھرتی ، فوج اور دیگر محکمہ جات میں ان کے تقررات کے لئے تربیت کی فراہمی ، نوجوان لڑکے لڑکیوں کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے اور انھیں انٹرویو کے قابل بنانے کیلئے شخصیت سازی سے متعلق سیاست کے پروگرامس کی بھی ستائش کی ۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں نونہالان ملت کے اسکالرشپس فارمس مفت داخل کرنے کے عمل پر خوشنودی کا اظہار کیا، انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ خود ملت فنڈ سے بھی ہونہار طلبہ کو اسکالرشپس دی جاتی ہیں، لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین جیسے کام کے ذریعہ بھی سیاست نے ساری دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے ۔ دنیا بھر میں مقیم حیدرآبادی اور ہندوستانی مسلمان روزنامہ سیاست پر غیرمعمولی بھروسہ کرتے ہیں ۔ اس کی ملی و قومی خدمات کااعتراف کرتے ہیں۔ روزنامہ سیاست کے توسط سے سماج کے غریب اور متمول طبقہ کیلئے اپنے پیام میں ڈاکٹر عسکر یاسمین صدیقی نے کہاکہ غریب خاندانوں اور ان کے بچوں کو غربت سے گھبرانے یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ زندگی میں اچھے اور برے دن آتے اور جاتے ہیں کوئی بھی انسان ہمیشہ ایک حالت میں نہیں رہتا ۔ غربت میں بھی ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے اور جو بھی سہولتیں دستیاب ہیں ان سے حتی المقدور استفادہ کریں اور یاد رکھیں کہ اگر آج آپ کسی سے لے رہے ہیں تو مستقبل میں دینے کی نیت رکھیں اور بطور خاص تعلیم پر محنت کریں ۔ دیانتداری اپنائیں ۔ حکومت نے جو اسکیمات متعارف کروائی ان سے بھرپور فوائد حاصل کریں۔ انھوں نے خاص طورپر مسلم ماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہہ مرکوز کریں۔ لڑکیوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھائیں ہمارے لئے اُم المؤمنین حضرت بی بی خدیجہؓ اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روشن مثالیں سامنے ہیں ۔ حضرت بی بی خدیجہؓ بہت بڑی تاجرہ تھیں اور حضرت عائشہ صدیقہ کے علم کا یہ حال تھا کہ صحابہؓ آپ سے فقہ کے مسائل دریافت کرتے تھے ۔ بہرحال خالق کائنات نے ہر انسان کو خوبیوں کے ساتھ پیدا کیا ہر فرد ملت کی قسمت کاستارا ہے اور لڑکیوں کی تعلیم ساری قوم کی تعلیم ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT